شوہر سے علیحدگی کا شرعی حکم
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 664

    سوال

    عرض یہ ہے کہ میری میرے شوہر سے چودہ سال سے علیحدگی ہے کوئی ذہنی یا جسمانی ہم آہنگی نہیں ہے، نہ خرچہ وغیرہ کا معاملہ ہے ۔اب ایک لڑکا ہے جو اور چھ سال پہلے میری زندگی میں آیا اور مجھے چاہتا ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟

    سائلہ: نصرت مجید :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہو جیسا سوال میں ذکر کیا گیا کہ مرد کئی سال سے رابطہ میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی خرچہ دیتا ہے تو اس صورت میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ مرد سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرے ،اگر مردعورت کو خلع یا طلاق دے دے تو عورت عدت گزارنے کے بعد کہیں ااور جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔لیکن جب تک یہ مرد خود طلاق یا خلع نہ دے نکاح قائم رہے گا اور یہ بدستور اسکی بیوی رہے گی ۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :(وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا بِعَجْزِهِ عَنْهَا) بِأَنْوَاعِهَا الثَّلَاثَةِ (وَلَا بِعَدَمِ إيفَائِهِ) لَوْ غَائِبًا (حَقَّهَا وَلَوْ مُوسِرًا)ترجمہ:اور نفقہ سے عاجز آنے یا (غائب ہونے کی صورت میں )عورت کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں میاں بیوی کے مابین جدائی نہیں کی جائیگی ، اگر چہ شوہر صاحب حیثیت ہو۔

    اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں:(قَوْلُهُ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا بِعَجْزِهِ عَنْهَا) أَيْ غَائِبًا كَانَ أَوْ حَاضِرًا، ترجمہ: شوہر موجود ہو یا غائب ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختاروحاشیہ ابن عابدین ،کتاب النکاح ،مَطْلَبٌ فِي فَسْخِ النِّكَاحِ بِالْعَجْزِ عَنْ النَّفَقَةِ وَبِالْغَيْبَةِ،،جلد 3 ص590)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت خواہ عسرت کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح ،جلد 12 ص 511،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:07 شعبان المعظم 1440 ھ/13 اپریل 2019 ء