سوال
ایک عورت ہے اور اسکا شوہر بیمار ہے مگر وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنی بیمار ماں کی خدمت کرنے انکے گھر ہر بار شوہر کی اجازت کے بغیر چلی جاتی ہے جبکہ ماں کی خدمت کرنے کیلئے اسکے پانچ بیٹے اور بہو موجود ہیں ایسی صورت میں شریعت کیا کہتی ہے کیا عورت پر ماں کی خدمت ضروری ہے یا شوہر کی؟
سائل: محمد صدیق :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عورت پر شوہر کی اطاعت واجب ہے اورشوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے اسکی اجازت کے بغیر گھر سے باہرنکلنا درست نہیں بلکہ احادیث میں اس پر وعید آئی ہے اورعورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہےاسے چاہئے کہ وہ اسکی خدمت کرےاور اپنی والدہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے اپنے شوہر کی حق تلفی اور نافرمانی نہ کرے۔ بالخصوص اس وقت کہ اسکی خدمت کیلئے دیگر افراد موجود ہوں اوراگروہ لوگ اسکی خدمت نہیں کرتے تو عورت پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ اسکے ذمہ ماں کی خدمت لازم نہیں ہے،ہاں البتہ عورت ہفتہ میں ایک بار دن میں اپنے والدین کے گھر جاسکتی ہے لیکن شوہر کی اجازت کے بغیر رات نہیں گزار سکتی ۔
نافرمان بیوی کے بارے میں قرآن پاک کا حکم:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا ترجمہ کنزالایمان:اورجن عورتوں کی نافرمانی کاتمہیں اندیشہ ہوتوانہیں سمجھاؤاوران سےالگ سوؤاوراُنہیں ماروپھراگروہ تمہارےحکم میں آجائیں تواُن پرزیادتی کی کوئی راہ نہ چاہوبےشک اللہ بلندبڑاہے۔(النساء:34)
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر وعید:
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من حق الزَّوْج على الزَّوْجَة أَن لَا تَصُوم تَطَوّعا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِن فعلت جاعت وعطشت وَلَا يقبل مِنْهَا وَلَا تخرج من بَيتهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِن فعلت لعنتها مَلَائِكَة السَّمَاء وملائكة الرَّحْمَة وملائكة الْعَذَاب حَتَّى ترجع ترجمہ : بیوی پر شوہر کا یہ بھی حق ہے کہ اس کی اجازت کے بغیرنفلی روزہ نہ رکھے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تومحض بھوکی پیاسی رہی اوراس کا روزہ قبول نہ ہوگا۔ اوراسکی اجازت کے بغیر اپنے گھر سےبھی نہ نکلے،اگراس نےایساکیاتوواپس آنےتک اس پرزمین وآسمان اوررحمت وعذاب کے فرشتے لعنت بھیجتےہیں۔‘‘(الترغیب الترھیب،کتاب النکاح،باب ترغیب الزوج فی الوفائ…الخ ،الحدیث:2985،ج3،ص37 مطبوعہ بیروت)
عورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے:
حدیث مبارکہ میں ہے :سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں: سألت رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم: أيّ الناس أعظم حقّاً علی المرأۃ؟ قال: زوجھا، قلت: فأيّ الناس أعظم حقّاً علی الرجل؟ قال: أمّہ، رواہ البزار بسند حسن والحاکم۔ترجمہ: میں نےحضوراقدسﷺ سےعرض کی:عورت پرسب سےبڑا حق کس کا ہے ؟فرمایا:شوہرکا،میں نے عرض کی: اورمرد پر سب سے بڑا حق کس کاہے؟فرمایا:اسکی ماں کا۔بزارنےبسندِحسن اورحاکم نےاسے روایت کیا۔(المستدرک علی الصحیحین''، کتاب البرّ والصلۃ ، ج5، ص208، حدیث نمبر: 7326)
بلکہ شوہر کا حق اس قدر ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَوْ تَعْلَمْنَ حَقَّ أَزْوَاجِكُنَّ عَلَيْكُنَّ لَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ مِنْكُنَّ تَمْسَحُ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِ زَوْجِهَا بِنَحْرِ وَجْهِهَا۔ترجمہ:اے عورتو اگر تم اپنے اوپر اپنے شوہروں کے حقوق جانتیں تو تم میں سے ہر ایک شوہر کے قدموں کا غبار اپنے رخسار سے صاف کرتی۔‘‘( المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب النکاح ،باب ما حق الزوج علی المراۃ ،الحدیث: 17129،ج3،ص557 مطبوعہ بیروت)
اسی طرح نبی کریم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہے: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَاترجمہ:اگرمیں کسی کوسجدہ کرنےکاحکم دیتا توعورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنےشوہرکوسجدہ کرے۔(سننترمذی ،جلد3،ص457،رقم 1159 مطبوعہ بیروت۔)
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ عورت کسی صورت میں اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کرسکتی اور سب سے زیادہ عورت پر شوہر کا حق ہے لہذا ان تمام کاموں سے عورت اپنے آپ کو بچائے جس سے شوہر کی نافرمانی یا اسکی حق تلفی واقع ہوتی ہے بلکہ شوہر کے حقوق کی پاسداری اور اسکی اطاعت کرکے جنت جیسے انعام کی مستحق ہو چنانچہ حضرتِ سیدناعبد الرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ "ترجمہ: نبی کریم ﷺنے فرمایا،''عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اوراپنےشوہرکی اطاعت کرے تو اس سےکہاجائے گاکہ جنت کےجس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔'' (مسند احمدبن حنبل، مسند عبد الرحمن بن عوف ،رقم 1661، ج3، ص 199،مطبوعہ بیروت)
اسی طرح ترمذی شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے : حضرتِ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ ترجمہ: نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ'' جس عورت کے مرتے وقت اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی ۔'' (ترمذی، کتاب الرضاع ، باب فی حق الزوج ،رقم 1161، ج3، ص 458،مطبوعہ ،بیروت)
اور عورت اپنے والدین کے گھر ہفتہ میں ایک بار جا سکتی ہے جیسا کہ بہارشریعت میں ہے: عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی، دن ہی دن میں واپس آئے۔ (بہارشریعت، جلد2،حصہ 8،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تارئخ اجراء:11رجب المرجب، 1441 ھ/7 مارچ 2020 ء