شوہر بیٹا اور ماں باپ

    shohar beta aur maan baap

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1184

    سوال

    گزشتہ ماہ میری بیوی کا انتقال ہوا ہے ، ورثاء میں ایک 12 سالہ بیٹا اور میں (شوہر) ہوں ۔ بیوی کے والدین جہیز میں ملنے والے زیورات کا تقاضہ کررہے ہیں ۔کیا انکا یہ مطالبہ درست ہے ہم انہیں زیورات واپس دے دیں ؟قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    سائل:محمد علی افضل:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زیورات اور دیگر مالِ وراثت پر محض لڑکی کے والدین کا حق نہیں بلکہ سارا مالِ وراثت شوہر، بیٹا اور والدین کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا،جبکہ لڑکی کے بہن بھائیوں کو وراثت سے کچھ نہ ملے گا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 12 حصوں میں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے شوہر کو 3حصے ، والد اور والدہ کو دو،دو حصے، جبکہ بیٹے کو پانچ حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی:وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ.ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر 12)

    بیٹا مابقی سب لے لے گا کیونکہ وہ عصبہ بنفسہ ہے جیساکہ سراجی میں ہے :اما العصبہ بنفسہ وہم اربعۃ اصناف : جزء المیت، اعنی اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا (ملخصا)ترجمہ:عصبہ بنفسہ چار اقسام پر ہیں ان میں سے پہلا میت کا جزء یعنی وراثت کا سب سے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی اسکے بیٹے ہیں پھر اگر بیٹے نہ ہوں تو انکے بیٹے (یعنی پوتے)۔(السراجی فی المیراث باب العصبات ص 36 )

    موجودہ صورت حال میں میت کے بہن بھائیوں کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا۔السراجی فی المیراث میں ہے :وبنوا الاعیان کلہم یسقطون بالابن وابن الابن وان سفل ۔اورسگے بہن بھائی بیٹے اور پوتے کی وجہ سے ساقط ہوجائیں گے۔ (السراجی فی المیراث فصل احوال الاخوات لاب ص 27)

    فائدہ : جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 12 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 محرم الحرام 1443 ھ/10 اگست 2021 ء