warasat ka masla gyarah behan bhai
سوال
ہمارے والد صاحب کا تین پورشن کا ایک مکان تھا، والد صاحب کے انتقال کے بعد والدہ نے تینوں بھائیوں کو الگ الگ پورشن دے دیا اور کہا کہ جو بھی بھائی مکان فروخت کرے گا تو اس میں سے بہنوں کو حصہ دے گا، پھر والدہ (سلمٰی بیگم) کا انتقال ہوگیا۔ ہم کل 11 بہن بھائی ہیں ، 8 بہنیں (نسیم، پروین،شمیم،یاسمین،فرحین، نازنین، شاہین، حمیرا)اور 3 بھائی(یامین، اسلم ،اکرم)۔ جس میں سے ایک بہن (فرحین) کا والد کے بعد اوروالدہ سے پہلے انتقال ہوگیا، اسکے ورثاء میں شوہر(وہاب الدین) 4 بیٹے(عامر، عمران، ارسلان، فیضان) اور 3 بیٹیاں (غزالہ، سونیا،امبرین)ہیں۔بعد ازاں انکے شوہر (وہاب الدین)کا بھی انتقال ہوگیا شوہر کے والدین بھی پہلے وفات پاچکے۔ بعد ازاں والدہ(سلمٰی بیگم) کا انتقال ہوا۔ پھر ایک بھائی (یامین) کا انتقال ہوا،انکے ورثاء میں ایک بیوی (ناصرہ) 4 بیٹیاں (صباحت، ردا،نارخ، حفظہ) اور 1 بیٹا(شارف) ہے ۔ انکی بیوی کا بھی انتقال ہوگیا اور اسکے کے والدین بھی پہلے وفات پاچکے۔ اسکے بعد ایک بھائی (اکرم) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی(فرح) ہے اولاد نہیں ہے۔اب رہنمائی فرمائیں کہ وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی، ہر ایک کا حصہ بیان فرمادیں۔
سائلہ: مس اعجاز: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مورث کے انتقال کے فوراً بعد وراثت تقسیم کردینی چاہیے تا کہ کسی وارث کی حق تلفی نہ ہو ، تاہم اگر تمام ورثاء تقسیم کی تاخیر پر راضی ہوں تو تاخیر میں حرج نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ نے دیگر ورثاء کی رضامندی سے بھائیوں کو الگ الگ پورشن دے دیئےتو فبھا وگرنہ انکا یہ فیصلہ شرعاً درست نہیں یہ صراحتاً بیٹیوں کا حصہ بغیر ضرورت کے مؤخر کئے رکھنے کے زمرے میں ہے جس پر والدہ سمیت تمام بھائی جو ان مکانات مین رہائش پذیر ہیں گنہ گار ہونگے۔ پھر یہ کہنا کہ جو بھی بھائی مکان فروخت کرے گا تو اس میں سے حصہ دے دے گا مبہم بات ہے بھائی اگر ساری زندگی مکان نہ بیچیں تو بہنوں کا حصہ کون دے گا؟فی زمانہ بہنیں ضرورتمند ہونے کے باوجودمروتاً اور مجبوراً خاموش رہتی ہیں کہ حصے کا تقاضا کریں گی تو بھائیوں سے ساری زندگی کے لئے ہاتھ دھونا پڑے گا، حالانکہ یہ انکا وہ حصہ ہے جوخاص اللہ تعالٰی نے مقرر فرمایا ہے کوئی بھی شخص اس حصے کو ساقط نہیں کرسکتا ، یہاں نہ سہی اگلے جہاں ضرور اسکا حساب دینا پڑے گا۔ اللہ تعالٰی بالخصوص ہمارے معاشرے ان معاملات میں شرعی احکامات کی رعایت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب خلاصہ یہ ہے کہ ان تینوں مکانات میں تمام بہنوں کا بھی حصہ ہے اور بھائیوں پر لازم ہے کہ تینوں پورشنز کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے تمام بہنوں کو انکا شرعی حصہ فی الفور ادا کریں وگرنہ ضرور سخت گنہ گار وبروزِ حشر گرفتارِ عذاب ہونگے۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مکان کی کل ویلیو کو 6336 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ایک وارث کا حصہ درج ذیل ہے۔
نسیم:539 ، پروین:539 شمیم:539 ، یاسمین :539 نازنین:539 ، شاہین:539 حمیرا:539 ، اسلم:1078 ، عامر:60، عمران:60، ارسلان:60، فیضان:60 ، غزالہ :30
سونیا:30، امبرین:30، صباحت:154 ، ردا:154 ، نارخ:154 ، حفظہ:154 شارف:308 ، فرح:231
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔
ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے، قال اللہ تعالی :وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔
فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: تینوں پورشنز کی کل رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں (6336) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 شوال المکرم 1444 ھ/04 مئی 2023 ء