وراثت کا مسئلہ ایک بیوی تین بیٹیاں ایک بیٹا

    warasat ka masla ek biwi teen betiyan ek beta

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1363

    سوال

    ایک شخص (مشتاق )کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں ایک بیوی ،تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، مرحوم نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے لئے مال کی وصیت بھی کی ہے ۔ اسکی وراثت میں ایک مکان جسکی قیمت 25 لاکھ ہے، ایک دوکان جسکی قیمت 15 لاکھ، پونے تین تولہ سونا،اور 2 لاکھ 90 ہزار نقدی، اور دو گھڑیاں جن کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔ (رقم کی صورت میں 42 لاکھ 91 ہزار اور تقریبا پونے تین تولہ سونا جسکی قیمت بیچنے کے دن کے ریٹ کے اعتبار سے شامل ہوگی۔ )

    سائل:عبداللہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔

    السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 40 حصے کیے جائیں گے ۔ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    بیوی:5 ہر بیٹی کا الگ الگ حصہ: 7 بیٹے کا حصہ: 14

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    مرحوم کا اپنی چھوٹی بیٹی کے لئے وصیت کرنا شرعی اعتبار سے کچھ حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ وارث کے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوتی مگر یہ کہ دیگر ورثاء اجازت دیں ۔ چناچہ وصیت کے بارے میں بدائع الصنائع میں ہے:(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337)

    عالمگیری میں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیکوارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)

    تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18 جمادی الثانی1444 ھ/12 جنوری 2023 ء