وراثت کا مسئلہ بہنیں ایک بھتیجا اور بھتیجیاں

    warasat ka masla behnein aik bhateeja aur bhateejiyan

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 1366

    سوال

    میری بہن رافعہ سعادت کا ابھی تین ماہ قبل انتقال ہوا۔ وہ شادی شدہ تھی اور انکے شوہر کا انتقال انکے انتقال کے دس سال قبل ہوگیا۔یوں ہی والدین کا انتقال بھی ان سے بہت پہلے ہوگیا تھا۔ہم پانچ بہنیں (رافعہ ، عامرہ، ذاکرہ ، ناصرہ اور شافعہ )اور تین بھائی(سعید، فرید، وحید) تھے تمام بھائیوں اور ایک بہن (شافعہ ) کا بھی انتقال رافعہ سعادت سے پہلے ہوگیا۔ اب اس وقت ہم صرف تین بہنیں (عامرہ، ذاکرہ اور ناصرہ)موجود ہیں ۔ ایک بھائی فرید بہن کے ساتھ انکے گھر میں رہتے رہے اور وہیں انکا انتقال ہوا۔ میری بہن کا ایک مکان تھا ہمیں اسکی وراثت کا معلوم کرنا ہے کیونکہ میری بھتیجیاں( جوکہ سب شادی شدہ ہیں ) یعنی فرید کی بیٹیاں کہتی ہیں کہ اس مکان میں ہمارا بھی حصہ ہے کیونکہ ہمارے والد اس مکان میں پھپو کے ساتھ رہتے رہے ہیں لہذا ہمارا بھی حصہ ہوگا ۔

    بھائیوں کی اولاد درج ذیل ہے ۔سعید کی دو بیٹیاں ، فرید کی تین بیٹیاں وحید کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا (عبداللہ )۔ شرعی اعتبار سے کس کس کا حصہ بنتا ہے اور کتنا ؟ رہنمائی فرمادیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔

    سائل:ناصرہ سعادت : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فرید کی بیٹیوں کا تقاضا درست نہیں ہے کہ انکے والد کا اس مکان میں رہناان کے لئے اصلاً موجبِ ارث نہیں ہے۔لہذا اس مکان سے فرید کی بیٹیوں کو کچھ نہ ملے گا البتہ میت(رافعہ ) کے بھائیوں کی مذکر اولاد ضرور حصہ پائے گی۔کما ھو المصرح فی عامۃ الکتب

    لہذا صورتِ مستفسرہ میں حکم شرعی یہ ہےکہ امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کےبعدرافعہ سعادت کی وراثت کے کل 9 حصص ہونگے۔جس سے ہر بہن کو الگ الگ 2 حصے، اور بھتیجے (وحید کا بیٹا)کو 3 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،کہ اگر دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انکو دو ثلث 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۔ ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی ہے۔(النساء:10)

    سگی بہن کے حصہ کی بابت السراجی فی المیراث میں ہے :أمّا للأخَوات لأبٍ وأُمٍّ فأحْوَال خَمْس: النِصْف للواحدة، والثُلُثانِ للاثنتَينِ فصاعِدة،ومع الأخ لأبٍ وأُمٍّ للذَكَر مِثْل حظّ الأنثيَينِ يَصِرْنَ به عَصَبةترجمہ:بہرحال سگی بہن تو اسکے پانچ احوال ہیں:ایک بہن ہو تو نصف حصہ ہوگا،اور دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو دو تہائی حصہ ہوگا۔اور سگے بھائی کے ساتھ للذکر مثل حظ الانثیین (لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کی مثل ہے)کے تحت عصبہ ہوگی۔ ( السراجی فی المیراث ،ص39مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا عصبہ بنے گا: أولاهم بالميراث عند عدَم جزء الميِّت وأصله جزءُ أبيه) أي: جزء أبي الميِّت (أي: الإخْوَة) لأبٍ وأمٍّ أو لأبٍ (ثُمّ) أي: وعند عدَم الإخَوة (بَنوهم) أي: بنوا الإخْوَة)وان سفلوا کبنی بنی الاخوۃ۔ترجمہ:میت کی فروع(بیٹا ،پوتا وغیرہ)اور اصول (باپ،دادا ،وغیرہ)کی عدم موجودگی میں وراثت کے حقدار میت کےوالد کی فروع (میت کا سگا اور باپ شریک بھائی )ہوگا ۔پھر بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا وراثت کا حقدار ہوگا۔اسی طرح نیچے تک جیساکہ بھائی کے بیٹوں کے بیٹے۔(السراجية مع شرحه القمرية، جلد:1، ص:30،مکتبہ المدینہ کراتشی)

    اسیمیں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    بھتیجے کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ بھتیجے انہیں عصبہ نہیں بناتے کہ انہیں بھتیجوں کے ساتھ مل کر ان کے حصہ کا نصف ملے۔چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا سکتے۔ علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپر

    ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 ص 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فائدہ:رافعہ سعادت کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کاریہ ہے کہ کل رقم کو مبلغ یعنی 9 پر تقسیم(Divide) کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب (Multiply)دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 ربیع الثانی 1443 ھ/17 نومبر2021 ء