warasat ka masla do batan
سوال
ہمارے والد (عبدالغفار) کے دومکان تھے جس میں سے ایک انہوں نے والدہ کو حق مہر میں دے دیا تھا ۔ اور دوسرا مکان ہم دو بھائیوں(حامد و عابد ) کے نام کردیا ، لیکن ہم نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا ۔ والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے ، انتقال کے وقت ورثاء میں انکی زوجہ (رشیدہ بیگم)مجھ سمیت چھ بیٹے(عبدالمجید، عبدالحمید، سعید صدیقی، حامد حسین، عابد، زاہد) اور تین بیٹیاں (عشرت، منور، روبی)تھی۔ ایک کنواری بیٹی کا انکی زندگی میں بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ بعد ازاں ایک بیٹے (عبدالحمید) کا انتقال ہوگیاجسکی ایک بیوی(نسیم) دو بیٹے(شاہ زیب،اذن) دو بیٹیاں(شیزہ، ونیزہ) ہیں۔
سوال یہ ہے کہ والد صاحب نے جو مکان والدہ کو حق مہر میں دیا وہ وراثت میں تقسیم ہوگا یا نہیں ؟ نیز یہ کہ جو مکان ہمیں دیا اسکا کیا حکم ہے، وراثت میں تقسیم ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کس طرح ہر ایک کاحصہ رقم کی صورت میں بتادیں اس مکان کی قیمت 9 کروڑ روپے ہے۔
سائل:حامد صدیقی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذکر کیا گیاتو حکمِ شرع کی تفصیل درج ذیل ہے:
1: جو مکان عبدالغفار نے اپنی زوجہ (رشیدہ بیگم ) کو بعوض حق مہر دے دیا وہ خالصتا ان کا ہی ہے اس میں کسی وارث کا کوئی حصہ نہیں۔ اور تادمِ حیات کسی وارث کو حصہ کا تقاضا بھی جائز نہیں ہے ، الا یہ کہ وہ خود زندگی میں تمام اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہیں تو ممانعت نہیں۔
2: دوسرا مکان تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔(جسکی تفصیل آگے آرہی ہے)کیونکہ مکان وغیرہ کسی کے نام کرنا حکمِ ھبہ رکھتا ہے اور ھبہ میں قبضہ کاملہ شرط ہے ، بغیر قبضہ کاملہ کے ھبہ تام نہیں ہوتا ۔جب اس مکان پر قبضہ نہ ہوا تو یہ مکان خاص ملکِ والد قرار پاکر ان کے ورثاء میں بشمول ان دونوں بھائیوں کے بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مکان کو 8640 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے۔
رشیدہ:1248، عبدالمجید:1008، سعید:1008، حامد:1008، عابد:1008، زاہد:1008، عشرت:504، منور:504، روبی:504، نسیم:126، شاہزیب:238، اذن:238، شیزہ:119 ، ونیزہ:119
رقم کی صورت میں ہر ایک کا حصہ:
رشیدہ: =/13000000 عبدالمجید:10500000/= سعید:10500000/= حامد:10500000/= عابد:10500000/= زاہد:10500000/=
عشرت: 5250000/= منور: 5250000/= روبی: 5250000/= نسیم:1312500/= شاہ زیب: 2479167/= اذن : 2479167/= شیزہ: /=1239583
ونیزہ: /=1239583
ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاولنورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی :والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح۔ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الھبہ جلد 3 ص 222)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء : آیت نمبر 11)
ماں کا حصہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالٰی ہے: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : ماں باپ میں سے ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو۔
( ایضا)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07 ربیع الاول 1443 ھ/14 اکتوبر 2021 ء