سوال
ہم دو پارٹنرز نے مل کر ایک IT انسٹیٹیوٹ کھولا تھا۔طے یہ ہوا تھا کہ دونوں کام کریں گے اور دونوں 5 پانچ پانچ لاکھ انویسٹ کریں گے۔اب ہمیں پارٹنر شپ ختم کرنی ہے۔مجھے اپنا کام اسی جگہ کرنا ہے لیکن اسکے ساتھ نہیں کرنا۔دوسرا پارٹنر کہہ رہا ہے کہ مجھے میرے پورے پیسے واپس کردو اور اس انسٹیٹیوٹ کا نام بھی میں خود استعمال کروں گا۔میں نے اب تک دن رات کام کرکے 3 لاکھاور اس نے برائے نام کام کیا (کہ محض سادھی ویب سائٹ بنادی)اور 5 لاکھ انویسٹ کئے ہیں۔میں نے پورے سال کا منافع بھی کام میں لگا دیا ہے۔
سائل: حماد ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرکت ختم کرنے میں دوسرے پارٹنر کی رضا مندی ضروری نہیں،البتہ اس بات کا علم ہونا لازم ہے۔
شرکت (پارٹنر شپ)ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے منافع سے قرضے ادا کئے جائیں،اسکے بعد تمام کاروباری اخراجات منہا ہونگے،اسی طرح کاروبار میں نقصان ہوا تو اسے بھی پورا کیا جائے گا۔بعد ازاں مشترکہ سرمایہ سے خریدا جانے والے سامان یا انسٹیٹیوٹ کے نام کی قیمت لگا کر ہر ایک نفع اپنی انویسٹمنٹ کے مطابق تقسیم کرلیں ۔چاہے تو ہر ایک شریک اپنے موجود سرمایہ کی رقم کے بقدر سامان لے لے یا دوسرا فریق باہمی رضا مندی سے سامان یا انسٹیٹیوٹ کا نام اپنے پاس رکھ کر نقد رقم پہلے فریق کو دے دے، دونوں صورتیں درست ہیں۔اگرسرمایہ ہاتھ میں نہ ہو بلکہ لوگوں سے وصول کرنا ہوتو ایک فریق اس بات کا پابندنہیں کہ دوسرے فریق کو رقم اپنی جیب سے ادا کرے، بلکہ جیسے جیسے رقم آتی رہے گی دونوں فریق اپنا حصہ اس سے لیتے رہیں گے۔
یہاں نفع طے کی گئی فیصد کے مطابق نہیں بلکہ راس المال (انویسٹمنٹ ) کے مطابق تقسیم ہوگا کیونکہ دوسرے فریق کا 5 لاکھ کے بجائے 3 لاکھ سرمایہ دینا طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی وجہ سے شرکت کو فاسد کرتا ہے اور شرکت فاسدہ میں نفع کی تقسیم سرمایہ کے مطابق ہوتی ہے۔
دوسرے شریک کا کہنا کہ میری پوری انویسٹمنٹ واپس دو اور انسٹیٹیوٹ کا نام بھی میں رکھوں گا درست نہیں۔کیونکہ شراکت داری میں انویسٹمنٹ واپسی وصول کرنے کیلئے نہیں لگائی جاتی بلکہ اسکے ذریعے منافع کمانے کیلئے لگائی جاتی ہےجو کہ انہیں ادا کئے جائیں گے۔باقی رہا انسٹیٹیوٹ کا نام تو وہ سرمایہ کی مثل دونوں میں مشترک ہے۔لہذا دوسرے شریک نام استعمال کرنا چاہیں تو رضامندی کے ساتھ اس کی مارکیٹ ویلیو لگواکر آدھی رقم اپنے شریک کو ادا کرکے نام خرید لیں جسے ’’حق کی بیع ‘‘سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
نام رجسٹریشن ایک قانونی حق ہےاور یہ ہمارے عرف و رواج میں قیمتی مال شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا اس رجسٹرڈ حق کو مروجہ عرف کی بناء پر اموال کے حکم میں اس کی بیع کو جائز قرار دیا جائے گا،کیونکہ احکام شرع میں بہرحال عرف معتبر ہے۔اگر دوسرے لوگ ایک رجسٹرڈ نام کااستعمال کریں توکاروباری اعتبارسے یہ بہت بڑا غرر اور خدع ہے اور خریداروں کے ساتھ دھوکہ ہے اور شرعی ضابطہ ہے کہ ایساکوئی بھی کام نہ کیاجائے جودوسروں کے لئے دھوکہ دہی کاباعث ہو،اس لئے اگر کوئی شخص نام یاتجارتی نشانات کو اپنے حق میں محفوظ کرالیتاہے،تویہ عین مطابقِ شرع ہے،اور دوسرے شخص کا اس کو استعمال کرنا دھوکہ ہونے کی وجہ سے جائزنہیں۔
آج کل حقوق اور منافع کی بیع کی متعدد صورتیں رائج ہیں،مثلاً: کاپی رائٹ یعنی حق تالیف،رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کی بیع،فضاکی بیع (فلیٹ بکنگ)،تجارتی لائسنس کے موقع سے استفادہ کرنا،حق اجارہ کی بیع جس کو پگڑی سے تعبیر کیاجاتاہے۔
دلائل و جزئیات:
شرکت ختم کرنے کیلئے دوسرے شریک کو اطلاع ضروری ہے،مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:"تَنْفَسِخُ الشَّرِكَةُ بِفَسْخِ أَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ ، وَلَكِنْ يُشْتَرَطُ أَنْ يَعْلَمَ الْآخَرُ بِفَسْخِهِ ، وَلَا تَنْفَسِخُ الشَّرِكَةُ مَا لَمْ يَعْلَمْ الْآخَرُ بِفَسْخِ الشَّرِيكِ.".ترجمہ:کسی ایک شریک کے فسخ کرنے سے شرکت فسخ ہو جائے گی مگر شرط یہ ہے کہ دوسرے شریک کو علم ہو جائے، اس لیے شرکت اس وقت تک فسخ نہیں سمجھی جائے گی جب تک کہ دوسرے شریک کو بھی علم و اطلاع نہ ہو جائے۔(مجلۃ الاحکام العدلیۃ،1/260،المادۃ،نور محمد کتب خانہ کراچی)
نفع کا استحقاق عقد میں طے کی گئی شرائط کے اعتبار سے ہے بالفعل عمل کے اعتبار سے نہیں،مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:"الِاسْتِحْقَاقُ لِلرِّبْحِ إنَّمَا يَكُونُ بِالنَّظَرِ إلَى الشَّرْطِ الَّذِي أُورِدَ فِي عَقْدِ الشَّرِكَةِ ، وَلَيْسَ بِالنَّظَرِ إلَى الْعَمَلِ الَّذِي عُمِلَ ، فَعَلَيْهِ لَوْ لَمْ يَعْمَلْ الشَّرِيكُ الْمَشْرُوطُ عَمَلُهُ فَيُعَدُّ كَأَنَّهُ عَمِلَ ، مَثَلًا إذَا شُرِطَ عَمَلُ الشَّرِيكَيْنِ الْمُشْتَرِكَيْنِ فِي شَرِكَةٍ صَحِيحَةٍ وَعَمِلَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ وَلَمْ يَعْمَلْ الْآخَرُ لِعُذْرٍ أَوْ لِغَيْرِ عُذْرٍ فَبِمَا أَنَّهُمَا وَكِيلَانِ لِبَعْضٍ فَبِعَمَلِ شَرِيكِهِ يُعَدُّ كَأَنَّهُ عَمِلَ أَيْضًا وَيُقْسَمُ الرِّبْحُ بَيْنَهُمَا عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي شَرَطَاهُ".ترجمہ:منافع میں استحقاق ، عقد شرکت میں مقررہ شرط کی بنیاد پر ہوتا ہے کئے جانے والے عمل کی بنیاد پر نہیں ہوتا، پس ایسا شریک جس کے عمل کی شرط کی گئی تھی تو اگر چہ اس نے کام نہ کیا ہے پھر بھی وہ عمل کرنے والا شمار ہوگا۔ مثلاً دو افراد نے شرکت صحیحہ قائم کی اور اس میں یہ شرط تھی کہ دونوں ہی کام کریں گے پھر اُن میں ایک شریک نے کام کیا لیکن شریک ثانی نے عذر کی وجہ سے یا بلا عذر ہی کام نہیں کیا تو منافع کو شرط کے مطابق اُن دونوں کے مابین تقسیم کیا جائے گا اس لئے کے ان میں سے ہر ایک شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے، لہذا ایک شریک کا عمل کرنا دوسرے کا عمل کرنا شمار ہوگا ۔(مجلۃ الاحکام العدلیۃ،1/259،المادۃ:1349،نور محمد کتب خانہ کراچی)
شرکت فاسدہ میں نفع کی تقسیم سرمایہ کے مطابق ہوتی ہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَالرِّبْحُ فِي الشَّرِكَةِ الْفَاسِدَةِ بِقَدْرِ الْمَالِ، وَلَا عِبْرَةَ بِشَرْطِ الْفَضْلِ".ترجمہ:شرکت فاسدہ میں نفع سرمایہ کے مطابق تقسیم ہوگا اور سرایہ سے زائد طے کئے گئے نفع کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔(الدر المختار،کتاب الشرکۃ، فصل في الشركۃ الفاسدة، 4 / 326،دار الفکر)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"والعرف فی الشرع لہ اعتبار.. .لذا علیہ الحکم قد یدار".ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے.. .اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی،ص: 212)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:30شوال المکرم 1445 ھ/9مئی 2024ء