دعاء کی قبولیت میں رکاوٹ
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 467

    سوال

    عرض یہ ہے کہ ایک شخص اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام عبادات بجا لاتا ہے اور صدقہ و خیرات بھی کرتارہتا ہے لیکن جب اسے کوئی پریشانی آتی ہے تو وہ اس کے دور ہونے کی دعاء کرتا ہے ،مگرپریشانی ختم ہونے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ،اور یہ کہنا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ہی آزماتا ہے !جناب کیا تمام پریشانیاں اور تکالیف اسی کے لیئے ہے جو عبادت سے منہ نہیں پھیرتا اور اس کی اگر ضرورت ہو تو وہ اللہ کے حضور بیان کرتا ہے مگر دعا قبول نہیں ہوتی ؟دوسری طرف وہ شخص ہے جومکمل طور پر اللہ تعالی کا نافرمان ہے ،کوئی عبادت تک نہیں کرتا،لیکن پھر بھی تمام آسائشیں اسے مل رہی ہوتی ہیں آخر ایسا کیوں ہے ؟

    یہ کہنا کہ اس کے کوئی نیک عمل ہونگے جس کے صلے میں اسے یہ سب کچھ مل رہا ہے تو پھر نمازیں وغیرہ سب چھوڑ کر صرف نیک عمل کرنا شروع کردیتے ہیں شاید اس طرح تمام پریشانیاں ختم ہوجائیں .

    اور یہ کہنا کہ جو نمازیں نہیں پڑتا اور تمام آسائشیں اسے مل رہی ہیں تو اسے سب کچھ ددنیا میں مل جائے گا ،آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔

    جناب قبر کا حال تو مردہ جانے یا اوپر والی ذات جانے کہ اس کے ساتھ کیا حساب و کتاب ہورہا ہے ؟ہم تو اپنی آنکھوں سے دنیا میں دیکھیں گے اسی پر یقین ہونے لگے گا ،ہمارا ایمان کوئی پختہ تو ہے نہین اور شیطان مردود کی بھی پوری کوشش رہتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالی کی عبادت سے روکا جائے ۔

    آخر اللہ تعالی سے جو دعائیں کی جاتی ہیں وہ قبول کیوں نہیں ہوتی ؟اور میرا مشاہدہ ہے کہ جو نافرمان ہے وہی زیادہ پھلتے پھولتے ہیں اور والد بھی انہی کو نوازتا ہے !اور دوسری جانب جتنی بھی عبادت کرلو پریشانی آپ کا نصیب ہے۔

    محمد رضوان ،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے پہلے چند باتوں کو سمجھنا چاہیئے

    (1)دعاء کی فضیلت واہمیت:

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

    اَلدُّعَا ءُ سِلَاحُ الْمُؤمِنْ وَ عِمَادُالدِّیْن وَ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَلْاَرْض(المستخرج للحاکم ،کتاب الدعاء،ج:۱،ص:۶۶۹،رقم:۱۸۱۲،طبع:دارالکتب العلمیۃ )ترجمہ: دعا مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور آسمان وزمین کی روشنی ہے۔

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لَایَرُدُّ القَضَاء اِلَّا الدُّعَاءُ۔(المستخرج للحاکم ،کتاب الدعاءینفع،ج:۱،ص:۴۹۲، طبع:دارالفکر ،بیروت )ترجمہ:تقدیر(یعنی معلق) کسی چیز سے نہیں ٹلتی مگر دعا سے۔

    اور دوسری جگہ ہے کہ:

    لایغنی حذر من قدر،والدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل ان البلاء ینزل فیتلقاہ الدّعاء فیعتلجان الٰی یوم القیمۃ(المستخرج للحاکم ،کتاب الدعاء،باب ماجاء لایردالقضاء،ج:۱،ص:۴۹۳، طبع:دارالفکر ،بیروت )

    ترجمہ:تقدیر کے آگے احتیاط کی کچھ نہیں چلتی،اور دعا اس بلا سے جو اتر آئی اور جو ابھی نہیں اتری دونوں سے نفع دیتی ہے،اور بے شك بلا اترتی ہے دعا ا س سے جا ملتی ہے دونوں قیامت تك لڑتی رہتی ہیں۔

    (2)بیشک اللہ تعالی اپنے بندوں کی التجاؤں کو سنتا اور قبول فرماتاہے:

    جیساکہ رب تعالی کا فرمان ہے:وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرۃ:186)

    ترجمہ:اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارےتو انہیں چاہیے

    میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔

    اور فرمایا:وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن:60)

    ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بےشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔

    هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (المؤمن:65)ترجمہ:وہی زندہ ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اُسے پوجو (اسی طرح اسی سےہی دعاء کرو)نرے اُسی کے بندے ہوکر سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا رب ہے۔

    أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (النمل:62)ترجمہ:یا وہ جو لاچار کی سُنتا ہے جب اُسے پکارے اور دُور کردیتا ہے بُرائی۔

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے رویت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ(جامع الترمزی،فصل فی فضل التوبۃوالاستغفار ،ج:۵ص:۵۵۶، رقم:۳۵۵۶، طبع:شرکۃ مکتۃ ومطبعۃ مصطفی البابی،بیروت)بے شک اللہ جل وعلیٰ حیا ءاور کرم والا ہے جب اس کی جناب میں کوئی ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ ان کونامراد خالی لوٹاتے ہوئے حیا ء فرماتا ہے۔

    (3)دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹک کے اسباب:

    بعض دفعہ انسان کے اپنے اعمال اس کی دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں اور بندہ اس قابل نہیں رہتا کہ اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت حاصل ہو ،تو ایسی صورت میں دعاؤں کی قبولیت اللہ تعالی کی مشیت ومصلحت پر موقوف ہوتی ہے۔جیساکہ حدیث مبارکہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی

    اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :يَا أَيهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسلين فَقَالَ {يَا أَيهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالحا} وَقَالَ {يَا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رزقناكم} ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ سَفَرَهُ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ مَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ۔(المسند المستخرج علی صحیح مسلم لابی نعیم،باب الصدقۃ ووجوبہا، ج:۳،ص:۹۱،رقم:۲۲۷۰،طبع:دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

    ترجمہ:اے لوگو!اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ کے علاوہ کو قبول نہیں کرتا،اور بیشک اللہ تعالی نے مؤ منین کو بھی اسی کا حکم دیا جسکا اپنے رسولوں کو دیا ، تو فرمایا:‘‘اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو ’’(المؤمنین:۵۲)اور فرمایا:‘‘اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو’’(البقرۃ :۱۷۲)پھر آپ ﷺنے اس شخص کا ذکر فرمایا جو ایک لمبے سفر پر ہو اور اس کے بال بکھرے اور گرد آلود (یعنی لمبے سفر کی کلفتوں کی وجہ سے)اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاکر عرض گزار ہو اے میرے رب!جبکہ اس کا کھانا ،اس کاپینا ، اس کا پہناواہ اور اس کی غذا حرام کی ہو تو اس کی دعاءکیسے قبول کی جائے گی؟؟؟۔

    اسی طرح دعاکی عدم قبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    ‘‘يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يُعْجَلْ. فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي’’(المؤطا للامام المالک ،ماجاءفی الدعاء ،ج:۲،ص:۲۹۸،رقم:۲۳۶،طبع:مؤسسۃ زاید بن سلطان ،ابو ظبی)

    ترجمہ:تم میں سے ہر ایک کی دعاء قبول کی جائے گی جب تک جلدی نہ کرے ،کہ وہ یوں کہے کہ میں نے دعا کی !پر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔۔۔

    (4)دعاء کی قبولیت کے درجات:

    جس شخص میں مذکورہ برائیاں نہیں پائی جائے تو اس کی دعاء ہر حال میں قبول ہوتی ہے لیکن قبولیت کے مختلف درجات ہیں جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَه ُ فِالْآخِرَةِ ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا " قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْثَرُ"(مسند احمدبن حنبل ،مسند ابوسعید خدری ،ج:۱۷، ص:۲۱۳، رقم: ۱۱۱۳۳ ، طبع:مؤسسۃالرسالۃ)

    ترجمہ:کوئی بھی مسلمان ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے بدلے اپنے بندے کو تین چیزوں میں سے ایک چیز عطا کرتا ہے یا تو اس کی دعا کو جلد قبول کرلیتا ہے، یا اس دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا دیتا ہے،یا اس جیسی برائی کو اس سے دور کردیتا ہے، صحابہ کرام نے کہا پھر تو ہم زیادہ دعائیں کریں گے، آپﷺنے فرمایا اللہ کا فضل بھی بہت زیادہ ہے۔‘‘

    (5)دعاء کافر کی بھی قبول ہوتی ہے :

    دنیا میں کفار کی بھی بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں جب وہ کسی مصیبت میں پھنس کر دعا کرتے تھے رب انہیں نجات دے دیتا ہے جیساکہ رب تعالی کا فرمان ہے :

    قُلْ مَنْ يُنَجِّيكُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَئِنْ أَنْجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ () قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ (63،64)

    ترجمہ:تم فرماؤ وہ کو ن ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گڑگڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے()تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بے چینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو ۔

    جب شیطان نے بھی اللہ تعالی سے دعاء کی تو اس کی بھی دعاء قبول کی گئی ،جیساکہ فرمان رب ذوالجلال ہے :قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ () قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ(الاعراف:13،14)

    ترجمہ:بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں ،فرمایا تجھے مہلت ہے ۔

    (6)مصلحت کی وجہ سے دعا کی عدم قبولیت اور قبولیت میں تاخیر:

    حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ، حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي: أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا۔(صحیح مسلم ،باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض،ج:۴،ص:۲۲۱۶،رقم:۲۸۹۰،طبع:داراحیاء التراث،بیروت)

    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عالیہ سے آئے(عالیہ وہ گاؤں جو مدینہ کے باہر ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی معاویہ کی مسجد پر سے گزرے، اس میں گئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی دیر تک اپنے پروردگار سے دعا کی پھر ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں لیکن اس نے دو دعائیں قبول فرمائیں اور ایک کو قبول نہیں کیا ۔ میں نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ میری امت کو ہلاک نہ کرے قحط سے(یعنی ساری امت کو عام قحط سے)، تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور (دوسری دعا)میں نے یہ کی کہ میری امت کو (یعنی ساری امت کو)ہلاک نہ کرے پانی میں ڈبو کر، تو قبول فرمائی اور(تیسری دعا) میں نے یہ کی کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے نہ لڑیں، (تو میرے رب نے )مجھےیہ دعا کرنے سے منع فرمایا۔“

    اس حدیث مبارکہ میں نبیوں کے نبی حضرت سیدنا و مولٰنا محمد رسول اللہ ﷺ کوحکمت و مصلحت کے تحت دو میں سےایک دعاکے متعلق منع فرمایا گیا۔

    اورکبھی ہم جس چیز کو اپنے لیئے اچھا سمجھ کر مانگ رہے ہو تے ہیں جبکہ حقیقتا وہ ہمارے لیئے بہتر نہیں ہوتا اس لیئے اللہ تعالی ہمیں وہ عطاء نہیں کرتا بلکہ اس بدلہ ہمیں کسی اور چیز کی صورت میں عطاء کرتا ہے جیساکہ فرمان رحمنٰ ہے :وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرۃ:216)

    اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

    (7)دنیا میں اللہ تعالی اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے :

    دنیا کی زندگی میں اللہ تعالی اپنے ہر بندے مختلف طریقوں سے آزماتا ہے کہیں مال و دولت ،شہرت وعزت دے کر آزماتا ہےکہ وہ ان نعمتوں کا استعمال کیسے کرتا ہے میری رضاء کے کاموں میں یا اپنی خواہشات کی تکمیل میں ؟؟؟ اور کبھی یہ چیزیں لےکر آزماتا ہےکہ میرا بندہ صبر کرتا ہے یا بے صبری کا مظاہرہ کرکے میری انصاف و عدل کو چیلنج کرتا ہے ؟؟؟،اسی طرح جان ،مال ،اٰل،اولاد ،مویشی ،کھیتی،پھل ،پھول وغیرہ وغیرہ کے ذریعے آزماتا ہے۔

    جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ () الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ () أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:155،156،157)

    ترجمہ:اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سےاور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو()کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا()یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں()

    اور اس آزماش کا سبب بھی اللہ تعالی نے بیان فرمادیا ہے جیساکہ فرمان باری تعالی ہے:الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (الملک:2)ترجمہ:وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہوتم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزّت والا بخشش والا ہے۔

    (8)ہر کام کے لیئے اللہ تعالی کی طرف سے وقت معین ہے :

    اللہ تعالی کی طرف سےہر کام کے لیئے کوئی نہ کوئی وقت متعین ہے جلد یا بدیر لہذا اگر کوئی کام مرضی کے مطابق اگر مکمل نہ ہو تو اسی پر محمول کیا جائے ،جیساکہاس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نیک بندے اور رسول کا ذکر ہےکہ سخت مصیبت کے وقت بھی ان کی دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہوئی اور لوگوں نے رسول سے پوچھا کب آئے گیہ اللہ کی مدد ؟تو پھر اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمائی :

    أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرۃ:214)

    ترجمہ:کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی، پہنچی انہیں سختی اور شدت اور وہ جھنجھوڑے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بےشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

    (9)اللہ کی رضا ء میں راضی رہنا ہی اصلِ بندگی ہےاور شکوہ کرنا بندےکی شان نہیں ہے :

    بندے کو ہر حال میں اپنے مولا کی رضا میں راضی رہنا چاہیئے ،ہاں!بہتری کی دعا ضرور کرنی چاہیئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں میں نے رب سے دعا کی ہے لہذا میری دعا کو قبول ہونی ہی چاہیئے ،بلکہ اس نیت سے دعا کر نی چاہیئے کہ مولا کریم اگر یہ کام میرے حق میں پہتر ہے تو مجھے عطاء فرما اور ایسا بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ اگر مصیبت ٹل جائے تو پھر نہ نماز کی ادئیگی ؟نہ ہی قران کی تلاوت ؟اور نہی اعمال صالحہ ؟؟ جیساکہ ہم اکثر کرتے ہیں بلکہ جو اعمال مصیبت کے وقت جس انداز سے کرتے تھے اسی طرح جاری رکھنا چاہیئے اور جب کوئی حاجت در پیش آتی ہے اور اگرہم آزمائش میں ڈال دیئے جائیں ،اور وہ پوری نہ تو ہم گلہ و شکوے شروع کرتے ہیں جو کہ ناشکری ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ (9) وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ (10) إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (الھود:9،10،11)ترجمہ:اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے ()اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اسمصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بےشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے ()مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے()

    اسی طرح فرمایا:

    لَا يَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ () وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُجِعْتُ إِلَى رَبِّي إِنَّ لِي عِنْدَهُ لَلْحُسْنَى فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِمَا عَمِلُوا وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ () وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَى بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ (حم السجدۃ:49،50،51،52)

    ترجمہ:آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا اور کوئی بُرائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا ()اور اگر ہم اُسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں اس تکلیف کے بعد جو اُسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو اُنہوں نے کیا اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے ()اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دُور ہٹ جاتا ہے اور جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو چوڑی دعا والا ہے ()

    (10)مال و دولت میں ہمیشہ اپنے سے کم تر کو دیکھنا چاہیئے نہ کہ بر تر کو :

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالی ہمیشہ عدل و انصاف فرماتا ہے ،اس کے ہر کام میں حکمت ہو تی ہے اگر وہ کسی کو غربت میں رکھتا ہے تو اس کی اسی مین بہتری ہوتی ہے اور اور دوسرے کو مال زیادہ عطاء کرتا ہے تو اس میں بھی حکمت ہوتی ہے اگرچہ ہمیں سجھ آئے یا نہ آئے لیہکن ہمارے لیئے بہتری صرف اسی حال میں جس میں ہمارا رب ہمیں رکھے ،اسی لیئے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں ترغیب دی حضرت عمرو بن شعیب اپنے داد سے روایت کرتے ہیں انہوں کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ:

    خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ لَمْ تَكُونَا فِيهِ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ بِهِ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَصَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا۔(جامع ترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ ،باب ،ج:۴،ص:۶۶۵،رقم:۲۵۱۲،طبع: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابی حلبی ،مصر)

    ترجمہ:دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا۔

    (11)اپنی عبادتوں پر اترانا نہیں چاہیئے !!!

    اپنی عبادتوں پر اترانا نہیں چاہیئےکیوں نہیں پتا ہماری قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں ؟اور اگر قبول بھی ہوگئی ہے تو ہماری کروڑہا کروڑ سالوں کی مقبول عبادت اللہ تعالی کی ایک نعمت کا بدلہ نہیں ہے بلکہ ہمیں جو بھی نعمتیں ملی ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں اگر چہ کم ہی سہی وہ سب اسی کا فضل و کرم ہے اگر وہ اپنے عدل سے کام لے تو ہمارے پلے کچھ بھی نہیں ہے !!!!!

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ "(مسند احمد ،مسند ابوہریرہ ،ج:۱۲،ص:۴۴۹،رقم:۷۴۷۸،طبع:مؤسسۃ الرسالۃ)

    ترجمہ: تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا !تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ بھی نہیں جائیں گے ؟فرمایا :ہاں میں بھی !لیکن اللہ تعالی نے اپنی رحمۃ و فضل سے مجھے ڈھانپ لیا ہے ۔

    ان باتوں کو جاننے کے جواب ملاحظہ فرمائیں :

    آپ جو اعمال صالحہ اور صدقہ خیرات کرتے ہیں وہ کرتےرہیں اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر ہی کریں نہ کہ اس نیت سے کہ میری خواہشیں پوری ہوں اور مجھے مال و دولت ملے،اور کبھی بھی یہ نہیں سوچنا کہ میری عبادات کے بدلے مجھے نعمتیں ملنی چاہیئے اگر آپ بھی اللہ تعالی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو صرف اس کے فضل سے طلب کریں اور اسی سے لو لگائیں آپ کو بھی نوازاجائیگا شرط یہ ہے کہ اپنا ظرف صاف اور وسیع رکھیں ،اور اپنی نیک خواہشوں کے لیئے اللہ تعالی سے دعا کرتے رہیں اگر وہ فی الوقت آپ کے حق میں بہتر ہوگاتو عطا کیا جائے گااور اگر نہیں ہوگا تو بعد میں یا اس کے بدلے مصیبت ٹلے گی یا آخرت میں اجر پائیں گے اور دنیا نہ ملنے کی وجہ سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کو اللہ تعالی کی حکمت اور مصلحت پر محمول کرنا چاہیئے کیا پتہ اسی میں بہتری ہو۔

    اور جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے جو گناہ کرتے ہیں اور عبادات سے بھی اعراض کرتے ہیں اور بظاہر بڑے عیش و عترت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو آپ کو ان کی دنیوی لذتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیئےبلکہ اللہ تعالی کے خفیہ تدبیر سے ڈرنا چاہیئے کہ وہ بظاہر ان لذتوں میں ہوں اور در حقیقت آزمائش سے گزر رہے ہوں ۔

    اور جو آپ نے مشاہدہ لکھا ہے کہ نافرمان زیادہ پھلتے پھولتے ہیں اور والد بھی انہی کو نوازتے ہیں تو در اصل وہ دولت کی آزمائش میں ہیں اور آپ کے ہاتھ تنگ ہونا بھی آزمائش ہے ،لیکن !!ان کی آزمائش کا حساب بہت سخت ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔

    اور اگر آپ مزید اس طرح کی سوچ کو دل جگہ دینگے تو معاذ اللہ ایمان کے لیئے خطرے کا باعث ہو سکتا ہے جیساکہ آپ خود کہا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اوراسی طرح کی سوچ معاذ اللہ بے دینیت کی طرف لے جاتی ہے ( فلعیاذ باللہ من ذالک)

    تنبیہ:اللہ تعالی کے اوپر والےکا لفظ استعمال کرنا شرعا صحیح نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالی جہت سے پاک ہے ۔

    ھذا ما عندی واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:27رجب المرجب1440 ھ/04اپریل 2019ء