تبرعا ادا شدہ پریمئم پر انشورنس کا حکم
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 468

    سوال

    کمپنی نے یہ اختیار دیا ہے کہ اگر میں رضامند ہوں تو وہ میرے نام پر ہیلتھ انشورنس پالیسی لے گی، ورنہ نہیں۔ اس پالیسی کے لینے پر میری تنخواہ سے کوئی رقم نہیں کائی جاتی۔ کیا یہ پالیسی لینا شرعاً جائز ہے ؟ اور اگر نہیں، تو کیا کوئی جائز صورت ہو سکتی ہے ؟

    سائل: عبد الصمد، کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ایسی پالیسی لینا جس میں پالیسی ہولڈر کی کوئی رقم نہیں لی جائے ، بلکہ کمپنی تبرعاً یا اپنی کسی مصلحت کے تحت انشورنس کمپنی کو پریمئم ادا کرے، اور اس کے عوض انشورنس کمپنی طے شدہ سہولیات دے تو یہ جائز ہے۔ کیونکہ یہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں کہ عموما جو بھی سودی انشورنس کمپنیاں ہوتی ہیں وہ صارفین سے کچھ رقم بطور قرض لیتی ہیں جس پر انہیں سہولیات فراہم کرتی ہیں جو کہ قرض پر نفع یعنی سود قرار پاتا ہے۔ لیکن پوچھی گئی صورت میں صارف کی طرف سے کوئی قرض نہیں دیا گیا ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 7جمادی الاولی 1447ھ/30 أكتوبر 2025ء