سوال
میں آن لائن پلیٹ فارم Etsy پر ایک کاروبار کرنا چاہتا ہوں۔ اس کاروبار کی نوعیت یہ ہے کہ میں خود اپنے ہاتھ سے تیار کردہ ڈیجیٹل ڈیزائن (جیسے: لوگوز، پوسٹرز، آرٹ ورک، سوشل میڈیا ٹیمپلٹس، ریزیوم ٹیمپلٹس، شادی کے کارڈز وغیرہ) بناؤں گا۔ان فائلوں کو Etsy پر Digital Product کے طور پر لسٹ کیا جائے گا۔خریدار جب خریداری کرے گا تو اسے فوراً ڈاؤن لوڈ مل جائے گا۔مجھے ہر خریداری پر قیمت ملے گی، جبکہ فائل ایک ہی بار بناکر بار بار فروخت ہوتی رہے گی۔تمام فائلیں میری اپنی بنائی ہوئی ہوں گی، کسی دوسرے کے کاپی رائٹ یا حرام مواد پر مشتمل نہیں ہوں گی۔ادائیگی Etsy اپنے سسٹم کے ذریعے وصول کر کے مجھے Payoneer یا بینک کے ذریعے منتقل کرے گا۔ اس میں سود یا حرام ٹرانزیکشن شامل نہیں ہوتی۔اس پر اکاؤنٹ بنانے کے بعد کام شروع کرنے کیلئے ایک ہی بار فیس ادا کرنی ہوتی ہے جوکہ تقریباً $19ہوتی ہے جوکہ ناقابل واپسی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی ڈیجیٹل فائلز کی فروخت، اور اس سے ہونے والی آمدنی، شریعتِ مطہرہ کے مطابق جائز ہے؟کیا ایک ہی فائل کو بار بار بیچنا شرعاً درست ہے؟کیا یہ کاروبار اسلامی اصولِ تجارت کے مطابق ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد شہزاد عطاری۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ڈیجیٹل فائلز کی فروخت سے ہونے والی آمدنی عند الشرع جائز ہے۔اور ایک ہی ڈیجیٹل فائل کو متعدد افراد کو فروخت بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، کیونکہ ہر خریدار کو اس فائل کا نفع حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کے عوض قیمت ادا کرتا ہے، اس طور پر کہ ہر خریدار کے ساتھ نئی بیع منعقد ہوتی ہے اور چونکہ یہ ایسا حق ہے جو کسی ایک فرد کو بیچنے کے بعد ختم نہیں ہوتا ،لہذا اس کا مالی عوض لینا بھی جائز ہے، جیسا کہ کوئی مصنف اپنی کتاب کے حق طباعت کسی مکتبہ کو اس طور پر فروخت کرے کہ فی الحال پہلے ایڈیشن میں اس حق طباعت کو میں نے تمہیں اتنی معین رقم کے عوض فروخت کیا، پھر اگلے ایڈیشن میں کسی اور مکتبہ کو وہ حق طباعت معین رقم کے عوض فروخت کرے، تو یہ جائز ہے۔
نیز، اکاؤنٹ بنانے کے لیے جو فیس ادا کی جارہی ہے وہ بھی جائز ہے کہ یہ اجارہ کی ایک صورت ہے، جہاں ویب سائٹ اس فیس کے بدلے تجارت کا حق (منفعت) فراہم کرتی ہے، اور چونکہ اجارہ میں منفعت کا عوض لینا جائز ہے، اس لیے یہ معاملہ شرعاً درست ہے۔
تفصیلِ مسئلہ:
فقہاء کرام نے واضح فرمایا ہے کہ بیع کا رکن تبادلہ مال ہے اور مال کی مختلف تعریفات بیان ہوئی ہیں اور دور حاضر میں معتمد تعریف شیخ مصطفی الزرقا کی ہے، آپ نے مال کی تعریف یوں بیان فرمائی: "المال هو كل عين ذات قيمة مادية بين الناس". ترجمہ: ہر وہ شے جس کا خارج میں وجود ہو، مادّی ہو اور لوگوں کے درمیان اس کی قیمت ہو وہ مال ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ بحوالہ المدخل،4/345،دار الفکر)۔ یعنی کسی بھی شے کے مال ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ہاں کوئی قیمت رکھے اور اس کا خارجی وجود ہو۔اس اعتبار سے ڈیجیٹل فائلز پر مال کی تعریف صادق نہیں آتی کہ اگرچہ ان کی قیمت ہے لیکن کوئی خارجی وجود نہیں۔
البتہ یہ حق ضرور ہے اور کتبِ فقہیہ کے تتبّع سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق پر مالی عوض لینا مطلقاً ممنوع نہیں، بلکہ بعض حقوق کا مالی عوض بطریقِ بیع اور بعض کا بطریقِ دست برداری شرعاً جائز ہے۔
بطریقِ بیع مالی عوض لینے کی دو قسمیں ہیں:
(۱) مستقلاً حق کی بیع: یعنی ایسی بیع جس میں خریدار کو صرف ایک حق فروخت کیا جائے، کسی عین (مادی چیز) کے بغیر۔ یہ صورت اصل میں ناجائز ہوتی ہے جب تک کہ اس پر عرف جاری نہ ہو۔ اگر کسی حق کو بیچنے کا عرف (معاشرتی و تجارتی تعامل) موجود ہو، تو اس کی بیع شرعاً جائز ہو جاتی ہے، کیونکہ عرف کی حیثیت شرعی احکام میں معتبر ہوتی ہے۔
(۲) تبعاً حق کی بیع: یعنی کسی مادی چیز کے ساتھ ضمنی طور پر اس سے متعلقہ حق بھی بیچا جائے، مثلاً کسی زمین کے ساتھ پانی لینے کا حق۔ یہ صورت بالاتفاق جائز ہے۔
بطریقِ دست برداری مالی عوض لینے کی دو قسمیں ہیں:
(۱) وہ حقوق جو محض دفعِ ضرر کیلئے ثابت ہوتے ہیں، ان سے مالی معاوضہ لینا جائز نہیں، جیسے حقِ شُفعہ، عورت کا حقِ باری، یا مخیّره کا حقِ اختیار۔ یہ حقوق اصالۃً ثابت نہیں ہوتے، بلکہ کسی ضرر کے ازالے کے طور پر دیے جاتے ہیں، اس لیے ان کے عوض میں مال لینا شرعاً ناجائز ہے۔
(۲) وہ حقوق جو اصالۃً ثابت ہوتے ہیں، نہ کہ ضرر سے بچاؤ کے طور پر، ان سے مالی عوض لے کر دست برداری جائز ہے، جیسے موصی لہ بالخدمت کا حق (وہ شخص جس کے حق میں کسی نے اپنی زندگی میں یا وصیت کے طور پر اسکے غلام سے خدمت لینے کا حق مقرر کیا ہوتو موصی مال کے بدلے اس حق سے دست بردار ہوسکتا ہے) ، حقِ قصاص (کہ دیت کے بدلے دست بردار ہو سکتا ہے)، حقِ نکاح (کہ مالی عوض لے کر شوہر خلع یا طلاق علی المال دے سکتا ہے)، اور حقِ رقّیت (کہ بدلِ کتابت کے بدلے دست بردار ہو سکتا ہے)۔ ان تمام حقوق کے محض حقوقِ مجردہ ہونے کے باوجود ان سے دست برداری پر مالی معاوضہ لینا فقہاء کرام کے نزدیک جائز ہے۔
اور ڈیجیٹل فائل ایسا مستقل حق ہے جس پر عرف عام جاری ہوچکا ہے، لہذا اس کی فروخت سے ہونے والی آمدنی بلا شبہ حلال ہے۔
دلائل وجزئیات:
بطریق دست برداری حق کے مالی عوض لینے سے متعلق خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَحَاصِلُهُ: أَنَّ ثُبُوتَ حَقِّ الشُّفْعَةِ لِلشَّفِيعِ، وَحَقِّ الْقَسْمِ لِلزَّوْجَةِ وَكَذَا حَقُّ الْخِيَارِ فِي النِّكَاحِ لِلْمُخَيَّرَةِ إنَّمَا هُوَ لِدَفْعِ الضَّرَرِ عَنْ الشَّفِيعِ وَالْمَرْأَةِ، وَمَا ثَبَتَ لِذَلِكَ لَا يَصِحُّ الصُّلْحُ عَنْهُ؛ لِأَنَّ صَاحِبَ الْحَقِّ لَمَّا رَضِيَ عُلِمَ أَنَّهُ لَا يَتَضَرَّرُ بِذَلِكَ فَلَا يَسْتَحِقُّ شَيْئًا أَمَّا حَقُّ الْمُوصَى لَهُ بِالْخِدْمَةِ، فَلَيْسَ كَذَلِكَ بَلْ ثَبَتَ لَهُ عَلَى وَجْهِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فَيَكُونُ ثَابِتًا لَهُ أَصَالَةً فَيَصِحُّ الصُّلْحُ عَنْهُ إذَا نَزَلَ عَنْهُ لِغَيْرِهِ، وَمِثْلُهُ مَا مَرَّ عَنْ الْأَشْبَاهِ مِنْ حَقِّ الْقِصَاصِ وَالنِّكَاحِ وَالرِّقِّ وَحَيْثُ صَحَّ الِاعْتِيَاضُ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ ثَابِتٌ لِصَاحِبِهِ أَصَالَةً لَا عَلَى وَجْهِ رَفْعِ الضَّرَرِ عَنْ صَاحِبِهِ".ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ شفیع کیلئے شُفعہ کا حق، بیوی کیلئے تقسیم کا حق، اور اسی طرح نکاح میں اختیار کا حق (یعنی عورت کو اختیار حاصل ہو کہ وہ نکاح کو باقی رکھے یا فسخ کرے) یہ سب اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ شفیع اور عورت سے نقصان (ضرر) کو دور کیا جا سکے۔ اور جو حق کسی سے ضرر کو دور کرنے کیلئے دیا گیا ہو، اس کا صلح (یعنی مال لے کر)کے ذریعے ساقط کیا جانا درست نہیں، کیونکہ جب صاحبِ حق خود راضی ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اب اسے کوئی ضرر لاحق نہیں، لہٰذا وہ کسی معاوضے کا مستحق بھی نہیں۔رہی بات اس شخص کی جس کے حق میں (غلام) خدمت کی وصیت کی گئی ہو، تو وہ ایسا نہیں ہے، بلکہ اسے یہ حق احسان اور صلہ رحمی کے طور پر اصلا دیا گیا ہے، لہٰذا اگر وہ یہ حق کسی دوسرے کیلئے چھوڑ دے (یعنی اس پر مالی صلح کرے)، تو یہ صلح درست ہو گی۔اسی طرح ان حقوق کا معاملہ بھی یہی ہے جن کا ذکر الاشباہ میں گزرا ہے، جیسے قصاص، نکاح، اور غلامی ،جب ان کے بدلے میں کچھ لینا جائز ہو، تو وہ اس وجہ سے ہے کہ یہ حقوق اپنے مالک کیلئے اصالۃً ثابت ہوتے ہیں، نہ کہ صرف ضرر کو دور کرنے کی غرض سے۔(رد المحتار، کتاب البیوع، مطلب فی بیع الجامکیۃ، 4/520، دار الفکر بیروت)
بطریق بیع حق کے مالی عوض لینے سے متعلق علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(وَصَحَّ بَيْعُ حَقِّ الْمُرُورِ تَبَعًا) لِلْأَرْضِ (بِلَا خِلَافٍ وَ) مَقْصُودًا (وَحْدَهُ فِي رِوَايَةٍ) وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ شُمُنِّيٌّ وَفِي أُخْرَى لَا، وَصَحَّحَهُ أَبُو اللَّيْثِ (وَكَذَا) بَيْعُ (الشِّرْبِ) وَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ فَسَادُهُ إلَّا تَبَعًا خَانِيَّةٌ وَشَرْحُ وَهْبَانِيَّةٍ".ترجمہ: اور حقِ مرور (یعنی زمین سے گزرنے کا حق) کی بیع زمین کے تابع ہو کر بلا اختلاف صحیح ہے ، اور مستقل طور (علیحدہ) پر بھی ایک روایت میں صحیح ہے، اور اسی پر جمہور مشائخ کا عمل ہے، جیسا کہ شمنّی نے ذکر کیا، اور ایک اور روایت میں (یہ مستقل حق کی بیع) جائز نہیں، مگر امام ابو اللیث رحمہ اللہ نے اس کے جواز کو صحیح قرار دیا۔اسی طرح حقِ شِرب (یعنی پانی لینے کا حق) کی بیع بھی ہے، مگر ظاہر الروایہ کے مطابق وہ فاسد ہے، الاّ یہ کہ زمین کے تابع ہو، جیسا کہ خانیہ اور شرح وہبانیہ میں ہے۔
(الدر المختار، باب البیع الفاسد، 5/80، دار الفکر بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:” زمین یا مکان کی بیع ہوئی اور راستہ کاحق مرور تبعاً بیع کیا گیا مثلاً جمیع حقوق یا تمام مرافق کے ساتھ بیع کی تو بیع درست ہے اورتنہا راستہ کا حق مرور بیچا گیاتو درست نہیں“۔(بہارشریعت،2/711، مکتبۃ المدینہ کراچی)
مستقلا حق کی بیع عرف کی بناء پر جائز ہوا کرتی ہے،چنانچہ علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"وَجَوَّزَهُ مَشَايِخُ بَلْخٍ كَأَبِي بَكْرٍ الْإِسْكَافِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ؛ لِأَنَّ أَهْلَ بَلْخٍ تَعَامَلُوا ذَلِكَ لِحَاجَتِهِمْ إلَيْهِ، وَالْقِيَاسُ يُتْرَكُ بِالتَّعَامُلِ".ترجمہ:مشائخ بلخ امام ابو بکر اسکافی اور امام محمد بن سلمۃ رحمہ اللہ نے حق شرب کی اصالتاً جائز قرار دیا کیونکہ اہل بلخ کی اس کی احتیاج کی وجہ سے اس پر ان کا تعامل جاری تھا لہذا تعامل کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جائےگا۔ (فتح القدیر،کتاب البیوع،باب بیع الفاسد،6/428،دار الفکر)
منفعت بیچنا اجارہ ہے،شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: " أن الإجارة عقد على المنفعة بعوض هو مال والعقد على المنافع شرعا نوعان أحدهما: بغير عوض كالعارية والوصية بالخدمة والآخر بعوض وهو الإجارة وجواز هذا العقد عرف بالكتاب والسنة". ترجمہ: بے شک اجارہ ایک ایسا عقد ہے جو کسی منفعت کے عوض مال کے بدلے میں کیا جاتا ہے، اور شرعی اعتبار سے منافع (فائدے) پر عقد کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم: بغیر عوض کے، جیسے عاریت (عارضی طور پر کسی چیز کا بلا معاوضہ دینا) اور خدمت کی وصیت۔دوسری قسم: معاوضے کے ساتھ، اور وہ اجارہ ہے۔اور اس عقد (یعنی اجارہ) کا جواز کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ (المبسوط للسرخسي 15/ 74)
علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: وَشَرْعًا (تَمْلِيكُ نَفْعٍ) مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ (بِعِوَضٍ). ترجمہ:شرعاً اجارہ یہ ہے کہ عین شے سے مقصود نفع کا عوض کے ساتھ کسی کو مالک کیا جائے۔ (رد المحتار ط الحلبي 6/ 4)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب