اجرت پر مقالہ لکھوانا کیسا
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 465

    سوال

    یونیورسٹیز یا دینی مدارس میں ڈگری کے حصول کیلئے ایک مقالہ لکھنا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو اجرت پر لکھ کر دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے ؟اور اس اجرت کا کیا حکم ہے؟یاد رہے کہ یونیورسٹی یا جامعات کی طرف سے کسی اور سے لکھوانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    سائل: فیاض حنفی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مقالہ کی تیاری سے متعلق دو بنیادی نوعیت کے افعال ہیں، جن کی بنیاد پر شرعی حکم طے ہوتا ہے۔

    پہلی نوعیت تکنیکی معاونت کی ہے، جس سے مراد ٹائپنگ، فارمیٹنگ، یا پروف ریڈنگ جیسے وہ کام ہیں جو مقالے کے مواد سے براہ راست متعلق نہیں۔ یہ عمل مطلقاً جائز ہے، یعنی طالب علم کا ایسی معاونت لینا یا کسی کا اجرت پر یہ خدمات دینا دونوں صورتوں جائز ہے۔کیونکہ یہ ایسی منفعت ہے جس کا عوض لینا معقول و مشروع ہے، اور یہی اجارہ کے باب میں وجہِ جوازکو کافی ہے۔

    دوسری نوعیت باقاعدہ مواد لکھوانا (Ghostwriting)کی ہے، جہاں باقاعدہ مواد اجرت پر لکھوایا جاتا ہے۔ اس میں طالب علم کا عمل ادارے کو دھوکا دینے اور علمی خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ لہذا ایسے عمل پر اجرت شرعاً ممنوع ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    اجارہ کے باب میں علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: وَشَرْعًا (‌تَمْلِيكُ ‌نَفْعٍ) مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ (بِعِوَضٍ). ترجمہ:شرعاً اجارہ یہ ہے کہ عین شے سے مقصود نفع کا عوض کے ساتھ کسی کو مالک کیا جائے۔ (رد المحتار، 6/4، دار الفکر بیروت)

    ’’ مقصود من العين‘‘کے تحت خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"اى فى الشرع ونظر العقلاء". ترجمہ: شریعت اور عقلاء کی نظر میں وہ منفعت، منفعتِ مقصودہ ہو۔ (رد المحتار، 6/4، دار الفکربیروت)

    اور دھوکادینے کی ممانعت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:"ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ومن غشنا فلیس منا".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جس نے ہمیں دھوکادیا،وہ بھی ہم میں سے نہیں۔ (الصحیح لمسلم ،کتاب الایمان،باب من غشنافلیس منا،1/99،رقم الحدیث:101،دار احیاء التراث العربی)

    اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤف المناویرحمہ اللہ(المتوفی:1031ھ)فرماتے ہیں:"والغش ستر حال الشئ".ترجمہ:دھوکا سے مراد کسی شی کی اصل حالت کو چھپاناہے۔(فیض القدیر،6/185،المکتبۃ التجاریۃ الکبری)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’غدر و بدعہدی مطلقاً سب سے حرام ہے ۔مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یا مرتد ۔

    ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:"لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحامالم یکن غدر".ترجمہ: کیونکہ ان کفار کا مال معصوم نہیں اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔(فتاوی رضویہ،14/140، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ناجائزکام پرملنے والی اجرت کےحرام ہونے کےمتعلق علامہ عبد الرحمن بن محمد شیخی زادہ (المتوفی:1078ھ) فرماتے ہیں: "لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء، والنوح، والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه". ترجمہ: گناہوں پر اجرت لینا جائز نہیں ہے جیسے گانا بجانا، نوحہ کرنا اور آلاتِ موسیقی یا لہو و لعب؛ کیونکہ گناہ کے کام کا عقد کے ذریعے حقدار بننا ممکن نہیں ، اس لیے (خدمت لینے والے پر) اجرت دینا واجب نہیں ہوتا۔ اور اگر اس نے اجرت دے دی اور لینے والے نے اسے وصول کر لیا، تب بھی وہ اس کیلئے حلال نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ رقم اس کے اصل مالک کو واپس کر دے۔(مجمع الانھر ، کتاب الاجارۃ، 2/384، دار احياء التراث العربی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’حرام فعل کی اجرت میں جوکچھ لیا جائے، وہ بھی حرام کہ اجارہ نہ معاصی پرجائزہے، نہ اطاعت پر‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 21/187، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بخلاف بيع المكعب المفضّض فإن.. (هنا بياض).. وضعه إنما هو للبس لا غير وهو المقصود الأعظم منه وفيه المعصية فيكره بيعه". ترجمہ: برخلاف چاندی کے کام والے جوتے کی بیع کے کہ اس کی وضع ہی پہننےکے لئے ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور کام کے لیے اور اس سے مقصودِ اعظم بھی پہننا ہی ہوتا ہے،درآں حال یہ کہ اسے پہننے میں معصیت ہے،لہذا اس کی بیع مکروہ ہے۔ (جد الممتارعلی رد المحتار، 7/76،دار الکتب العلمیۃ)

    اسی طرح فتاوی رضویہ شریف میں بھی امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:”موچی کو نیچری وغیرہ فاسقانہ وضع کا جوتا بنانے یا درزی کو ایسی وضع کے کپڑے سینے پر کتنی ہی اجرت ملے اجازت نہیں، کہ معصیت پر اعانت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،21/210،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    تعاون علی الاثم سے متعلق قرآن مجید میں ہے: وَلَا تَعَاوَنُواعَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوااللَّہَ اِنَّ اللَّہَ شَدِیدُالْعِقَابِ.ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (المائدۃ:2)

    خیانت منافق کی علامت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان".ترجمہ: منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح البخاری، باب علامۃ المنافق، 1/16، رقم الحدیث: 33، دار طوق النجاۃ)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 5جمادی الآخری 1447ھ/27 نومبر 2025ء