پیری و مریدی کے شرائط
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 50
    حوالہ: 470

    سوال

    1)بیعت کس کی کی جائے؟

    2)جو شخص ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا وہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے؟

    3)جس شخص کی بیعت کی جائے اگر وہ شریعت کے تابع نہ ہو یا وہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا زناکاری و شراب نوشی وغیرہ میں تو اس کی بیعت کی حیثیت کیا ہو گی ؟

    4)عورت کے لیے پیر سے بیعت کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

    5) اگر بیعت جائز ہے تو کس حد تک پیر کی تابعداری کر سکتی ہے ؟

    6) کیا بیعت کے بعد عورت پیر کی صرف شرعی امور میں تابع دار ہو گی یا غیر شرعی امور میں بھی تابع دار ہو گی ؟کیونکہ آج کل تصور یہ دیاجا رہا ہے کہ بیعت کے بعد مرید و مریدنی مکمل پیر کے غلام بن جاتے ہیں ۔ اب پیر انہیں جیسے چاہے استعمال کے اور اسی آڑ میں مرید ینوں (عورتوں)کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے ان کی عزت نفس پامال کی جا رہی ہے

    7)کیا یہ جرم عظیم نہیں اگر جرم ہے تو اس کی شرعی و قانونی سزا کیا ہو گی ؟

    8)کیا ایسے پیر حضرات کی بیعت جائز ہے ؟

    سائل:محمد ادریس،لاہور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے قبل بیعت سے متعلق چند باتوں کو جا ننا چاہیئے۔

    (۱)بیعت سے کیا مرا د ہے؟

    لغت میں بیعت کے معنی بیچنے کے ہیں اور اصطلاح صوفیاء میں کسی بزرگ کے ہاتھ پر یہ معاہدہ کرنا کہ میں آئندہ معصیت نہ کروں گا اور تصفیہ قلب کے لیے آپ کی ہدایات پر عمل کروں گا، اور اس کو بیعت کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مرید اپنی مرضی کومرشد صالح کے ہاتھ بیچ دیتاہے ۔

    (۲) کیا فوز وفلاح کے لیئے بیعت ہونا لازمی ہے ؟

    امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۱۷،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:‘‘فلاح دو قسم پر ہے اول انجام کار رستگاری (یعنی بالاخر نجات و چھٹکارہ حاصل ہونا )اگر چہ معاذ اللہ سبقت عذاب کے بعد ہو،یہ عقیدہ اہل سنت میں ہر مسلمان کے لیئے لازم ،اور کسی بیعت و مریدی پر موقوف نہیں ،اس کے واسطے صرف نبی کو مرشد جاننا بس ہے ۔

    دومکامل رستگاری کہ بے سبقت عذاب دخول جنت ہو ، اس کے دو پہلو ہیں کہ:وقوع یہ مذہب اہل سنت میں محض مشیت الہی پر ہے،اگر چاہے تو ایسی فلاح عطاء فرمائے اگر چہ لاکھوں کبائر کا مرتکب ہو اور چاہے تو ایک گناہ صغیرہ پر گرفت کر لے اگر چہ لاکھوں حسنات رکھتا ہو ،یہ عدل ہے اور وہ فضل ،یغفر لمن یشاء ،یعذب من شیاء(جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے )

    اوروقوع(یعنی دخول جنت )کے لیئے سوا اسلام اور اللہ و رسول کی رحمت کے اور کوئی شرط نہیں (جل وعلا ،وﷺ) یعنی انسان کے اعمال و افعال و اقوال و احوال ایسے ہونا کہ اگر انہیں پر خاتمہ ہو تو کرم الہی سے امید واثق ہو کہ بلا عذاب داخل جنت ہو کیا جائے ۔

    پھر فلاح دو قسم پر ہے ایک فلاح ظاہر ،دوسرا فلاح باطن :

    یہاں فلاح ظاہر سےیہ مراد نہیں کہ ظاہر احکام شرع سےاپنے آپ کو آراستہ کر لیا اور معاصی سے منزہ کر لیا اور متقی و مفلح بن گئے اگر چہ اس کا باطن ریا ،عجب ،حسد ،کینہ ،تکبر ،حبِ مدح ،حب جاہ،محبت دنیا،طلب شہرت ،تعظیم امراء،تحقیر مساکین ،اتباع شہوات ومداہنت ،خیانت ،غفلت و قسوت ، اتباع شیطان اور بندگی نفس ،تساہل فی اللہ سے گندہ ہو رہا ہو بلکہ فلاح ظاہر یہ کہ دل و بدن دونوں پر جتنے احکام الہیہ ہیں سب بجا لائے ،نہ کسی کبیرہ کا ارتکاب کرے نہ کسی صغیرہ پر مصر رہے ،نفس کے خصائل ذمیمہ اگر دفع نہ ہوں تو ان سے بچے رہیں اور ان پر عمل نہ کریں ،مثلا دل میں بخل ہے تو نفس پر جبر کر کے ہاتھ کشادہ رکھے ،حسد ہے تو محسود کی برائی نہ کرے ۔اور یہی فلاح تقوی ہے اسی سے آدمی متقی ہو جا تا ہے ۔

    اور فلاح باطن سے مراد ہے قلب و جسم کو رذائل اور گناہوں سے خالی کرکے فضائل سے مزین کرے ۔

    تو بہر حال اس فلاح کے لیئے ضرور مرشد کی حاجت ہے ۔(ملخصاًو متصرفاً)

    (۳)مرشد کیسا ہونا چاہیئے؟

    امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۲۳،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:

    مرشد بھی دو قسم کا ہے ۔اول : مرشد عام ،دوم :مرشد خاص ۔

    مرشد عام سے مراد کلام اللہ ،کلام الرسول ،کلام ائمہ شریعت و طریقت اور کلام علماء دین ،واہل رشد وہدایت ہے ۔فلاح ِظاہر ہو خواہ فلاح باطن،اس مرشد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے جو شخص ان سے جدا ہے بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ ،اور اس کی عبادت برباد و تباہ ہے ۔

    اور مرشد خاص سے مراد یہ کہ کسی عالم ،سنی ،صحیح العقیدہ ،صحیح الاعمال،جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے ،جس کو پیر و شیخ کہتے ہیں پھر مرشد خاص کی بھی دو قسم ہے ،اول: شیخ اتصال ،دوم:شیخ ایصال ۔

    اول شیخ اتصال سے مراد یہ ہے کہ جس ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین ﷺتک متصل ہو جائے ۔

    اور اس کے لیئے چار شرائط ہیں :

    شرط اول:شیخ کاسلسلہ باتصال صحیح حضور اقدس ﷺتک پہنچتا ہو بیچ میں منقطع نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اتصال ناممکن ہے ،بعض لوگ بلا بیعت محض بزعم ِوراثت اپنے باپ داد کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں ،یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا ،اس میں فیض نہ رکھا گیا ،لوگ برائےہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں یا سلسلہ فی نفسہ صحیح تھا مگر بیچ میں کوئی شخص واقع ہوا جس میں بیعت کے بعض شرائط نہ تھے تو اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ سے منقطع ہے ،تو ان صورتوں میں اس بیعت سے ہر گز اتصال نہ ہوگا،اور یہ بیل سے دودھ اور بانجھ سے بچہ مانگنے کے مترادف ہے ۔

    شرط دوم :شیخ سنی صحیح العقیدہ ہو بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ ﷺ تک ،آج بہت سارے بد دین بلکہ بے دین اور بد عقیدہ لوگ جو منکر و دشمن اولیاءہیں اور مکاری کے لیئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے ۔

    شرط سوم :عالم ہو ،یعنی علم فقہ اس کی اپنی ضرورت کے مطابق کافی اور لازم ہےکہ عقائد اہل سنت سے پورا واقف ہو ،کفر واسلام اورضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو ،ورنہ آج بد مذہب نہیں تو کل ہو جائے گا ،صد ہا کلمات و حرکات ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے اور جاہل جہالت کی وجہ سے ان میں پڑ جاتے ہیں ،پہلے تو ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان سے قول ویا فعل ِ کفر صادر ہوتا ہے اور جب خبر ہی نہ ہو تو توبہ ناممکن ہے لہذا اسی میں مبتلا رہتے ہیں ،اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیم الطبع جاہل تو ڈر جائے لیکن جو سجادہ نشین ہو اور ہادی و مرشد بن بیٹھا ہو ،اس کے دل میں جو اپنے لیئے عظمت ہوتو وہ کہاں اس کو توبہ قبول کرنے دیگا ،اوراگر کوئی توبہ بھی کرلے لیکن ان کفریات کی وجہ سے بیعت جو فسخ ہوئی ہے تو کسی کے ہاتھ پر بیعت کریگا ؟اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دیگا ؟اگر چہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو ،اس کا نفس ایسا کہاں کر نے دیگا کہ وہ سلسلہ بند کرے اور مرید کرنا چھوڑ دے کیونکہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے !!

    شرط چہارم :فاسق معلن نہ ہو ،اس شرط پر حصول اتصال کا توقف نہیں مگر پیر کی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب ہے تو دونوں کا اجتماع لازم آجائے گا جو کہ باطل ہے ۔

    اور شیخ ایصال یہ ہے کہ مذکورہ چار شرائط کے ساتھ ،ساتھ وہ مفاسد نفس ،مکا ئد شیطان اور خواہشات کی جال سے خوب آگاہ ہو اور دوسروں کی تربیت جانتا اور اپنےمرید پر شفقت تام رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کردے ،ان کا علاج بتائے اور جو مشکلات اس راہ میں پیش آئے تو حل کرنا جانتا ہو ،نہ کہ صرف سالک یا مجذوب ہو کہ یہ دونوں پیر نہیں بن سکتے ۔(ملخصاًومتصرفاً)

    شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۰،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں مرشد کے شرائط لکھتے ہیں :

    علم الکتاب و السنۃ ،ولا ارید المرتبۃ القصوی بل یکفی من علم الکتاب ان یکون قد ضبط تفسیر المدارک او الجلالین او غیرھما ۔ ومن السنۃ ان یکون قد ضبط و حقق مثل کتاب المصبیح وعرف معانیہ ،وانماشرطناالعلم لان الغرض من البیعۃ امرہ بالمعروف و نہیہ عن المنکر و ارشادہ الی تحصیل السکینۃ الباطنۃ وازالۃ الرزائل واکتساب الحمائد ،ثم المسترشد بہ فی کل ذالک فمن لم یکن عالما کیف یتصور منہ ھذا؟ان یکون زھدا فی لدنیا ،راغبا فی الاٰخرۃ ،موظبا علی الطاعات المؤکدۃ ،والاذکار الماثورۃ ،مواظبا علی تعلق القلب باللہ ان یکون اٰمراباالمعروف ناھیا عن المنکر۔وان یکون صحب االمشائخ و تادب بھم دھرا طولا واخذ منھم النورالباطن والسکینۃ۔(ملخصاً)

    ترجمہ:قران و سنت کا علم ہواور اس سے میری مراد یہ نہیں کہ انتہائی اعلی درجے کا عالم ہو بلکہ قرآن کا علم رکھتا ہو کہ کم ازکم وہ تفسیر مدارک یا جلالین یا ان کے علاوہ کا علم رکھتا ہو ۔اور سنت سے اتنا علم رکھتا ہو کہ وہ مشکاۃ المصابیح کو پڑھ اور سمجھ سکتا ہو ،اس کے معانی کو جانتا ہو ،اور ہم نے علم کی شرط اس لیئے لگائی ہے کہ بیعت کرنے کا مقصد دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے ،باطنی سکون کے حصول کی رہنمائی کرنا ،رذائل کو دور کرنا ، اچھی چیزوں کو حاصل کرنا ہے۔توپھر پیر سے ان تمام چیزوں میں رہنمائی حاصل کرنا اس شخص سےجوخودعلم نہ رکھتا ہو تو کیسے وہ ان چیزوں کی طرف رہنمائی کریگا ؟

    اور یہ کہ دنیا سے کنارہ کشی کرتا ،آخرت میں رغبت رکھتا ہو،جن عبادات کی ترغیب دی گئی ہے ان پر کاربند رہتا،اذکار ناثورہ پر ہمیشگی کرتا ہواوراس کا دل اللہ کی طرف مائل ہو۔

    اور یہ کہ وہ نیکی کا حکم دینے ،برائی سے روکھنے والاہو ۔اور اس نے مشائخ کی صحبت اختیار کی ہو اور ایک طویل عرصے تک ان سے ادب سیکھا ہو اور ان سے باطنی نور اور سکون حصل کیا ہو ۔

    (۴)کیا بیعت کی کوئی قسم ہے ؟

    سیدی اعلحضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۲۵،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:بیعت بھی دو قسم پر ہے ،اول :بیعت برکت ،دوم بیعت ارادت:

    اول بیعت برکت :یہ صرف تبرک کے لیئے داخل سلسلہ ہوجانا ہے ۔آج کل عام طور پر اسی طور پر بیعتیں ہوتی ہیں یہ بھی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی نیتیں نیک ہوں ورنہ بہت سارے دنیوی اغراض فاسدہ کے لیئے بیعت کرتے ہیں ۔اور اس بیعت برکت کے لیئے شیخ اتصال کافی ہے جو کہ چاروں شرائط کا جامع ہو ۔اوراس بیعت کے بڑے فوائد ہیں کہ دنیا و آخرت میں کار آمد ہے ،اور محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام کا لکھاجانا ،ان سے سلسلہ متصل ہوجانا خود ہی ایک سعادت ہے ،کیونکہ اس میں ان کے خاص غلام سالکان راہ سے مشابہت ہے ۔اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ‘‘من تشبہ بقوم فھو منھم’’یعنی جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔

    شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اللہ عنہ عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں:

    ‘‘واعلم ان الخرقۃ خرقتان ،خرقۃ الارادۃ ،وخرقۃ التبرک ،والاصل اللذی قصدہ المشایخ للمریدین خرقۃ الارادۃ ، وخرقۃالتبرک تشبہ بخرقۃ الارادۃ ،فخرقۃ الارادۃ للمرید الحقیقی ،وخرقۃ التبرک للمتشبہ ’’ترجمہ:واضح ہو کہ خرقہ(بیعت )دو قسم پر ہے یعنی خرقہ ارادت اور خرقہ تبرک ،اوراصل جس کا مشایخ مرید وں سے قصد کرتے ہیں وہ خرقہ ارادت ہے ،اور خرقہ تبرک تو اس کے مشابہ ہے ،تو حقیقی مریدین کے کے لیئے خرقہ ارادت ہے ،جبکہ مشابہت اختیار کرنے والوں کے لیئے خرقہ تبرک ہے۔

    دوم بیعت ارادت:کہ اہنے ارادہ و اختیار سے یکسر باہر ہوکر اپنے آپ کو مرشد برحق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کردے ،اسےاپنا مطلقا اپنا حاکم و متصرف جانے ،اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے اورسلوک کی راہ میں اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے ،اور یہی بیعت سالکین ہے ،یہی مقصود مشایخ ِمرشدین ہے، یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہےاور بیعت حضور اقدس ﷺنے صحابہ کرام سے لی تھی ۔

    ان باتوں کو جاننے کے جوابات ملاحظہ فرمائیں :

    (1)بیعت کس کی ،کی جائے؟

    یہ بات بیان کی جا چکی کہ آج کل شیخ ایصال کاملنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے لہذا اکثر شیخِ اتصال ہی نظر آتے ہیں (الاماشاء اللہ)اور شیخ اتصال سے بیعت برکت ہی ہو سکتی ہے نہ کہ بیعت ارادت ،لہذا شیخ اتصال کے جو شرائط شاہ ولی اللہ محدث دہلی اور شاہ امام احمد رضا خان ،محدث بریلی نے بیان کیئے ہیں ،جس شخص میں وہ شرائط بدرجہءاتم موجود ہوں ،ان کی بیعت کی جا سکتی ہے ،ورنہ آج کل بہت سے پیر بڑی ،بڑی گدیوں پر براجمان ہوکر دھڑا دھڑ بیعت کرتے ہیں جبکہ ان میں شیخ ایصال کے شرائط تو کجا ،شیخ اتصال کے شرائط بھی مفقودہو تے ہیں،لہذا صحیح تسلی کے بعد ہی کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیئے ،اوراگر مرشد خاص جو تمام شرئط کا جامع ہو نہ ملے تو مرشد عام تو موجود ہے ان سے وابسطہ ہونااور بزرگان دین سے عقیدت رکھنا ہی افضل ہے آج کل کے ان جاہل اور فاسق پیروں کی بیعت ہونے سے،اور مرشد خاص کی تلاش جاری رکھنی چاہیئے کہ بیشک اللہ تعالی ہی ہدایت کی جستجو کرنے والوں کو حق کی راہ دکھانے ولا ہے ۔کہ فرمان باری تعالی ہے :

    وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت:69) ترجمہ:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بےشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے ۔

    (2)جو شخص ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا وہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے؟

    دوبارہ بیعت اگر کسی شرعی وجہ سے ہو تو کو ئی حرج نہیں ہے البتہ بلا عذر شرعی اسیا نہیں کرنا چاہیئے ۔

    جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۹،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں لکھتے ہیں :

    اعلم ان تکرار البیعت من رسول اللہ ﷺ ماثور و کذالک عن الصوفیۃ ،ولکن من الشخصین فان کان بظھور خلل فی من بایعہ فلا باس وکذالک بعد موتہ ،وغیبۃ المنقطعۃ ،واما بلا عذر فانہ یشبہ متلاعب ،ویذھب بالبرکۃ ،ویصرف قلوب الشیوخ عن تعھدہ ،واللہ تعالی اعلم۔ترجمہ:واضح ہو کہ بیعت کا تکرار رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے اور اسی طرح صوفیاء کرام سے بھی ثابت ہے ،لیکن اگر دو شیوخ سے بیعت کرنا اس سبب سے ہو کہ جس شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان میں کوئی شرعی خلل (یعنی بیعت کے شرائط نہیں پائے جا رہے ،یا بیعت کے وقت تھے اب نہیں ہیں )تو اس صورت میں کسی اور سے بیعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اسی طرح شیخ کا انتقال ہوگیا ہے ،یا شیخ ایسے غائب ہو گئے ہیں کہ ان سے ملنے کی توقع نہیں ہے (تو دوبارہ بیعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے )۔اور اگر دوبارہ بیعت کرنا کسی شرعی عذر بنیاد پر نہیں ہےتو یہ مرشد سے کھیل کے مشابہ ہے کہ جس کی وجہ سے برکت اٹھ جا تی ہے اور مشائخ کی توجہ اس شخص کی تعلیم و تھذیب سے ہٹ جاتی ہے ۔

    یاد رہے !شاہ صاحب کی عبارت میں جو تکرار بیعت سے منع کیا گیا ہے وہ بیعت ارادت کی صورت میں ہے نہ کہ بیعت برکت میں کیوں کہ برکت کی خاطر بڑے بزگوں کی بیعت کی جا سکتی ہے۔

    (3) جس شخص کی بیعت کی جائے اگر وہ شریعت کے تابع نہ ہو یا وہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلاہو جائے،مثلاً زناکاری و شراب نوشی وغیرہ میں تو اس کی بیعت کی حیثیت کیا ہو گی ؟

    اگر بیعت کے واقت ہی اس میں شرئط بیعت نہ ہو کہ وہ معاذاللہ مذکورہ گناہوں کا مرتکب ہے تو بیعت ہوئی نہیں ،بلکہ ایسے شخص سے بیعت کرنا ہی سخت گناہ اور گمراہی ہے ،چاہے وہ کسی بڑی گدی پر بیٹھا ہو ،اور اگربیعت کے وقت وہ جامع شرائط تھا بعد میں وہ مذکورہ گناہوں میں مبتلا ہو اتو اس کی بیعت خود بخود کالعدم ہو جائے گی ،اور ایسے پیروں کی بیعت سے براۃ کا اعلان کرنا چاہیئے تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو ۔

    اعلحضرت علیہ الرحمہ رسالہ قشیریہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ‘‘سیدی ابو علی الرودباری علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ :

    ‘‘من یستمع الملاہی و یقول ھی لی حلال لانی وصلت الی درجۃ لا تؤثر فی اختلاف الاحوال ،فقال نعم قد وصل ولکن الی سقر’’ایک شخص مزامیر سنتا ہے اور اور کہتا ہے کہ یہ میرے حلال ہے اس لیئے کہ میں ایسے درجے تک پہنچ گیا ہوں کہ احوال کا اختلاف مجھ پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔تو آپ نے فرمایا ہاں وہ پہنچ گیا ہے لیکن جہنم تک ۔

    (4) عورت کے لیے پیر سے بیعت کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

    اگر پیر اوپر بیان کردہ شرائط کا پابند ہو تو عورت ان سے بیعت ہو سکتی ہے لیکن چند شرائط کے ساتھ ،جو کہ درجہ ذیل ہیں :

    ۱)پردہ کا مکمل خیال رکھا جائے گا ،کسی بھی صورت غیر پردگی نہ ہو خصوصاًنو جوان عورتوں کے لیئے ۔

    ۲)بیعت کے لیئے ہاتھ میں ہاتھ ہر گز نہیں دیا جا ئے گا ،بلکہ صرف زبانی بیعت لی جائے گی ۔

    ۳)پیر کا کسی ایک عورت کے ساتھ خلوت ہر گز نہ ہو ،کہ حرام ہے ۔

    ۴)عورت پیر کی کسی بھی قسم کی جسمانی خدمت ہر گز نہ کرے،کہ شرعا حرام ہے ۔

    ۵)بیعت صرف طاعات ونیکی پر ہو ،دنیوی مقاصد کا اس میں ہر گز دخل نہ ہو۔

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا صحابیات سے رسول اللہ ﷺ کے بیعت لینے کی کیفیت کے بارے فرماتی ہیں :

    إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَة: (يَا أيُّها النبيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا جاءكَ المؤمناتُ يبايِعنَكَ)فَمَنْ أَقَرَّتْ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا: «قَدْ بَايَعْتُكِ» كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ:ترجمہ:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کو (جو مکہ سے آتیں اور قبولیت اسلام کا اظہار کرتیں )اس آیت کریمہ کی روشنی میں پرکھتے تھے الایۃ:‘‘اے نبی !جب مؤمن عورتیں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس بیعت کے لئے حاضر ہوں الخ’’چنانچہ ان میں سے جو عورت اس آیت میں مذکورہ شرائط کو ماننے کا اقرار کرتی آپ اس سے فرماتے کہ " میں نے تم کو بیعت کیا ۔ " اور آپ گفتگوفرماتے اور عورتوں سے یہ بات فرماتے مگر اللہ کی قسم !کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو بیعت کیا ہو اور اس کے ہاتھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے چھوا ہو۔(مشکاۃ المصابیح ،کتاب الجہاد،باب الصلح،الفصل الاول،رقم الحدیث:۴۰۴۵)

    سیدی اعلحضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے عورت کا پیر سے پردہ کے متعلق پوچھا گیا ۔سوال مع الجواب مذکورہ ہے: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت جوان یا بڑھیا کسی عالم شریعت ، واقف طریقت جامع شرائط سے بیعت کرے اور اپنے پیر سے فیض لے حجاب شرعی تو ہو یعنی کل بدن چھپا ہوا بلا چہرے کے مگر حجاب عرفی نہ ہو تو یہ بیعت کرنے اور اس طریق سے فیض لینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔

    الجواب: پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔درمختار میں ہے کہ‘‘ تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ’’

    ترجمہ:جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکا جائے۔

    اور بڑھیا کے لئے جس سے احتمال فتنہ نہ ہو مضائقہ نہیں۔

    ‘‘فیہ ایضااما العجوز التی لاتشتھی فلا بأس بمصافحتہا ومس یدھا ان امن’’اسی کتاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسی بوڑھی عورت جو نفسانی یعنی جنسی خواہش نہ رکھتی ہو اس سے مصافحہ کرنے اور اس کے ہاتھ کو مس کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اطمینان خاطر حاصل ہو۔

    مگر ایسے خاندان کی نہ ہو جس کا یوں بھی سامنے آنا اس کے اولیاء (خاندان )کے لئے باعث ننگ وعار یا خود اس کے واسطے وجہ انگشت نمائی ہو۔

    فانا قدامرنا ان ننزل الناس منازلھم کما فی حدیث ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا، وفی حدیث مرفوع‘‘ ایاک وما یسوء الاذن’’اس لئے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوک کریں جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث میں آیا ہے اور ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اپنے آپ کو ان باتوں سے بچاؤ جو کانوں کو بری لگیں۔

    (5)اگر بیعت جائز ہے تو کس حد تک پیر کی تابعداری کر سکتی ہے ؟

    پیر کی تابعداری صرف راہ سلوک میں ہی جائز ہے ،اس کے علاوہ کسی دنیوی یا ذاتی امور میں اتباع کے پابند نہیں ہے،خصوصا غیر شرعی امور میں اتباع کی کوئی گنجائش نہیں ہے،بلکہ سخت گناہ ہے ۔

    شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۸،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں لکھتے ہیں :

    ان البیعۃ المتوارثۃ بین الصوفیۃ علی وجوہ ،احدہا ،بیعۃ التوبۃ ،من المعاصی ،والثانی بیعۃ التبرک،فالوفاءبالبیعۃ فیھما ترک الکبائر ، وعدم الاصرار علی الصغائر ،والتمسک بالطاعات المذکورۃ من الواجبات ،والسنن الرواتب ۔ترجمہ:بیشک بیعت جو صوفیاءکے درمیان رائج ہے ،اس کی چند اقسام ہے ،ان میں سے ایک بیعت توبہ ہے گناہوں سے ،اور دوسری بیعت تبرک ہے اور ان دونوں پر پورا اترنا اس طرح ہو گا کہ کبائر سے بچا جائے اور صغائر پر اصرار نہ کیا جائے ،اورطاعات یعنی واجبات و سنن مؤکدہ کی پابندی کی جائے ۔

    (6)کیا بیعت کے بعد عورت پیر کی صرف شرعی امور میں تابع دار ہو گی یا غیر شرعی امور میں بھی تابع دار ہو گی ؟کیونکہ آج کل تصور یہ دیاجا رہا ہے کہ بیعت کے بعد مرید و مریدنی مکمل پیر کے غلام بن جاتے ہیں ۔ اب پیر انہیں جیسے چاہے استعمال کے اور اسی آڑ میں مرید ینوں (عورتوں)کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے ان کی عزت نفس پامال کی جا رہی ہے ۔

    صرف شرعی امور میں ہی پیر کی بات قبل اتباع ہوگی جیسا کہ بیان کیا گیا ،اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہےکہ بیعت کے بعدمریدین غلام بن جاتے ہیں اور انہیں جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے !شریعت اسلامیہ میں اس طرح کا کو ئی تصور نہیں ہے کہ پیر کی اتباع میں شریعت کو پامال کیا جائے ،

    بلکہ خلاف شرع امور میں سلطان کی بھی اطاعت جائز نہیں !حالانکہ شرعا سلطان کی اطاعت پر نص موجود ہے جبکہ ان پیروں کی اتباع پر نص صریح نہیں بلکہ مستنبط ہے نصوص سے۔ جیسا کہ پیروں کے پیر ،مرشد اعظم ،ہادی اعظم ﷺکا واضح فرمان ہے کہ : عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى المَرْءِ المُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ»(الجامع الترمذی،باب ماجاء لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ج:۴، ص: ۲۰۹، رقم:۱۷۰۷ )

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مسلمان پر سننا اور اطاعت کرنا ،تمام امور میں واجب ہے ،خواہ وہ ان کو پسند کرے یا نفرت کرے ،جب تک کہ اس کو گناہ کا حکم نہ دیا جائے ،اور اگر گناہ کے کاموں کا حکم دیا جائے تو اس پر نہ سننا واجب ،نہ ہی اطاعت واجب ہے۔

    اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ :

    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُضَيِّعُونَ السُّنَّةَ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا؟» قَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، كَيْفَ تَفْعَلُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»(مسند احمد،مسند عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ،ج:۶،ص:۴۳۲،رقم:۳۸۸۹،ط:مؤسسۃ الرسالۃ،مصر)

    ترجمۃ:بے شک نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اے عبد اللہ کیا حال ہوگا تمہارا جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہونگے جو سنت کو کو چھوڑ دینگے ،اور نماز کو اس کے اوقات سے مؤخر کرینگے ؟حضرت ابن مسعود نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کیا فرماریے ہیں ؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،اے ام عبد کے بیٹے !تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ تم کیا کروگے (تو سن لو !)اللہ تعالی کی نافرمانی میں مخلوق کی کو ئی فرمان بردارنہیں !(یعنی مخلوق کے حکم کی کو ئی حیثیت نہیں ہے)

    (7)کیا ایسے پیر حضرات کی بیعت جائز ہے ؟

    قطعا نہیں !بلکہ ایسوں کی بیعت نہ ہوتی ہے نہ کرنی چاہیئے بلکہ اس صورت میں بیعت کرنے والا ،اور بیعت لینے والا دونون ہی سخت گنہگا رہیں،اور اگر کسی نے ایسے جاہل پیر کی بیعت کی بھی ہے تو فوراً براءۃ اختیار کرے اور اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کرے ۔

    (8)کیا یہ جرم عظیم نہیں؟ اگر جرم ہے تو اس کی شرعی و قانونی سزا کیا ہو گی ؟

    یقینا یہ جرم ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺسے مذاق اور اولیاء کاملین وصلحاء امت سے بغاوت اور اسلام کی بد نامی کا سبب ہے ( فلعیاذ باللہ من ذالک)اور اسلامی حکومت میں ان کی سزا مہجور کرنا ہے کہ قاضی وقت ان کے خلاف اعلان کردے کہ تمام لوگ ان سے دور رہیں اور کسی قسم کی ان سے بیعت وغیرہ قطعا نہ کریں بلکہ ان کو اپنے اوراسلام و اہل اسلام کے لیئے زہر قاتل سمجھیں اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو قاضی ان کو قید کر لے جب تک یہ سچے دل سے توبہ کر کے تمام خرافات کو ترک نہ کرتے ہیں ۔

    ہذا ما عندی ،واللہ تعالی اعلم باالصواب ،والیہ المرجع والماٰب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22جمادی اولی 1440 ھ/28جنوری 2019ء