بیعت کے لئے دعوت دینا کیسا
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 469

    سوال

    1: بیعت کے لیئے دعوت دینا درست ہے؟

    2: کیا تمام مسلمانوں نے نبی کریم علیہ السلام کی بیعت نہیں کی ؟بلکہ اسی غائبانہ بیعت کی وجہ سے ہم "سنی مسلمان"یعنی سن کر مسلمان ہونے والے سنی مسلمان کہلائے،پھر مزید بیعت کی کیا ضرورت ہے؟

    سائل:مسعود الحق،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: بیعت فی نفسہ ایک مستحب اور مستحسن امر ہے اور ہر مستحب کام کے لیئے دعوت یاحکم دینا بھی مستحب ہے ۔جیسا کہ باری تعالی کا فرمان ہے: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۔ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔(الاٰل عمران:110)

    امام الرازی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: هَذِهِ الْآيَةُ اشْتَمَلَتْ عَلَى التَّكْلِيفِ بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، أَوَّلُهَا: الدَّعْوَةُ إِلَى الْخَيْرِ ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، ثُمَّ النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ،إِذَا عَرَفْتَ هَذَا فَنَقُولُ: الدَّعْوَةُ إِلَى الْخَيْرِ جِنْسٌ تَحْتَهُ نَوْعَانِ أَحَدُهُمَا: التَّرْغِيبُ فِي فِعْلِ مَا يَنْبَغِي وَهُوَ بِالْمَعْرُوفِ وَالثَّانِي: التَّرْغِيبُ فِي تَرْكِ مَا لَا يَنْبَغِي وَهُوَ النَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ : ترجمہ:اس آیت میں تین چیزوں کا مکلف بنایا گیا ہے،پہلی:خیر کی دعوت دیناپھر نیکی کا حکم دیناپھربرائی سے روکنا ،جب تو نے اس بات کو جان لیا تو ہم کہتے ہیں کہ دعوت الی الخیر بمنزلہ جنس کے ہے اس کے تحت دو قسمیں ہیں ,اول: جس کا م کو ہونا چاہیئے اس کی ترغیب دینااوروہی معروف (نیکی ہے) دوم:جس کام کو نہیں ہونا چاہیے اس کو چھوڑنے کی رغبت دلانا اور وہی گناہ ہے۔

    2:جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ" تمام مسلمانوں نے نبی کریم علیہ السلام کی بیعت نہیں کی ؟"تو ایسی کوئی بات کسی قطعی دلیل سے ثابت نہیں کہ تمام مسلمانوں نے سرکار دوعالم ﷺکی بیعت کی ہے ،ہاں !یہ الگ بات ہے کہ امتی ہونے کے لحاظ سے حضور علیہ الصلاۃوالسلام پوری امت کے پیر اور امت کا ہر فرد سرکار دوعالمﷺ کےمرید ہے ۔

    اور یہ جو آپ نے سنی مسلمان کی وجہ تسمیہ ذکر کی ہے وہ درست نہیں ہے کیوں کہ سنی سے مراد ہےسنت والے ،نہ کہ سن کر مسلمان ہونے والے ۔اور رہی آپ کی یہ بات کہ "مزید بیعت کی کیا ضرورت ہے؟"تو اس بات کو جانے کے لیئے بیعت اور اس کے احکام کو جاننا چاہیئے ۔

    1: بیعت سے کیا مرا د ہے؟

    لغت میں بیعت کے معنی بیچنے کے ہیں اور اصطلاح صوفیاء میں کسی بزرگ کے ہاتھ پر یہ معاہدہ کرنا کہ میں آئندہ معصیت نہ کروں گا اور تصفیہ قلب کے لیے آپ کی ہدایات پر عمل کروں گا، اور اس کو بیعت کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مرید اپنی مرضی کومرشد صالح کے ہاتھ بیچ دیتاہے۔

    2: کیا فوز وفلاح کے لیئے بیعت ہونا لازمی ہے ؟

    امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۱۷،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:‘‘فلاح دو قسم پر ہے اول:انجام کار رستگاری (یعنی بالاخر نجات و چھٹکارے کا حاصل ہونا )اگر چہ معاذ اللہ سبقت عذاب (عذاب دیئے جانے)کے بعد ہو،یہ عقیدہ اہل سنت میں ہر مسلمان کے لیئے لازم ،اور کسی بیعت و مریدی پر موقوف نہیں ،اس کے واسطے صرف نبی کو مرشد جاننا بس ہے ۔

    دوم:کامل رستگاری کہ بے سبقت عذاب (عذاب دیئے بغیر)دخول جنت ہو ، اس کے دو پہلو ہیں کہ:وقوع یہ مذہب اہل سنت میں محض مشیت الہی پر ہے،اگر چاہے تو ایسی فلاح عطاء فرمائے اگر چہ لاکھوں کبائر کا مرتکب ہو اور چاہے تو ایک گناہ صغیرہ پر گرفت کر لے اگر چہ لاکھوں حسنات رکھتا ہو ،یہ عدل ہے اور وہ فضل ،یغفر لمن یشاء ،یعذب من شیاء(جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے )

    اوروقوع(یعنی دخول جنت )کے لیئے سوا اسلام اور اللہ و رسول کی رحمت کے اور کوئی شرط نہیں (جل وعلیٰ،وﷺ) یعنی انسان کے اعمال و افعال و اقوال و احوال کا ایسے ہونا کہ اگر انہیں پر خاتمہ ہو تو کرم الہی سے امید واثق ہو کہ بلا عذاب داخل جنت ہو ۔

    پھر فلاح دو قسم پر ہے ایک فلاح ظاہر ،دوسرا فلاح باطن :

    یہاں فلاح ظاہر سےیہ مراد نہیں کہ ظاہر احکام شرع سےاپنے آپ کو آراستہ کر لیا اور معاصی سے منزہ کر لیا اور متقی و مفلح بن گئے اگر چہ اس کا باطن ریا ،عجب ،حسد ،کینہ ،تکبر ،حبِ مدح ،حب جاہ،محبت دنیا،طلب شہرت ،تعظیم امراء،تحقیر مساکین ،اتباع شہوات ومداہنت ،خیانت ، غفلت و قسوت ،اتباع شیطان اور بندگی نفس ،تساہل فی اللہ سے گندہ ہو رہا ہو بلکہ فلاح ظاہر یہ کہ دل و بدن دونوں پر جتنے احکام الہیہ ہیں سب بجا لائے ،نہ کسی کبیرہ کا ارتکاب کرے نہ کسی صغیرہ پر مصر رہے(اصرار نہ کرے) ،نفس کے خصائل ذمیمہ اگر دفع نہ ہوں تو ان سے بچے رہیں اور ان پر عمل نہ کریں ،مثلا دل میں بخل ہے تو نفس پر جبر کر کے ہاتھ کشادہ رکھے ،حسد ہے تو محسود کی برائی نہ کرے ۔اور یہی فلاح تقوی ہے اسی سے آدمی متقی ہو جا تا ہے ۔اور فلاح باطن سے یہ مراد ہےکہ قلب و جسم کو رذائل اور گناہوں سے خالی کرکے فضائل سے مزین کرے ۔تو بہر حال اس فلاح کے لیئے ضرور مرشد کی حاجت ہے ۔(ملخصاًو متصرفاً)

    3:کیا بیعت کی کوئی قسم ہے ؟

    سیدی اعلحضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۲۵،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:بیعت بھی دو قسم پر ہے ،اول :بیعت برکت ،دوم بیعت ارادت:

    اول بیعت برکت :یہ صرف تبرک کے لیئے داخل سلسلہ ہوجانا ہے ۔آج کل عام طور پر اسی طور پر بیعتیں ہوتی ہیں یہ بھی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی نیتیں نیک ہوں ورنہ بہت سارے دنیوی اغراض فاسدہ کے لیئے بیعت کرتے ہیں ۔اور اس بیعت برکت کے لیئے شیخ اتصال کافی ہے جو کہ چاروں شرائط کا جامع ہو ۔اوراس بیعت کے بڑے فوائد ہیں کہ دنیا و آخرت میں کار آمد ہیںکہ محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام کا لکھاجانا ،ان سے سلسلہ متصل ہوجانا خود ہی ایک سعادت ہے ،کیونکہ اس میں ان کے خاص غلام سالکان راہ سے مشابہت ہے ۔اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "من تشبہ بقوم فھو منھم"یعنی جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔

    شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اللہ عنہ عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں:‘‘واعلم ان الخرقۃ خرقتان ،خرقۃ الارادۃ ،وخرقۃ التبرک ،والاصل اللذی قصدہ المشایخ للمریدین خرقۃ الارادۃ ، وخرقۃالتبرک تشبہ بخرقۃ الارادۃ ،فخرقۃ الارادۃ للمرید الحقیقی ،وخرقۃ التبرک للمتشبہ ’’ترجمہ:واضح ہو کہ خرقہ(بیعت )دو قسم پر ہے یعنی خرقہ ارادت اور خرقہ تبرک ،اوراصل جس کا مشایخ مرید وں سے قصد کرتے ہیں وہ خرقہ ارادت ہے ،اور خرقہ تبرک تو اس کے مشابہ ہے ،تو حقیقی مریدین کے کے لیئے خرقہ ارادت ہے ،جبکہ مشابہت اختیار کرنے والوں کے لیئے خرقہ تبرک ہے۔

    دوم بیعت ارادت:کہ اہنے ارادہ و اختیار سے یکسر باہر ہوکر اپنے آپ کو مرشد برحق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کردے ،اسےمطلقا اپنا حاکم و متصرف جانے ،اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے اورسلوک کی راہ میں اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے ،اور یہی بیعت سالکین ہے ،یہی مقصود مشایخ ِمرشدین ہے، یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہےاور حضور اقدس ﷺنے صحابہ کرام سے یہی بیعت لی تھی ۔شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۸،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں لکھتے ہیں :ان البیعۃ المتوارثۃ بین الصوفیۃ علی وجوہ ،احدہا ،بیعۃ التوبۃ ،من المعاصی ،والثانی بیعۃ التبرک،فالوفاءبالبیعۃ فیھما ترک الکبائر ، وعدم الاصرار علی الصغائر ،والتمسک بالطاعات المذکورۃ من الواجبات ،والسنن الرواتب ۔ترجمہ:بیشک بیعت جو صوفیاءکے درمیان رائج ہے ،اس کی چند اقسام ہے ،ان میں سے ایک بیعت توبہ ہے گناہوں سے ،اور دوسری بیعت تبرک ہے اور ان دونوں پر پورا اترنا اس طرح ہو گا کہ کبائر سے بچا جائے اور صغائر پر اصرار نہ کیا جائے ،اورطاعات یعنی واجبات و سنن مؤکدہ کی پابندی کی جائے ۔

    4:جو شخص ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا وہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے؟

    دوبارہ بیعت اگر کسی شرعی وجہ سے ہو تو کو ئی حرج نہیں ہے البتہ بلا عذر شرعی ایسا نہیں کرنا چاہیئے ۔جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۹،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں لکھتے ہیں :اعلم ان تکرار البیعت من رسول اللہ ﷺ ماثور و کذالک عن الصوفیۃ ،ولکن من الشخصین فان کان بظھور خلل فی من بایعہ فلا باس وکذالک بعد موتہ ،وغیبۃ المنقطعۃ ،واما بلا عذر فانہ یشبہ متلاعب ،ویذھب بالبرکۃ ،ویصرف قلوب الشیوخ عن تعھدہ ،واللہ تعالی اعلم۔ترجمہ:واضح ہو کہ بیعت کا تکرار رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے اور اسی طرح صوفیاء کرام سے بھی ثابت ہے ،لیکن اگر دو شیوخ سے بیعت کرنا اس سبب سے ہو کہ جس شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان میں کوئی شرعی خلل (یعنی بیعت کے شرائط نہیں پائے جا رہے ،یا بیعت کے وقت تھے اب نہیں ہیں )تو اس صورت میں کسی اور سے بیعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اسی طرح شیخ کا انتقال ہوگیا ہے ،یا شیخ ایسے غائب ہو گئے ہیں کہ ان سے ملنے کی توقع نہیں ہے (تو دوبارہ بیعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے )اور اگر دوبارہ بیعت کرنا کسی شرعی عذر بنیاد پر نہیں ہےتو یہ مرشد سے کھیل کے مشابہ ہے کہ جس کی وجہ سے برکت اٹھ جا تی ہے اور مشائخ کی توجہ اس شخص کی تعلیم و تہذیب سے ہٹ جاتی ہے ۔

    یاد رہے !شاہ صاحب کی عبارت میں جو تکرار بیعت سے منع کیا گیا ہے وہ بیعت ارادت کی صورت میں ہے نہ کہ بیعت برکت میں کیوں کہ برکت کی خاطر بڑے بزگوں کی بیعت کی جا سکتی ہے۔

    5:مرشد کیسا ہونا چاہیئے؟

    امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضاءخان محدث بریلی علیہ الرحمہ(فتاوی افریقہ ،ص:۱۲۳،طبع:مکتبہ نوریہ رضویہ) میں فرماتے ہیں:مرشد بھی دو قسم کا ہے ۔اول : مرشد عام ،دوم :مرشد خاص ۔

    مرشد عام سے مراد کلام اللہ ،کلام الرسول ،کلام ائمہ شریعت و طریقت اور کلام علماء دین ،واہل رشد وہدایت ہے ۔فلاح ِظاہر ہو خواہ فلاح باطن،اس مرشد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے جو شخص ان سے جدا ہے بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ ،اور اس کی عبادت برباد و تباہ ہے ۔

    اور مرشد خاص سے مراد یہ کہ کسی عالم ،سنی ،صحیح العقیدہ ،صحیح الاعمال،جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے ،جس کو پیر و شیخ کہتے ہیں ۔پھر مرشد خاص کی بھی دو قسم ہے ،اول: شیخ اتصال ،دوم:شیخ ایصال ۔

    اول :شیخ اتصال سے مراد یہ ہے کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین ﷺتک متصل ہو جائے ۔

    اور اس کے لیئے چار شرائط ہیں :

    شرط اول:شیخ کاسلسلہ باتصال ِصحیح حضور اقدس ﷺتک پہنچتا ہو بیچ میں منقطع نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اتصال ناممکن ہے ،بعض لوگ بلا بیعت محض بزعم ِوراثت اپنے باپ داد کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں ،یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا ،اس میں فیض نہ رکھا گیا ،لوگ برائےہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں یا سلسلہ فی نفسہ صحیح تھا مگر بیچ میں کوئی شخص واقع ہوا جس میں بیعت کے بعض شرائط نہ تھے تو اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ سے منقطع ہے ،تو ان صورتوں میں اس بیعت سے ہر گز اتصال نہ ہوگا،اور یہ بیل سے دودھ اور بانجھ سے بچہ مانگنے کے مترادف ہے ۔

    شرط دوم :شیخ سنی صحیح العقیدہ ہو بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ ﷺ تک ،آج بہت سارے بد دین بلکہ بے دین اور بد عقیدہ لوگ جو منکر و دشمن اولیاءہیں اور مکاری کے لیئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے ۔

    شرط سوم :عالم ہو ،یعنی علم فقہ اس کی اپنی ضرورت کے مطابق کافی اور لازم ہےکہ عقائد اہل سنت سے پورا واقف ہو ،کفر واسلام اورضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو ،ورنہ آج بد مذہب نہیں تو کل ہو جائے گا ،صد ہا کلمات و حرکات ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے اور جاہل جہالت کی وجہ سے ان میں پڑ جاتے ہیں ،پہلے تو ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان سے قول یا فعل ِ کفر صادر ہوتا ہے اور جب خبر ہی نہ ہو تو توبہ ناممکن ہے لہذا اسیمیں مبتلا رہتے ہیں ،اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیم الطبع جاہل تو ڈر جائے لیکن جو سجادہ نشین ہو اور ہادی و مرشد بن بیٹھا ہو ،اس کے دل میں جو اپنے لیئے عظمت ہوتو وہ کہاں اس کو توبہ قبول کرنے دیگا ،اوراگر کوئی توبہ بھی کرلے لیکن ان کفریات کی وجہ سے بیعت جو فسخ ہوئی ہے تو کسی کے ہاتھ پر بیعت کریگا ؟اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دیگا ؟اگر چہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو ،اس کا نفس ایسا کہاں کر نے دیگا کہ وہ سلسلہ بند کرے اور مرید کرنا چھوڑ دے کیونکہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے !!

    شرط چہارم :فاسق معلن نہ ہو ،اس شرط پر حصول اتصال کا توقف نہیں مگر پیر کی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب ہے تو دونوں کا اجتماع لازم آجائے گا جو کہ باطل ہے (لہذا فاسق معلن کی بیعت کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے)

    اور شیخ ایصال یہ ہے کہ مذکورہ چار شرائط کے ساتھ ،ساتھ وہ مفاسد نفس ،مکا ئد شیطان اور خواہشات کی جال سے خوب آگاہ ہو اور دوسروں کی تربیت کرنا جانتا اور اپنےمرید پر شفقت تام رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کردے ،ان کا علاج بتائے اور جو مشکلات اس راہ میں پیش آئے تو حل کرنا جانتا ہو ،نہ کہ صرف سالک یا مجذوب ہو کہ یہ دونوں پیر نہیں بن سکتے ۔(ملخصاًومتصرفاً)

    شاہ ولی اللہ محدث دہلی علیہ الرحمہ نے (شفاء العلیل مع القول الجمیل فی بیان سواء السبیل،ص:۲۰،طبع:ایچ ایم سعید کمپنی)میں مرشد کے شرائط لکھتے ہیں :علم الکتاب و السنۃ ،ولا ارید المرتبۃ القصوی بل یکفی من علم الکتاب ان یکون قد ضبط تفسیر المدارک او الجلالین او غیرھما ۔ ومن السنۃ ان یکون قد ضبط و حقق مثل کتاب المصبیح وعرف معانیہ ،وانماشرطناالعلم لان الغرض من البیعۃ امرہ بالمعروف و نہیہ عن المنکر و ارشادہ الی تحصیل السکینۃ الباطنۃ وازالۃ الرزائل واکتساب الحمائد ،ثم المسترشد بہ فی کل ذالک فمن لم یکن عالما کیف یتصور منہ ھذا؟ان یکون زھدا فی لدنیا ،راغبا فی الاٰخرۃ ،موظبا علی الطاعات المؤکدۃ ،والاذکار الماثورۃ ،مواظبا علی تعلق القلب باللہ ان یکون اٰمراباالمعروف ناھیا عن المنکر۔وان یکون صحب االمشائخ و تادب بھم دھرا طولا واخذ منھم النورالباطن والسکینۃ۔(ملخصاً):ترجمہ:قران و سنت کا علم ہواور اس سے میری مراد یہ نہیں کہ انتہائی اعلی درجے کا عالم ہو بلکہ قرآن کا علم رکھتا ہو کہ کم ازکم وہ تفسیر مدارک یا جلالین یا ان کے علاوہ کا علم رکھتا ہو ۔اور سنت سے اتنا علم رکھتا ہو کہ وہ مشکاۃ المصابیح کو پڑھ اور سمجھ سکتا ہو ،اس کے معانی کو جانتا ہو ،اور ہم نے علم کی شرط اس لیئے لگائی ہے کہ بیعت کرنے کا مقصد دوسروں کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے ،باطنی سکون کے حصول کی رہنمائی کرنا ،رذائل کو دور کرنا ،اچھی چیزوں کو حاصل کرنا ہے۔توپھر ایسےپیر سے ان تمام چیزوں میں رہنمائی حاصل کرنا جوخودعلم نہ رکھتا ہو تو کیسے وہ ان چیزوں کی طرف رہنمائی کریگا ؟اور یہ کہ دنیا سے کنارہ کشی کرتا ،آخرت میں رغبت رکھتا ہو،جن عبادات کی ترغیب دی گئی ہے ان پر کاربند رہتا،اذکار ماثورہ پر ہمیشگی کرتا ہواوراس کا دل اللہ کی طرف مائل ہو۔اور یہ کہ وہ نیکی کا حکم دینے ،برائی سے روکھنے والاہو ۔اور اس نے مشائخ کی صحبت اختیار کی ہو اور ایک طویل عرصے تک ان سے ادب سیکھا ہو اور ان سے باطنی نور اور سکون حاصل کیا ہو ۔

    واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب۔

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنہن مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03صفرالمظفر 1440 ھ/03اکتوبر 2019ء