نذر غیر لازم کا حکم
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 464

    سوال

    عرض یہ ہے کہ چند برس پہلے میں نے ایک گاڑی خریدی تھی مگر ڈیلر نے دھوکہ دیا ،گاڑی نہیں ملی اور 4لاکھ بھی واپس نہیں ملے ، اب اللہ کے کرم سے قرضہ چھٹکارہ حاصل ہوا ہے اور اس سے پہلے میں سوچا تھا کہ قرضہ سے چھٹکارہ ملے گا تو میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیئے جاؤں گی ،ابھی صرف 2افراد کے عمرہ کی ادا ئیگی کی رقم جمع ہو پائی ہے اور میری ساس ضعیف ہیں ان کو چھوڑ کر بھی میں نہیں جا سکتی ۔

    آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیئے شرعا کیا حکم ہے ؟اور میں اس رقم کو کسی اور استعمال میں لا سکتی ہوں ؟

    سائل:شاہد پروین ،لاہور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ؛

    اگر آپ نے صرف یہ سوچاتھا کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد عمرے کے لیئے جائینگے تواس سے آپ پر عمرے کی ادائیگی لازم نہیں ہے، اور آپ کی ساس کی نگداشت کے لیئے آپ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے توعمرے کی ادائیگی میں تاخیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ باعث ثواب ہے اور ان پیسوں کو دیگر مصارف میں خرچ کر سکتی ہیں ۔

    بدائع الصنائع(کتاب النذر،ج:۵،ص:۸۱،طبع:دارالکتب العلمیہ،بیروت)میں ہے۔

    فَرُكْنُ النَّذْرِ هُوَ الصِّيغَةُ الدَّالَّةُ عَلَيْهِ وَهُوَ قَوْلُهُ: " لِلَّهِ عَزَّ شَأْنُهُ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ هَذَا هَدْيٌ، أَوْ صَدَقَةٌ، أَوْ مَالِي صَدَقَةٌ، أَوْ مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ، وَنَحْوُ ذَلِكَ.ترجمہ:نذر کا رکن یہ ہے کہ اس کے لیئے ایسے لفظ کا ہوناضروری ہے جو نذر پر دلالت کرے ،جیسے کوئی کہے اللہ عزوجل کے لیئے مجھ پر اس طرح کرنا لازم ہے یا میں اس طرح کروں گا یا یہ میری طرف سے ہدیہ ہے یا صدقہ ہے یا کہے میرا مال صدقہ ہے یا کہے میں جس چیز کا مالک بنا وہ صدقہ ہے وغیرہ ، وغیرہ،

    واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28جمادی الاخری 1440 ھ/05مارچ 2019ء