شرعی ضرورت کے موقع پر حیلہ شرعی

    sharai zaroorat ke mauqe par heela-e-sharai

    تاریخ: 16 جون، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1469

    سوال

    السلام علیکم !

    جناب مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ

    1:۔ کیا زکوۃ کی رقم حیلہ کرکے مسجد میں لگا سکتے ہیں ؟

    2:۔کویئی شخص زکوۃ کا مستحق ہو اور وہ زکوۃ لے کر اپنی مرضی سے وہ رقم مسجد میں دیں تو وہ مسجد میں لگ سکتی ہے؟

    3:۔ اگر کسی مسجد کی آمدنی نہ ہو اور وہ مسجد بہت غریب علاقے میں ہو تو کویئی شخص زکوۃ لے کر مسجد میں لگا سکتا ہے؟ برائے مہربانی انکا جواب تحریر فرمادیں۔

    سائل: محمد اسلم شاہ (ناظم اعلیٰ جامعۃ المصطفی رضویہ ٹرسٹ )


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔2:۔جواب سے پہلے ایک بات ضروری سمجھیں کہ حیلہ کا معنی عرفِ عام میں دھوکہ دہی سمجھا جاتا ہے لیکن اصطلاحِ شرع میں حیلہ سے مراد شرعی تدبیر ہے۔ آپ کے مکمل سوال کا جواب یہ ہے کہ شرعی ضرورت کے موقعہ پر حیلہ شرعی میں کوئی حرج نہیں۔ ۔ مثلاً ایک مسجد زیر تعمیر ہے۔ اور کوئی شخص اس کی تعمیر میں حصہ لینا چاہتا ہے تاکہ اس کی تعمیر جلد مکمل ہو جائے لیکن اس کے پاس مالِ زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور رقم لگانے کی گنجائش نہیں تو اس شخص کے لئے جائز ہے کہ حیلہ شرعی کے ذریعہ وہ مال مسجد پر خرچ کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ سے واقف شخص کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے۔ پھر وہ شخص مسجد و ہی رقم زکوٰۃ دینے والے کو یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر واپس کردے کہ آپ اسے مسجد پر صرف کر دیں یا وہ شخص خود مسجد پر وہ رقم خرچ کر دے۔تو ایسا کرنا شرعا جائز ہے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے جس کو زکوۃ دی جائے اسکو مالک بنانا شرط ہے ۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار باب مصرف الزکوۃ جلد 2ص344میں ہے وَیُشْتَرَطُ أَنْ یَکُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِیکًا) لَا إبَاحَۃً کَمَا مَرَّ:ترجمہ: اور زکوۃ میں مالک بنانا شرط ہے ،اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے جیسا کہ گزرا۔

    پھر جب زکوۃ دیکر کسی کو اسکا مالک بنادیا جائے اور اب وہ زکوۃ کی رقم جواسکو دی گئی تھی اپنی مرضی سے یا کسی کی ترغیب سے کسی نیک کام میں خرچ کرے تو یہ اسکی طرف سے ہوگی ،اب اسکو زکوۃ نہیں کہیں گے کیونکہ دوسرے شخص کی ملک میں جانے سے اس کا حکم بدل گیا۔اسکی اصل یہ حدیث پاک ہے صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ،الحدیث نمبر 1075میں ہے :عَنْ عَائِشَۃَ، وَأُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِیلَ: ہَذَا مَا تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِیرَۃَ، فَقَالَ: ہُوَ لَہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ:ترجمہ:اُمّ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے رِوایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ و سلَّم کی خدمت میں گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی، یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صَدَقہ ہوا تھا۔فرمایا ۔ ہُوَ لَہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ یعنی یہ بریرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرتِ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو کہ صَدَقہ کی حقدارتھیں ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہواگوشت اگر چہ ان کے حق میں صَدَقہ ہی تھا مگر ان کی ملک میں آنے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صدقہ نہیں رہا ۔اسی طرح اگر کوئی مستحق شَخص زکوٰۃاپنی ملک میں لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے یا مسجِد کیلئے پیش کر ے تو یہ اس کے لئے جائز بلکہ کارِ ثواب ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ،بلکہ ا سکی طرف سے صدقہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔

    اسکا طریقہ یہ ہے کہ کسی شرعی فقیر کو زکوٰۃ کا مالک بنادیں پھر وہ خود یا کسی کے مشورے سے اپنی طرف سے کسی نیک کام میںمثلا مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرنے کے لئے دے دے ۔

    فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445میں ہےوَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ :ترجمہ: اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر پر صرف کرے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔

    3:۔اس صورت میں شرعی ضرورت کے موقعہ پر حیلہ شرعی کرکے لگا سکتے ہیں ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 جمادی الثانی 1439ھ13 مارچ 2018ع