وراثت کا مسئلہ تین بھائی پانچ بہنیں

    warasat ka masla teen bhai paanch behnein

    تاریخ: 12 مئی، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 1328

    سوال

    عرض یہ ہے کہ میں حیدر آباد میں رہتا ہوں ،ہمارا ایک مکان تھا جو سیل کردیا اور وہ ایک کروڑ دس لاکھ میں سیل ہوا ہم تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں والد اور والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ،مکان انکا تھا ، آپ اسلام کی روشنی میں مجھے بتائیں کہ میری بہنوں کے حصے میں کتنے روپے آئیں گے اور بھائیوں کے حصے میں کتنے ، تاکہ بہنوں کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو۔شکریہ

    سائل عبد الغفار


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں توکل مال کے 11 حصے کیے جائیں گےجس میں سے ہربھائی یعنی میت کے ہر بیٹے کو 2 حصے اور ہر بہن یعنی میت کی ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا ،اس طرح ہر بھائی کو 20 لاکھ اور ہر بہن کو 10 لاکھ ملیں گے

    قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی