وراثت کا مسئلہ پانچ بیٹے تین بیٹیاں

    warasat ka masla paanch bete teen betiyan

    تاریخ: 12 مئی، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 1324

    سوال

    ولی محمد کا انتقال 2017۔12۔14 کو ہوا ، انکے ورثاء میں درج ذیل لوگ ہیں ،

    5 بیٹے ( راشد،یاسین،محسن،عمران،اور شاہد) اور 3 بیٹیاں ہیں (طاہرہ بانو،ثناء بانو،ثوبیہ بانو) جبکہ انکی زوجہ کا انتقال انکے وفات سے پہلے ہوگیا تھا اسی طرح انکے ایک بیٹے شاہد کا انتقال بھی ان کی وفات سے پہلے ہوگیا تھا ۔ انکے وراثت میں دوگھر جن کی مالیت 20 لاکھ ہے،اور 429600کیش کی صورت میں اور ان کے چھوڑا ہوا گھریلو سامان کی مالیت تقریبا 1 لاکھ روپے ہے ،ان کے ذمے 80 ہزار قرض ہے جو ادا کرنا ہے اور 65 ہزار قرض لینا ہے،تجہیز و تکفین اور واجب الاداء یوٹیلیٹی بلز 66458 روپے ہیں ، تمام اخراجات کے بعد ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا ، رہنمائی فرمادیں۔

    سائل: محمد یاسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے ترکہ سے اسکی تجہیز و تکفین کی جاتی ہے اسکے بعد اگر اس کے ذمہ کسی کا قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی کی جاتی ہے پھر اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہو یا وارث کے لیے کی ہو اور ورثاء اس وصیت کو جائز قرار دیں تو اس کے کل مال کے تہائی سے اس وصیت کو پورا کیا جاتا ہے اسکے بعد جومال بچے وہ ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق شرعی طور پر تقسیم کیا جاتا ہے ۔

    السراجی فی المیراث ص 5پر ہےقال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔

    مذکورہ صورت میں بھی میت کی تجہیز و تکفین اور قرض کی رقم منہا کرکے جو باقی بچے وہ اور جو قرض لینا ہے وہ تمام ملا کر اسکو ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا ، اس طرح کہ کل وراثت کے 11 حصے کئے جائیں گے ، جس میں سے ہر بھائی 2 حصے اور ہر بہن کو 1 حصہ ملے گا قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    اور جو ورثاء میت کے انتقال سے پہلے وفات پا گئے انکا وراثت میں حصہ نہیں ہے ،کیونکہ وراثت زندہ وارثوں کا حق ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی