وراثت کا مسئلہ ایک بیوی چار بیٹے دو بیٹی

    warasat ka masla aik biwi chaar bete do beti

    تاریخ: 12 مئی، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1326

    سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ میرے داد عبد الغفار کا 1982ء میں انتقال ہوا تھا ،ان کی وفات کے وقت ان کی ایک بیوی جو ہماری دادی ہیں کنیز فاطمہ اور 4بیٹے (اسرار احمد، نثار احمد، نور احمد اور فرید احمد) اور 2بیٹیاں (رضوانہ بیگم اور رخسانہ بیگم ) تھیں ۔ ان کے ترکے میں ایک مکان تھا ۔ان کی وفات کے بعد سب لوگوں نے مکان دادی کے نام ٹرانفسر کروادیا اسکے بعد 1995 میں میرے والد اسرار احمد کا انتقال ہوگیا ،اس وقت ہم اپنے والد کے تین بیٹے ایک بیٹی اور ہماری والدہ موجود تھیں،پھر 2007 میں میری دادی کا انتقال ہوگیا ، اس کے بعد 2009 میں پھپو رضوانہ بیگم کا انتقال ہوگیا ، اب جولوگ موجود ہیں ان میں دادی کی ایک بیٹی رخسانہ بیگم اور تین بیٹے (نثار احمد، نور احمد اور فرید احمد) ہیں ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے والد کا جائیداد میں حصہ ہوگا یا نہیں ،او رباقی لوگوں کا کتنا حصہ ہوگا۔؟

    سائل: سعد یوسف


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور اور تو داد کی وفات کے بعد مکان کا مالک دادی کو بنا دیا گیا تھا اور داد کی جائیداد تقسیم نہیں کی گئی تھی لہذا اب دادی مکان کی مالک تھیں ، لیکن آپ کے والد کا انتقال دادی کے انتقال سے پہلے ہوا اس لیے آپ کے والد کا دادی کی جائیدد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، کیونکہ وراثت میں سے حصہ میت کے زندہ ورثاء کو ملتا ہے ، جب کے آپکے والد اس وقت حیات نہیں تھے ، اور اس لیے بھی کہ میراث یعنی وراثت کا اصول ہے کہ قریبی رشتے دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار کو نہیں ملتا ، لھذا جب اس میت کی اولاد یعنی سگے بیٹے موجود ہیں ان کی موجودگی میں پوتے یا پوتی کو اسکی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔

    چناچہ السراجی فی المیراث ص36میں ہے''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا'' (السراجی فی المیراث ص36)ترجمہ: میت کی وراثت کے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوںتو)اسکے بعد پوتے ۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ'':ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔

    لہذا اب دادی کی وفات کے وقت جو جو لوگ موجود تھے وراثت ان میں تقسیم ہوجائے گی ، اس طرح کہ کل وراثت کے 112 حصے کیے جائیں گے جس میں ہے ہر بیٹے کو یعنی نثار احمد، نور احمد اور فرید احمد کو 30،30 حصے ملیں گے اور بیٹی رخسانہ بیگم کو 15 حصے اور رضوانہ بیگم کے شوہر زاہد احمد کو 7 حصے ملیں گے ۔ اس طرح کل وراثت کی تقسیم ہوگی ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی