warasat ka masla teen bhai chaar behnein
سوال
عرض یہ ہے کہ ہمارا ایک وراثتی مکان ہے،جو میرے والد کی ملکیت تھا انکی وفات 1990میں ہوگئی تھی پھر ان کی وفات کے دوسال بعد 1992میں ہماری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ، اب وہ مکان پچھتر لاکھ 7500000 میں فروخت ہوا ہے، اس میں سے ایک لاکھ روپے اخراجات یعنی مکان کے کاغذات کی ڈاکو مینٹس وغیرہ کی مد میں الگ کر دیے ہیں، بقایا چوہتر لاکھ میں سے ہمارا کتنا حصہ ہوگا ، ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ، برائے مہربانی ہمیں بتادیں۔
سائل: محمد شہزاد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہوا تو مکان کے کاغذات کے اخراجات نکال کر بقیہ رقم کے کل 10 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ہر بھائی کو 2،2 حصے یعنی 1480000 روپے اور ہر بہن کو 1،1 حصہ یعنی 740000 روپے ملیں گے اس طرح کل رقم ان کے مابین تقسیم ہوجائے گی۔
قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
سراجی ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی