warasat ka masla do bete aur chaar betiyan
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد فیاض کا انتقال ہوا ، اسکے ورثاء میں 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں ،اور ان کے ترکے میں 1 مکان ،1پلاٹ اور 5 ایکڑ زمین ہے ۔ بیٹیوں میں سے 3 بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ہم سب بہنوں کو صرف پلاٹ دے دو باقی جائیداد میں سے ہمیں کچھ نہیں چاہیے ،ہمارے بھائیوں نے ہمیں پالا ہے جبکہ ہم چھوٹے چھوٹے تھے اور ہماری والدہ نہیں تھی ، اسلیے ہم سب بہنیں صرف اور صرف پلاٹ لیں گی بقیہ جائیداد میں سے کچھ نہیں لیں گی۔لیکن ایک بہن اس بات پر راضی نہیں ہے اسکا کہنا ہے کہ مجھے گھر ،پلاٹ اور زمیں سب میں سے حصہ چاہیے جو میرا بنتا ہے وہ مجھے دو ،اب آپ سے سوال یہ ہے کہ اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی ۔
سائل : محمد فاروق خانزادہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو جو بہنیں اس بات پر راضی ہیں کہ کہ ہمیں صرف پلاٹ دے دو باقی جائیداد میں سے ہمیں کچھ نہیں چاہیے، تو ان کا ایسا کرنا ازروئے شرع جائز ہے ،اسکو اصطلاح شرع میں تخارج کہتے ہیں ۔
شامی کتاب الفرائض باب المخارج جلد 6ص811 میں ہے،التخارج تَفَاعُلٌ مِنْ الْخُرُوجِ وَهُوَ فِي الِاصْطِلَاحِ تَصَالُحُ الْوَرَثَةِ عَلَى إخْرَاجِ بَعْضِهِمْ عَنْ الْمِيرَاثِ عَلَى شَيْءٍ مِنْ التَّرِكَةِ عَيْنٍ أَوْ دَيْنٍ:ترجمہ:تخارج باب تفاعل سے ہے خروج سے نکلا ہے اور اصطلاح شرع میں ورثاء میں سے بعض ورثاء کا کسی چیز پر صلح کرکے باقی وراثت سے خود کو دستبردار کرلینے کا نام تخارج ہے ۔
اور اگر یہ سب بہنیں بھائیو ں کے احسان کی وجہ سے ایسا کر رہی ہیں تو اس پر ثواب بھی ملے گا ، قال اللہ تعالیٰ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ، فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( الرحمان : 60،61)
ترجمہ: احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ، توتم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔
اور جو بہن اس بات پر راضی نہیں بلکہ اپنے حصے کی طلبگار ہے تو انکو انکا حصہ دینا واجب ہے کیونکہ میراث شریعت کا حق ہے ، کسی پر جبر اور زبردستی کے ذریعے معاف نہیں کرایا جاسکتا ۔
شامی باب کفارۃ الظہار ج3ص474 میں ہےلِأَنَّ الْإِرْثَ جَبْرِيٌّ لا یسقط بحال الا ان یکون الوارث راضیا :ترجمہ:کیونکہ وراثت ایک جبری چیز ہے کسی صورت میں ساقط نہیں ہوسکتی مگر جبکہ وارث خود راضہ ہو تو اسکے حق میں سے ساقط ہوجائے گی ۔
لہذا اب بہنوں کو وہ پلاٹ دے کر بقیہ وراثت کے کل 5 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ایک حصہ اس بہن کو ملے گا ، جو راضی نہیں ہے اور دو دو حصہ ہر بھائی کو ملیں گے ۔
لیکن یاد رہےکہ ان تین بہنوں کے علاوہ جو پلاٹ لینے پر راضی ہوچکی ہیں اب کسی بھی بھائی اور بہن کا پلاٹ میں کوئی حصہ باقی نہیں رہا ، اب باقی ایک بہن اور دو بھائیوں کو جو ملے گا وہ زمین اور گھر میں سے ملے گا۔
اسکا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد یعنی گھر اور زمینوں میں سے ہر ایک کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ بہن کو دے دیا جائے ۔ لیکن اگر گھر یا زمین میں سے حصہ یعنی اس گھر اور زمین میں جگہ دینے کے لئے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو اب طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد بشمول گھر اور زمینیں انکی قیمت لگوائی جائے اور اس قیمت کو پانچ پر تقسیم کیاجائے جو جواب آئے وہ اس بہن کا حصہ ہے اسکو دے دیا جائےجو اپنے حصے کا تقاضا کررہی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: مفتی محمد عمران شامی