سوال
میرا نام اعجاز میر ہے۔جب میری شادی نہیں ہوئی تھی تو ایک لوکٹ سیٹ (سونے) کا میں نے اپنی والدہ کو دیا تھا تو میری والدہ نے کہا تھا کہ تمہاری شادی ہوگی تو پھر تمہاری بیوی کو دوں گی۔ پھر جب میری شادی ہوئی تو لوکٹ سیٹ (سونے) میں نے امی سے نہیں مانگا ۔ لیکن میری والدہ نے کہا کہ تمہاری بیٹی ہوئی تو میرے مرنے کے بعد اپنی بیٹی کو دینا۔ میری والدہ کی وفات ہوگئی۔ ہم 5بھائی ہیں اور بھائی کہتے ہیں کہ اس لوکٹ سیٹ (سونے) کا بھی حصہ ہم پانچ میں برابر تقسیم ہوگا یا پھر کسی مولانا سے فتوی لے کر آؤ کہ یہ صرف آپ کی چیز ہے۔
نوٹ: سائل کے مطابق انہوں نے یہ لوکٹ والدہ کو محض رکھنے کیلئے دیا تھا تحفہ کی نیت نہیں تھی۔
سائل:اعجاز میر،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت مطہرہ کا ضابطہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی شے کسی کو دی تو اس شے کی حیثیت سے متعلق اعتباردینے والے کے قول کا ہوگا، یعنی شے بطور قرض دی یا بطور عاریت دی یا بطور تحفہ حتی کہ زبان سے قرض کہا لیکن دل میں زکوۃ کی نیت کی تو نیت کا اعتبار ہوگا، یہاں لینے والے کے سمجھنے کا کچھ اعتبار نہیں۔چنانچہ پوچھی گئی صورت میں لوکٹ دینے والے یعنی سائل کے قول کا اعتبار ہوگا یعنی یہ لوکٹ بغرض حفاظت دیا گیا نہ کہ بغرض تحفہ اور معلوم بات ہے کہ کسی کو امانت رکھوانے سے شے امانت دار کی ملکیت نہیں ہوجاتی ،پس جب لوکٹ والدہ کی ملک نہیں تو ورثاء کا اس لوکٹ میں حصے کا مطالبہ بھی جائز نہیں کہ ورثاء صرف اسی کے حقدار ہوتے ہیں جو مورث (جس کی وراثت تقسیم ہو) کی ملکیت ہو۔
دلائل و جزئیات:
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’پھر اس میں اعتبار صرف نیّت کا ہے اگر چہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے ، مثلاً دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔شامی میں ہے: لااعتبارللتسمیۃفلوسماھا ھبۃاوقرضا تجزیہ فی الاصح. ترجمہ:نام لینے کا اعتبار نہیں ، اگر کسی نے اس مال کو ہبہ یا قر ض کہہ دیا تب بھی اصح قول کے مطابق زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔پھر نیت بھی صرف دینے والے کی ہے لینے والا کچھ سمجھ کرلے اس کا علم اصلاً معتبر نہیں، فی غمزالعیون العبرۃلنیۃ الدافع لالعلم المدفوع.ترجمہ:غمزالعیون میں ہے کہ اعتبار دینے والے کی نیّت کا ہے نہ کہ اس کے علم کا جسے زکوٰۃ دی جارہی ہے۔ ولہٰذااگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کر کے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس کے دل میں یہ نیّت تھی میں زکوٰۃ دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہوجائیگی ۔ اسی طرح اگر کوئی ڈالی لایا رمضان مبارک میں سحری کو جگانے والا عید کا انعام لینے آیا یا کسی شخص نے دوست کے آنے یا اور کسی خوشی کا مژدہ سنایا اس نے دل میں زکوٰۃ کا قصد کر کے ان لوگوں کو کچھ دیا ، یہ دینا بھی زکوٰۃ ہی ٹہرے گا، اگر چہ ان کے ظاہر میں ڈ الی لانے یا سحری کو جگانے یا خوشخبری کو سنانے کا انعام تھا ، اور انہوں نے اپنی دانست میں یہی جان کرلیا۔خلاصۃالفتاوٰی و خزانۃالمفتین وغیر ھما معتبرات میں ہے : لودفع علیٰ صبیان اقاربہ دراھم فی ایام العید یعنی عیدی بنیّۃالزکوٰۃ اودفع الیٰ من یبشرہ بقدوم صدیق او یخبرہ بخبر او یھدی الیہ الباکورۃ او الی الطبال یعنی سحر خواں او الی المعلم بنیّۃ الزکوٰۃ جائز.ترجمہ:اگر کسی نے ایامِ عید میں اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو نیّت زکوٰۃسے عیدی دیدی یا اس شخص کو جس نے اس کے دوست کی آمد کی اطلاع دی یا کوئی خوشی والی خبر دی یا کسی کو عید مبارک پر دی یا سحری کے وقت بیدار کرنے والوں یا استاد کودی تو زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔(فتاوی رضویہ،10/66-67،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اس قسم کے مسائل سے متعلق فقہی ضابطہ بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلاً ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلاً کہے میں نے قرضاً دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں، مداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے: القول قول الدافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع.ترجمہ: دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(فتاوی رضویہ،16/96،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
امام اہلسنت رحمہ اللہ اس ضابطے کی تفریعات پیش کرتے ہیں کہ:’’فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح میں ہے : دفع الٰی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الدراھم.ترجمہ:ایک نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کرلئے، دراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہے،تو دینے والے کی بات معتبر ہوگی۔جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے: صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک.ترجمہ:دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے۔وہیں ہے: دفع الٰی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک.ترجمہ:بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے۔وہیں ہے: یصدق المملک لانہ اعرف فقول العالم اولٰی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا.ترجمہ:مالک بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولٰی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الّایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے۔ہدایہ میں ہے: (من بعث الٰی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ) لانہ ھوالمملک فکان اعرف بجہۃ التملیک کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل) فان القول قولھا او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃالخ.ترجمہ:جس نے بیوی کو کوئی چیز بھیجی تو بیوی نے کہا یہ ہدیہ ہے اور خاوند نے کہا یہ مہر میں شمار ہے، توخاوند کی بات معتبر ہے کیونکہ وہ مالک بنانے والا ہے تو وہی تملیک کی وجہ کو بہتر جانتا ہے اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ظاہریہ ہے کہ خاوند اپنے ذمہ واجب کی ادائیگی میں کوشاں ہے ہاں کھائی جانیوالی چیز میں یہ بات ظاہر نہیں کیونکہ اس میں بیوی کی بات معتبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز کھانے کے لئے مہیا کی گئی ہو کیونکہ عرفاً ایسی چیز ہدیہ قرار پاتی ہے الخ۔فتح القدیر میں ہے: والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذٰلک کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ.ترجمہ: ہمارے دیار میں گندم، بادام، آٹا، شکر، زندہ بکری، اس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کی، خاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے۔نہر الفائق میں ہے: وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف.ترجمہ: مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے۔حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے: ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر.ترجمہ: مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے۔ردالمحتار میں ہے: کذامایعطیھا من ذٰلک اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبیحۃ فان کل ذٰلک تعورف فی زمانھا کونہ ھدیۃ.ترجمہ: یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔ (فتاوی رضویہ،16/97-98،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اور مقام پر امام اہلسنت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ والد نے اپنے بیٹے کا نکاح کیا اور نکاح سے قبل رواج کے مطابق لڑکی کو زیورات دیے۔ رخصتی سے پہلے والد کا انتقال ہوگیا۔آیا یہ زیورات انتقال یافتہ والد کی ملک میں واپس ہونگے یا نہیں؟ خصوصاً جب کہ ان کے ہاں یہ رواج ہے کہ زیورات عاریتاً دیے جاتے ہیں اور رخصتی کے بعد واپس لے لیے جاتے ہوں تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا کہ:’’صورتِ مستفسرہ میں اُس کی واپسی ضروری ہے، لانہ لاھبۃ نصاولادلالۃ ولواشترک العرف لم یدل علی التملیک وکان الدافع ادری بجھۃالدفع۔ واﷲ تعالٰی اعلم.یعنی اس لئے کہ یہ نہ تو صراحۃً ہبہ ہے اور نہ ہی دلالۃً، اور اگر عرف مشترک ہوتو تملیک پر دلالت نہیں کرتا اور دینے والا دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے۔(فتاوی رضویہ،12/258-259،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)
اسی بارےمیں ایک اورمقام پرارشادفرماتےہیں:”ارث متعلق نہ شود جز بترکہ وترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملک اوست.یعنی میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شے کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔(فتاوی رضویہ،26/109،رضافاؤنڈیشن،لاھور)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدن
تاریخ اجراء29:ربیع الاول 1446 ھ/4اکتوبر 2024ء