موطوءہ کی بیٹی سے نکاح کا حکم
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 836

    سوال

    زید کسی عورت سے زنا کرلے یا شہوت سے کسی عضو کو چھو لے اس کے اس فعل کے بعد زید اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرلیا ہے ، کیا زید کا اس عورت کی بیٹی سےنکاح کرنا شرعاََ جائز ہے یا نہیں؟ کیا متارکہ کے بعد بیوی پر عدت گزارنا لازم ہے یا نہیں؟سائل: عبد الرحمان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مذکور ہوا توزید نے جس عورت سے زنا کیا یا شہوت سے چھوا ،اس کے اصول و فروع یعنی اولاد اور ماں باپ وغیرہ سب کے سب زید کے لیے حرام ہوگئے ہیں ، اب اسکےاصول و فروع سے زید نکاح نہیں کرسکتا ۔

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق فصل فی المحرمات جلد 2ص109 میں ہے(وَالزِّنَا وَاللَّمْسُ وَالنَّظَرُ بِشَهْوَةٍ يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ).ترجمہ: زنا سے ،شہوت سے دیکھنے سے اور چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔

    تو جب زید نے مذکورہ عورت سے زنا کیا یا شہوت سے چھوا تو حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی جسکی وجہ سے اب زید پر اس عورت کے اصول و فروع حرام ہوگئے،

    مبسوط للسرخسی کتاب النکاح ج 4ص228,229میں ہے۔وَإِذَا وَطِءَ الرَّجُلُ امْرَأَۃً بِمِلْکِ یَمِینٍ أَوْ نِکَاحٍ أَوْ فُجُورٍ یَحْرُمُ عَلَیْہِ أُمُّہَا وَابْنَتُہَا وَتَحْرُمُ ہِیَ عَلَی آبَائِہِ وَأَبْنَائِہِ .ترجمہ: کسی مرد نے عورت سے ملک (رقبہ) کی وجہ سے، یا نکاح کی وجہ سے ،یا زنا کے سبب وطی کی تو اس مرد پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجاتی ہے یوں ہی یہ عورت اس مرد کے آباء (باپ،دادا وغیرہ) اور ابناء( بیٹا ،پوتا وغیرہ) پر حرام ہو جاتی ہے۔

    یوں ہی فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات جلد 3ص224میں ہے .وَقَدْ رُوِيَ فِي الْغَايَةِ السَّمْعَانِيَّةِ حَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ عَنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «مَنْ نَظَرَ إلَى فَرْجِ امْرَأَةٍ بِشَهْوَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَابْنَتُهَا».ترجمہ:غایۃ السمعانیہ میں ام ہانی ڑضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی عورت کی شرمگاہ کو شہوت سے دیکھا اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوگئی۔

    پھر صورت مسئولہ میں زید نے مزنیہ کی بیٹی سے نکاح بھی کرلیا ، یہ نکاح ،نکاح فاسد ہوا ، ان کے درمیان جو معاملات ہوئے وہ حرام محض ہوئے ، اور ایسا شخص اللہ کریم کی رحمت سے دور ہے،اور بروز قیامت اللہ تعالیٰ اکی طرف نظر رحمت نہ کرے گا۔

    مصنف عبد الرزاق باب جمع بین ذوات الارحام جلد 7ص193 میں ہے.«مَلْعُونٌ مَنْ نَظَرَ إِلَى فَرْجِ امْرَأَةٍ وَابْنَتِهَا»ترجمہ: ملعون ہے وہ جوکسی عورت اور اس کی بیٹی دونوں کی فرج دیکھے۔

    اسی طرح عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں(مصنف عبد الرزاق جلد 16ص517میں ) حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی: من نظر الٰی فرج امرأۃ وبنتھا لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیامۃ .ترجمہ: جو کسی عورت اور اس کی دختر دونوں کی فرج دیکھے اللہ تعالٰی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ کرے۔

    لہذا یہاں ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں ،اور اللہ کریم کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں ، لیکن یہ فرقت فسخ نکاح ہے اور یہاں متارکہ لازم ہے کیونکہ متارکہ وہاں ہوتا ہے جہاں نکاح فاسد ہوجائے ،اور یہ نکاح بھی نکاح فاسد ہےاور متارکہ یہ ہے کہ زوج عورت سے کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا وغیرہ

    شامی کتاب النکاح باب نکاح الفاسد جلد 3 ص133 میں ہے.فِي الْبَزَّازِيَّةِ: الْمُتَارَكَةُ فِي الْفَاسِدِ بَعْدَ الدُّخُولِ لَا تَكُونُ إلَّا بِالْقَوْلِ كَخَلَّيْتُ سَبِيلَك أَوْ تَرَكْتُك وَمُجَرَّدُ إنْكَارِ النِّكَاحِ لَا يَكُونُ مُتَارَكَةً.ترجمہ:فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ نکاح فاسد میں دخول کے بعد متارکہ قول کے ذریعے ہوگا جیسے شوہر کہے کہ میں نے تیرا راستہ چھوڑا،یا تجھے چھوڑا، صرف نکاح کا انکار کردینا متارکہ نہیں ہے۔

    البحر الرائق کتاب النکاح جلد 3ص 247 میں ہے .وَقَدَّمْنَا أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي الْفَاسِدِ مِنْ تَفْرِيقِ الْقَاضِي أَوْ الْمُتَارَكَةِ بِالْقَوْلِ فِي الْمَدْخُولَةِ، وَفِي غَيْرِهَا يَكْتَفِي بِالْمُفَارَقَةِ بِالْأَبْدَانِ.ترجمہ: اور پہلے گزرا کہ نکاح فاسد میں قاضی کی تفریق یا قول کے ذریعے متارکہ لازم ہے ،یہ مدخولہ کا معاملہ ہے جبکہ غیر مدخولہ میں محض دونوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا کافی ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں '' اس حرمت کے پیدا ہونے کے سبب مرد و زن کو جدا ہوجانا اور اس نکاح فاسد شدہ کا فسخ کردینا فرض ہوجاتا ہے ،مگر خود بخود نکاح زائل نہیں ہوجاتا یہاں تک کہ شوہر جب تک کہ متارکہ نہ کرے اور بعد متارکہ کہ عدت نہ گزرے عورت کو روا نہیں کہ دوسرے سے نکاح کرے اور قبل متارکہ شوہر کا اس سے وطی کرنا حرام ہوتا ہے مگر زنا نہیں کہ نکاح باقی ہے ''واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد احمد امين نوري قادرري

    الجـــــواب صحــــيـح:مفتی محمد عمران شامی

    تاريخ اجراء: 11 مئی2018م،24 شعبان 1439