سوال
عرض یہ ہے کہ میں نے کورٹ میرج کی یعنی کورٹ کے ذریعے نکاح کیا لیکن رخصتی نہیں ہوئی صرف نکاح ہوا تھا ، نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں بمع حق مہر ہوا ۔ لڑکی اورلڑکا دونوں صدیقی ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کا کفو ہیں ۔ اب دونوں کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ نکاح دوبارہ سب کے سامنے کرو تاکہ بدنامی کا باعث نہ بنے ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ میں اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہوں ؟ شریعت میں اسکا کیا حکم ہے؟ سائل: طلحہ سیف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا تو یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے کیونکہ جب لڑکی اور لڑکے کے درمیان دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہوجائے اور لڑکا لڑکی کا کفو ہو یعنی خاندانی اعتبار سے دونوں برابر ہوں تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے،تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے.(وَيَنْعَقِدُ بِإِيجَابٍ) مِنْ أَحَدِهِمَا (وَقَبُولٍ) مِنْ الْآخِرِ.ترجمہ: نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوجاتا ہے یعنی ایک ایجاب کرے اور دوسرا قبول کرے۔( تنویر الابصار مع الدر المختارکتاب النکاح جلد 3 ص 9 دارالکتب العلمیہ )
اسی میں ہے . شرط حضور شاھدین حرین اوحر وحرتین مکلفین سامعین قولھما معاعلی الاصح فاھمین انہ نکاح علی المذھب بحر.ترجمہ: نکاح میں دومردوں یاایک مرد داو رعورتیں جو کہ عاقل بالغ اورآزادہوں ان کا مجلس نکاح میں اس طرح موجود ہونا کہ وہ نکاح کو نکاح سمجھتے ہوئے نکاح کرنے والوں کے کلام کوسنیں، شرط ہے، یہ صحیح مذہب ہے، بحر۔( تنویر الابصار مع الدر المختارکتاب النکاح جلد 3 ص 21،22 دار الکتب العلمیہ )
یوں ہی کفو کے بارے میں تنویر الابصار میں ہے .(الْكَفَاءَةُ مُعْتَبَرَةٌ).ترجمہ شریعت میں کفو کا اعتبار ہے ۔
اسکے تحت شامی میں ہے .قَالُوا مَعْنَاهُ مُعْتَبَرَةٌ فِي اللُّزُومِ عَلَى الْأَوْلِيَاءِ حَتَّى أَنَّ عِنْدَ عَدَمِهَا جَازَ لِلْوَلِيِّ الْفَسْخُ.ترجمہ: اسکا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے ورثاء (باپ وغیرہ) پر نکاح کے لازم ہونے کے سلسے میں کفو ہونے کا اعتبار ہے لہذا اگر لڑکا لڑکی کا کفو نہ ہو تو لڑکی کے ولی (پاپ، بھائیوغیرہ) کے لیے اس نکاح کو فسخ کرنا جائز ہے۔
اور جب یہ نکاح مذکورہ شرائط کی بناء پر منعقد ہوگیا تو اگر کسی وجہ سے دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ دین سے ناواقف لوگ اپنی گفتگومیں ایسے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا ایمان اور نکاح خطرے میں پڑجاتاہے اور ان سے کفریہ کلمات سرزد ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات نکاح ختم ہوجاتاہے؛ اس لیے ایسے لوگوں کو احتیاطاً وقتاً فوقتاً تجدیدنکاح یعنی دوبارہ سے نکاح کرتے رہناچاہیے۔چناچہ شامی میں ہے .وَلَعَمْرِي هَذَا مِنْ أَهَمِّ الْمُهِمَّاتِ فِي هَذَا الزَّمَانِ؛ لِأَنَّك تَسْمَعُ كَثِيرًا مِنْ الْعَوَّامِ يَتَكَلَّمُونَ بِمَا يُكَفِّرُ وَهُمْ عَنْهَا غَافِلُونَ، وَالِاحْتِيَاطُ أَنْ يُجَدِّدَ الْجَاهِلُ إيمَانَهُ كُلَّ يَوْمٍ وَيُجَدِّدَ نِكَاحَ امْرَأَتِهِ عِنْدَ شَاهِدَيْنِ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، إذْ الْخَطَأُ وَإِنْ لَمْ يَصْدُرْ مِنْ الرَّجُلِ فَهُوَ مِنْ النِّسَاءِ كَثِيرٌ.ترجمہ: اور یہ آج کل کے زمانے میں یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ آپ اکثر سنتے ہیں کہ عوام اپنی گفتگو میں ایسے جملے استعمال کرتے ہیں وہ کفریہ ہوتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کفریہ جملہ ہے لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ ایسے لوگ روزانہ اپنے ایمان کی تجدید کریں اور مہینہ دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح کی تجدید کریں یعنی دوبارہ نکاح کریں کیونکہ ایسی باتیں اگرچہ مردوں سے کم لیکن عورتوں سے کثیر طور پر واقع ہوتی رہتی ہیں ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 6محرم الحرام 1440 ھ/17ستمبر 2018 ء