دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی وراثت کی حق دار ہوگی یا نہیں
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 838

    سوال

    محمد صدیق کا انتقال ہوا۔انتقال کے وقت اسکے ورثاء میں ایک بیوی(صغرٰی)ایک بیٹا(عبدالمجید)اور ایک بیٹی(رخسانہ )تھی۔بعد ازاں انکی بیوی نے شادی کرلی اور اس دوسرے شوہر سے اسکی اولاد بھی ہے۔ اور محمد صدیق صاحب کی جائیداد میں پانچ ایکڑ زرعی زمین ہے ۔ اور عبدالمجید صاحب کے اوپر کچھ قرض بھی ہے ۔سوال یہ ہے کہ بیوہ کہیں اورشادی کرنے کی صورت میں سابقہ شوہر سے وراثت کی حقدار ہوگی یانہیں ؟ نیز وراثت میں کس کس کا اور کتنا کتنا حصہ ہوگا۔شرعی رہنمائی فرمائیں۔سائل:محمد شاہد :کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں مرحوم(محمد صدیق) پراگرکوئی قرض تھا تو چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی کی جائے گی پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد زرعی زمین تمام ورثاء میں (بشمول اس بیوہ کے جس نے دوسری شادی کرلی) انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی،تقسیم کی تفصیل یہ ہےکہ کل مالِ وراثت کے 24 حصے کئے جائیں گے۔ جس میں سے مرحوم کی زوجہ (صغرٰی)کو 3 حصے ، بیٹے(عبدالمجید) کو 14 حصے، اور بیٹی(رخسانہ) کو 7 حصے دیئے جائیں گے۔

    فی صد کی صورت میں حصے:

    صغرٰی:12.5% عبدالمجید:58.33% رخسانہ:29.17%


    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ :824=3x

    مــیــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹی

    ثمن عصبــــــــہ

    1 7

    3 14 7

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے:قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واضح رہے کہ اگر کوئی عورت ،شوہر کی وفات کے بعد کہیں اور شادی کرلے اور دوسرے شوہر سے صاحبِ اولاد بھی ہوجائے اسکے باوجود پہلے شوہر کی وراثت سے حصہ پائے گی ، اگر چہ پہلے شوہر کی وفات کو کتنا ہی عرصہ کیوں نہ گزر گیا ہو، کیونکہ مورث سے استحقاقِ وراثت کے لئے لازم ہے کہ اسکی موت کے وقت وارث ہونا ثابت ہو۔ اگر چہ بعد میں وارث ہونا نہ پایا جائے پھر بھی وراثت کا مستحق رہے گا۔مذکورہ صورت میں جب مرد کا وصال ہوا تو عورت(بیوی) بالاتفاق اسکی وارثہ تھی لہذا مکان کی وراثت سے کسی طرح محروم نہ ہوگی بلکہ دیگر ورثاء کی طرح اسے بھی حصہ ملے گا۔اگر چہ بعد میں کسی اور کی زوجیت میں چلی جائے۔اور دوسرے شوہر سےاولاد والی ہوجائے۔ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ)تھے ۔ ( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:(وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں :'' موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے ۔ (فتاوی رضویہ ،کتاب الفرائض، جلد: 26 ،ص: 115)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیبرضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 22 محرم الحرام 1443 ھ/01 ستمبر 2021 ء