رضاعت کی وجہ سے نکاح جائز نہیں
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 841

    سوال

    ایک عورت جس کامیں نے دودھ پیا ہے اسکا بیٹا میری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے ، کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ دودھ پینے کی مقدار و تعداد کا کوئی تعین نہیں کہ کتنی بار اور کتنا پیا ہے نیز میری عمر کی بھی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ اس وقت کیا عمر تھی اور اس عورت کے علاوہ کوئی گواہ بھی نہیں ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ سائل:وحید بلوچ: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں اگر گواہی دینے والی عورت عادلہ ثقہ ہے تو اسکی گواہی کی وجہ سے یہ نکاح ناجائز و حرام ہے۔کیونکہ رضاعت سے سبب لڑکا ،لڑکی کا رضاعی چچا اور لڑکی اسکی رضاعی بھتیجی ہے، اور چچا بھتیجی کا نکاح ہر گز جائز نہیں خواہ نسبی ہوں یا رضاعی، جیساکہ حدیث پاک میں ہے: یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب ۔ ترجمہ: جو رشتہ نسب کے سبب حرام ہے وہ رضاعت کے سبب بھی حرام ہے۔(مسلم، حدیث نمبر 1445)

    جب کوئی تنہا عورت (جو ثقہ اور عادلہ ہو فاسقہ نہ ہو) گواہی دے کہ اس نے فلاں شخص کو دودھ پلایا ہے تو اسکی دو صورتیں ہیں۔

    1: عقدِ نکاح کے بعد گواہی دے تو اسکی بات معتبر نہ ہوگی اور رضاعت ثابت نہ ہوگی کہ یہ زوالِ ملک ہے اور زوالِ ملک کے لئے ایک کی گواہی کافی نہیں ہے خوا ہ دعویءِ رضاعت خود دودھ پلانے والی کا ہی کیوں نہ ہو،بلکہ اس صورت میں ثبوت رضاعت کے لئے دو عادل مرد یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی گواہی لازم ہے ۔

    2: عقدِ نکاح سے پہلے گواہی دے تو اسکی بات معتبر ہوگی اور رضاعت ثابت ہوجائے گی دونوں کا نکاح جائز نہ ہوگا۔کیونکہ یہاں زوالِ ملک نہیں نیز ایسامقام جہاں پر حرمت کا شبہہ ہو وہاں احتیاطاً ایک ہی گواہی کی بنیاد پر حرمت کا حکم دیا جاتا ہے اگر چہ نصاب شہادت کامل نہ ہو۔بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خاتون بچے کو دودھ پلا دیتی ہے لیکن پاس کوئی موجود نہیں ہوتا ،اگر ہو تو صرف ایک یا دو عورتیں ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ان رضاعت کی خبر دینا نکاح جیسے حساس باب میں معتبر ہو گا چناچہ فتاوی قاضی خان میں اسی پر فتوی دیا گیا ہےاور بحر، شامی وغیرہ نے اسی کو برقرار رکھا ۔

    چناچہ شامی میں ہے: (قوله وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قبله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الرفع۔ترجمہ:ماتن کا قول دو عادل لوگوں کی گواہی یعنی مردوں میں سے ، اس قول نے افادہ کیا کہ ایک کی گواہی سے رضاعت ثابت نہ ہوگی خواہ مرد ہو یا عورت ، عقد سے پہلے ہو یا بعد میں ، کافی و نہایہ میں اسی کی تصریح کی گئی ہے خانیہ کے رضاع کی اتباع میں ،(اس میں ہے) اگر کسی عورت نے نکاح سے پہلے رضاعت کی گواہی دی تو اس عورت کی تکذیب لکی گنجائش ہے لیکن خانیہ کے محرمات میں ہے ، اگر عقد سے پہلے ہو اور مخبر عادل ثقہ ہو نکاح جائز نہیں ہے اور اگر عقد کے بعد ہو اور وہ دونوں بڑے ہوں تو زیادہ احتیاط بچنے میں ہےاور بزازی نے اسی پر جزم فرمایا اور یہ تعلیل پیش کی پہلی صورت میں جواز میں شک واقع ہوا ہے اور دوسری صورت میں بطلان میں، اور عقد کو نہ ہونے دینا ،اسے ختم کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ ( رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار،کتاب النکاح ،باب الرضاع،جلد 3 ص 224)

    بحر میں ہے:وذكر في باب المحرمات صغير وصغيرة بينهما شبهة الرضاع لا يعلم ذلك حقيقة قالوا لا بأس بالنكاح بينهما هذا إذا لم يخبر بذلك إنسان فإن أخبر عدل ثقة يؤثر بقوله ولا يجوز النكاح بينهما، وإن كان الخبر بعد النكاح وهما كبيران فالأحوط أن يفارقها روي ذلك عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم أنه أمر بالمفارقة اهـ.ترجمہ:(خانیہ کے) باب المحرمات میں ہے ، ایک بچہ اور بچی کے درمیان رضاعت کا شبہہ ہے جسکی حقیقت معلوم نہیں تو فقہاء نے فرمایا ان کے مابین نکاح میں حرج نہیں ، یہ اس وقت ہے جب اس کی کسی انسان نے خبر نہ دی ہو ، پھر اگر کسی عادل ثقہ بندے نے خبر دی ہو تو اسکے قول کو ترجیح دی جائے گی اور نکاح جائز نہ ہوگا۔ اور اگر یہ خبر نکاح کے بعد ہو اور وہ دونوں بڑے ہوں تو زیادہ احتیاط یہ ہے کہ انکے درمیان فرقت کی جائے اور یہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے مفارقت کا حکم ارشاد فرمایا۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 3 ص 249، 250) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 21 رمضان المبارک 1444 ھ/12 اپریل 2023 ء