نکاح کا مسنون طریقہ
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 840

    سوال

    نکاح کے مکمل مسنون طریقے کا جواب تفصیلا عنایت فرمادیجیے۔سائل:اسد

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکرِ اعتدال اور نظریہٴ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے۔ انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں بس اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے۔ اس لیے اسلام میں انسان کو اپنی اس فطری ضرورت کو جائزاور مہذب طریقے کے ساتھ پوراکرنے کی اجازت ہے اوراسلام نے نکاح کوانسانی بقا وتحفظ کے لیے ضروری بتایا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔

    ارشاد نبوی ہے: بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح حدیث نمبر 5065 میں ہے : ”النکاح من سنّتی“ .ترجمہ: یعنی نکاح کرنا میری سنت ہے۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کوآدھا ایمان بھی قرار دیا ہے چناچہ مشکوٰة المصابیح کتاب النکاح جلد 1 ص 290 میں ہے:’’ ”اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ اِسْتَکْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ فِیْ النِّصْفِ الْبَاقِیْ“ .ترجمہ:جو کوئی نکاح کرتاہے تو وہ آدھا ایمان مکمل کرلیتاہے اور باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا رہے۔

    نکاح کی اہمیت ان احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے (یعنی نظرکو بہکنے سے اور جذبات کو بے لگام ہونے سے بچاتا ہے) اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔

    اسی طرح ایک مرتبہ جب بعض صحابہ کرام نے عبادت و ریاضت میں یکسوئی و دلچسپی کے پیشِ نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوت شہوت کو ختم کردینے کی خواہش ظاہر کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور شادی نہ کرنے کو زندگی سے فرار اختیار کرنا قرار دیا۔ اس لیے کہ اسلام زندگی سے فرار کی راہ کو بالکل ناپسند کرتاہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح حدیث نمبر 5063 میں ہے : ”وَاللّٰہِ اِنِّیْ لاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہ وَلٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ“.ترجمہ: بخدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی ناراضگی سے بچنے والا ہوں (لیکن میرا حال) یہ ہے کہ میں کبھی نفل روزے رکھتا ہوں اور کبھی بغیر روزوں کے رہتا ہوں راتوں میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں (یہ میرا طریقہ ہے) اور جو میرے طریقے سے منھ موڑے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

    اسلام میں نکاح کو انجام دینے کیلئے چند اہم امور:

    مندرجہ ذیل امور میں سے چند کو تفصیل کے ساتھ اور چند کو اختصار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے اور وہ چند امور اس طرح ہیں کہ ایجاب و قبول دوگواہوں کی موجودگی، نکاح میں عورت کے لئے ولی (سرپرست) کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان، دعوتِ ولیمہ، مہر کی ادائیگی اور خطبہٴ نکاح۔ اگر ان امور پر غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوتِ فکر وعمل اور باعثِ ثواب ہیں۔جسکی تفصیل یہ ہے

    ایجاب و قبول:

    ایجاب سے مراد ہے ایک فریق (یعنی دلہے) کی طرف سے نکاح کے معاملہ میں پیش کش اور قبول سے مراد ہے دوسرے فریق (یعنی دلہن) کی طرف سے اس پیش کش پر رضامندی غرض کہ فریقین کا نکاح پر خوشی سے

    رضامند ہوجانا ایجاب و قبول کہلاتا ہے۔

    ایجاب و قبول نکاح کے لئے شرط ہے اسلام میں کسی مرد یا عورت کی مرضی و اجازت کے بغیر نکاح قرار نہیں پاسکتا چنانچہ ارشادِ ربانی ہے

    ”یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لاَیَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ کَرْہًا (النساء:۱۹)

    ترجمہ:اے ایمان والو تم کو حلال نہیں کیا کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔

    دوگواہ:

    نکاح میں دو گواہ کا موجود ہونا بھی شرط ہے۔ نکاح میں شہادت نہایت ضروری ہے۔ اس لئے کہ اس سے بدکاری بے حیائی کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ترمذی کتاب النکاح باب ماجاء لا نکاح الا ببینۃ حدیث نمبر 1103 میں ہے،: عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ”اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْبَغَایَا الَّتِیْ یَنْکِحْنَ اَنْفُسَہُنَّ بِغَیْرِ بَیِّنَةٍ“ .ترجمہ:عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں چوری چھپے بغیر گواہوں کے نکاح کرلیں وہ حرام کار ہیں۔

    یونہی ترمذی کتاب النکاح باب ماجاء لا نکاح الا ببینۃ حدیث نمبر 1104 میں ہے:عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ،.ترجمہ: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ گواہوں کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

    ولی کی اہمیت:

    عورت کے لئے نکاح میں رضامندی کے ساتھ ولی (سرپرست) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ عورت کا نکاح بغیرولی کے نہیں ہوسکتا چنانچہ ترمذی کتاب النکاح باب ماجاء لا نکاح الا بولی حدیث نمبر 1101 میں ہے،

    عَنْ اَبِی مُوْسٰی عَنِ النَّبِیّ قَالَ لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِوَلِیٍّ“ .حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

    عورت کا شرف اور مقام اسی میں ہے کہ وہ کسی کی سرپرستی میں نکاح کرے۔ اس طرح بہت سی سماجی اور معاشرتی خرابیاں دور ہوجاتی ہیں۔ اس میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔

    اعلانِ نکاح:

    اسی طرح اسلام نے نکاح میں اعلان و تشہیر کی تعلیم دی ہے۔ نکاح کا اعلان کرنا اورمسجد میں نکاح کرنا سنت ہے۔ چناچہ ترمذی کتاب النکاح باب ما جاء فی اعلان النکاح حدیث نمبر 1089 میں ہے”اِعْلِنُوْا ہٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوہُ فِی الْمَسَاجِدِ“.ترجمہ: کاح کا اعلان کرو اور مسجد وں میں نکاح کرو۔ اس کا بنیادی مقصد نکاح کو عام کرنا اور نسب کو ثابت کرنا ہے۔

    ولیمہٴ مسنون:

    دولہا اپنی شادی کی خوشی و شادمانی کے موقع پر جو دعوت دیتا ہے اسے ولیمہ کہا جاتا ہے اور ولیمہ کرنا سنت ہے۔ ولیمہ شوہر کے ذمہ ہے اور دعوت ولیمہ نکاح کے بعد ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ نکاح کے دوسرے دن کیا ہے۔ چنانچہ بخاری کتاب النکاح باب ”کیف یدعی للمتزوج“حدیث نمبر 5155 میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے نکاح کا ذکر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ“ترجمہ: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کا ہی کیوں نہ ہو۔

    لہٰذا نکاح کے دوسرے یا تیسرے دن ولیمہ کرنا مناسب اور سنت ہے۔ چاروں فقہی مسالک میں ولیمہ کا مستحب وقت عقد کے بعد ہے۔ ولیمہ اپنی حیثیت کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ قرض تکلف اسراف اور نمائش سے اجتناب ضروری ہے۔ ولیمہ کی دعوت میں اقارب احباب اور دیگر لوگوں کو بلانے کی گنجائش ہے۔ اپنی طاقت اور حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنا خلافِ شریعت ہے۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا تھا کہ جاؤ فلاں فلاں کو دعوت ولیمہ میں بلالاؤ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہوا تو ان کے ولیمہ میں صرف کھجوراور منقیٰ پیش کیاگیا اور سادہ پانی پلایاگیا ۔

    مہر کی ادائیگی:

    نکاح میں مہر کا ادا کرنا واجب ہے۔ مہر عورت کا شرعی حق ہے۔ مہر اس رقم کو کہا جاتا ہے جو مرد شادی کے پرمسرت موقع پر خوشی سے اپنی ہونے والی بیوی کو تحفہ کی شکل میں دیتا ہے۔ مہر اسلام کے سوا کسی مذہب یا قوم میں نہیں ہے۔ ارشاداتِ ربانی یوں ہیں

    ”وَآتُوْا صَدَقٰتِہِنَّ نِحْلَةً(النساء: ۴۰).ترجمہ:اور دے ڈالو عورتوں کو مہر ان کے خوشی سے۔

    ”وَآتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ( النساء: ۲۵).ترجمہ: بہترطریقے سے ان کے مہر ادا کرو۔

    مہر کی ادنیٰ رقم دس درہم یا اس کے بقدر قیمت ہے۔ قیمت کا اعتبار عقد کے وقت کا ہوگا ادائیگی کے وقت کا نہیں اور مہر میں زیادہ سے زیادہ کی کوئی تعیین نہیں ہے۔ شوہر کی حیثیت اور آمدنی پر انحصار ہے۔ اگر زیادہ مہر باندھتا ہے تو اسے ادا کرنا ضروری ہے۔مہر کی فوری ادائیگی مناسب اور مستحب ہے یا کچھ مدت کے بعد کا بھی جواز ہے۔ ان دونوں صورتوں کو اسلام کی اصطلاح میں پہلی صورت کو مہر معجل کہا جاتاہے اوردوسری کو مہر موٴجل کہتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری