فلاحی ادارے کا زکوۃ سے متعلق مسئلہ
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 842

    سوال

    1:ایک فلاحی ادارے میں زکوۃ کی مد میں ڈونیشن آتی ہے اور ادارہ ان پیسوں سے مدارس میں بچوں کے راشن کے لئے کچھ پیسے دیتا ہے ،کیا ادارہ از خود حیلہ شرعی کرکے یہ پیسے دےسکتا ہے یا ضروری ہے کہ بغیر حیلہ کئے دے۔؟

    2:اسی طرح بعض مقامات پران ہی پیسوں سےغریب اور کم وسائل والے ائمہ مساجد کی بھی معاونت کی جاتی ہے۔ کیا اس صورت میں بھی ادارہ از خود حیلہ شرعی کرکے دے سکتا ہے یا پھر بغیر حیلہ کے دے ،جبکہ ان ائمہ مساجد کا فقیر شرعی ہونا متعین نہیں ہوتا نیز ان میں سادات کرام بھی ہوتے ہیں۔

    3:یونہی ان کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی تعاون کیا جاتا ہے ، یعنی مدارس کی سیلری،طلباء کو آنے جانے کا کرایہ، طلباء کو اسکالر شپ ،دینی کتب کی تصانیف، بعض اسکولوں کے ساتھ تعاون جہاں دینی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیا ادارہ یہاں بھی ازخود حیلہ شرعی کرکے یہ پیسے دےسکتا ہے یا بغیر حیلہ کئے دینا ضروری ہے۔؟

    سائل:سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ /کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:زکوۃ کی رقم راشن کی مد میں دینا بایں طور کہ اس مدرسہ کا مہتمم یا ناظم بعینہ اس رقم سے راشن خریدے اور پکا کر بچوں کو کھلادےکماھوالمعھود جائز نہیں ہے ،کیونکہ زکوۃ میں تملیک شرط ہے اور زکوۃ کی رقم سے راشن خرید کر کھانا بناکر دینے کی صورت میں تملیک نہیں ہوتی ،بلکہ یہ کھانا انہیں بطورِ اباحت کھلایا جاتا ہے۔

    ہاں اس صورت میں ادارہ کے لئے جائز ہے کہ زکوۃ کی مد سے مدارس کے بچوں کے لئے راشن میں دئیے جانے والی رقم کا از خود حیلہ کرلے بعد ازاں متعلقہ مدرسہ کودیدے۔

    2:ان ائمہ مساجد کو بطورِ معاونت دیئے جانے والی رقم کا بھی یہی حکم ہے یعنی ادارہ اس رقم کوبھی از خود حیلہ کرکے دے سکتا ہے۔تاکہ سادات وغیرہ کی بھی معاونت ہوسکے۔

    3:ان صورتوں میں سے درج ذیل امور میں ادارہ اس رقم کواز خود حیلہ کرکے دے سکتا ہے۔

    مدارس کی سیلری، طلباء کو آنے جانے کا کرایہ، طلباء کو اسکالر شپ اور دینی کتب کی تصانیف۔

    البتہ ان اسکولوں کے حکم میں (جہاں دینی تعلیم کا بھی اہتمام ہو)تفصیل ہے جسکی دو صورتیں ہیں ۔

    1: دینی تعلیم بالاصل اور اسکول کی تعلیم بالتبع ہو۔ ادارہ ایسی جگہ بھی حیلہ کرکے دے سکتا ہے۔

    2:اسکول کی تعلیم بالاصل اور دینی تعلیم بالتبع ہو۔ ایسی جگہ زکوۃ کی رقم بغیر حیلہ یا حیلہ کرکے کسی صورت میں بھی دینا جائز نہیں ہے۔بلکہ چاہیے کہ کسی اور مد مثلا صدقات نافلہ یا خاص اس مد میں دی گئی رقوم سے یہاں تعاون کیا جائے۔

    کیونکہ جس جگہ ضرورتِ شرعیہ کا تحقق ہو وہاں حیلہ شرعی کا جواز موجود ہے اور بلاشبہ فی زمانہ مدارس اور مساجد جیسے عظیم مراکز خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ یہ مراکز چندے یا کسی صاحبِ ثروت کے تعاون سے چلتے ہیں،اسی لئے وسائل کی کمی کے سبب پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ، پھربعض اوقات لوگوں کے پاس بھی وسائل ہی نہیں ہوتے کہ وہ امور مدرسہ یا مسجد میں رقم دیں ،تو اس وجہ سے زکوۃ کی رقم سے ان کی معاونت کرنا ضرورتِ شرعیہ کے درجے میں ہے،لہذامدرسہ اور اسکے جمیع معاملات میں زکوۃ کی رقم حیلہ کرکے لگانے کی اجازت ہے۔بالخصوص اس وقت جبکہ اس میں حیلہ کے جواز کی شرائط بھی موجود ہیں ۔

    حیلہ شرعی کے جواز کے لئے تین شرائط ہیں :

    1:ضرورت و حاجت شرعیہ متحقق ہو۔

    2: جس کام کے لئے حیلہ کیا جارہا ہے وہ فی نفسہ ثواب کا کام ہو۔

    3: اس حیلہ کی وجہ سے کسی مقصدِ شریعت کا بطلان لازم نہ آئے۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَیُشْتَرَطُ أَنْ یَکُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِیکًا) لَا إبَاحَۃً ۔َترجمہ: اور زکوۃ میں مالک بنانا شرط ہے ، اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے ۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار باب مصرف الزکوۃ جلد 2ص344)

    حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ سے واقف شخص کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے۔ پھر وہ شخص و ہی رقم زکوٰۃ دینے والے کو یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر واپس کردے کہ آپ اسے مدرسہ یاکسی کارِ خیر پر صرف کر دیں یا وہ شخص خود مدرسہ یا کسی کارِ خیر پر وہ رقم خرچ کر دے۔

    حیلہ سے متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ ترجمہ:حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر کو دے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445)

    شمس الائمہ امام سرخسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا،اور اس نے عرض کی : میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنے بھائی سے بات نہیں کروں گا ،اور اگر میں نے اس سے بات کی تو میری بیوی کو تین طلاقیں ۔آپ نے فرمایا:تم اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دو ،اور جب اس کی عدت گزر جائے تو اپنے بھائی سے بات کر لو پھر اس عورت سے نکاح کر لو،اور یہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے حیلہ کی تعلیم دی ۔نیزا سی کے ساتھ لکھتے ہیں:حیلہ کے جواز پر باکثرت احادیث اور آثار،اور جو آدمی احکام شرع میں غور و فکر کرے گا وہ بہت معاملات کو اس طرح پائے گا ۔ (المبسوط: جلد30، صفحہ 209 ، دار المعرفہ بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 رجب المرجب 1442 ھ/25 فروری 2021 ء