سوال
میں نے ایک لڑکے سے نکاح کیا ،یہ نکاح کسی نکاح خواہ کے سامنے نہیں ہوا ۔اس نکاح میں ،میں ،اور وہ لڑکا ،اور اس کے دو دوست گواہ کے طور پر موجود تھے ۔جس میں سے ایک دوست جو گواہ تھا اس نے نکاح پڑھایا ۔اس نکاح میں کوئی کاغذی کاروائی نہیں ہوئی بس باہمی اقرار ہوا ہے۔اور میں نے والدین کی اجازت کے بغیر ،بنا کسی ولی کے یہ نکاح کیا ہے ۔میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور میرا کوئی بھائی نہیں جبکہ میری والدہ اور بہن اس نکاح سے راضی نہیں ہیں۔مجھے دریافت کرنا ہے کہ میری شرعی طور پر نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ سائلہ: فاطمہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے اولیاکی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کفو میں کرے تو وہ منعقد ہو جاتا ہے ۔اس کے برعکس کرے مثلا غیر کفو میں کرے تومفتی بہ قول کے مطابق اصلاً منعقد نہیں ہو گا ۔
در مختار میں ہے: ویفتی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان ترجمہ:اور فتوی غیر کفو میں نکاح کے اصلاً عدم جواز کا دیا جائے گا۔ فسادِ زمانہ کی وجہ سے یہی (قول)فتوی کے لیے مختار ہے ۔(الدر المختار مع تنویر الابصار،جلد 03صفحہ 57دار الفکر بیروت)
آپ کے مسئلہ میں اولیا سے مراد یہ لوگ ہیں :سب سے پہلے والد ہے وہ نہ ہو تو پھر دادا، اگر یہ دونوں نہ ہوں توپھر سگا بھائی ہے ،سگا بھائی نہ ہو تو پھر باپ شریک بھائی ہے ۔ اور اگر وہ بھی نہ ہو تو سگے بھائی کا بیٹا یعنی بھتیجا،یہ نہ ہو تو پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا، اگر مذکورہ تمام لوگ نہ ہوں تو پھر سگا چچا ہے ، یہ بھی نہ ہو تو پھر چچا کا بیٹا الخ یعنی ولایت کی وہی ترتیب ہے جو میراث میں عصبہ بنفسہ کی ہوتی ہے۔ عصبہ اس قریبی خونی رشتہ دار کو کہتے ہیں جس سے رشتے میں عورت کا واسطہ درمیان میں نہ آتاہو، وہ درجہ بدرجہ ولی بنتاہے۔
اگر مذکورہ اولیا میں سے کوئی بھی شرعی ولی (سرپرست ) موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت نے اگر غیر کفو میں نکاح کیا تو وہ صحیح و نافذ ہو گا ۔ رد المحتار میں ہے: وأما إذا لم يكن لها ولي فهو صحيح نافذ مطلقا اتفاقا۔ترجمہ:اور عورت کا جب کوئی سرپرست نہ ہو تو (اس صورت میں اس کا غیر کفو میں نکاح)بالاتفاق مطلقاً صحیح اور نافذ ہو گا ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ،جلد 03صفحہ 57دار الفکر بیروت)
کفو کا لغوی معنی ہے ہم پلہ ہونا جبکہ اصطلاح شریعت میں اس سے مراد یہ ہے کہ لڑکا درج ذیل چیزوں میں لڑکی سے اعلی ہو یا اس کے ہم پلہ ہو: 1 نسب، 2 اسلام، 3 پیشہ ، 4دیانت، 5،مال۔
امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ کفاءت کی تفصیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :بالغہ جو بے رضائےولی ،بطور خود، اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن(عورت کے اولیا ) کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا،
مزید فرماتے ہیں :مال میں کفاءت کو صر ف اس قدر كفايت کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیہ(مال دار عورت) کے قابلِ کفایت روزانہ دے سکے، اور پیشہ ورنہیں تو ایک مہینہ کا نفقہ دے سکے، اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے۔
فی الدرالمختار تعتبر الکفاءۃ فی العرب والعجم مالابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شہر لوغیر محترف والافان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لوتطیق الجماع ملخصاً۔درمختار میں ہے کہ مال کے اعتبار سے عرب وعجم میں کفو کا اعتبار اس طور پر ہے کہ مہر معجل دینے اور ایک مہینے کا نفقہ دینے پر قادر ہو جبکہ شوہرغیر کا روباری ہو اور اگر کاروبار کرتا ہو تو پھر روزانہ کا خرچہ دینے پر قدرت رکھتاہو اس شرط کے ساتھ کہ بیوی جماع کی قدرت رکھتی ہو ملخصاً (فتاوی رضویہ جلد 11 صفحہ214 تا215 رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:14ذی الحج 1443 ھ/14جولائی 2022