شادی شدہ عورت کا کسی دوسرے مرد سے تعلقات رکھنا کیسا
    تاریخ: 13 نومبر، 2025
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 103

    سوال

    میں آمنہ احمدبنت فرخندہ گوجرانوالہ سے آپکو خط لکھ رہی ہوں میری دو بیٹیاں ہیں ۔میری شادی کو دس سال ہوگئے ہیں ۔شوہر شیخوپورہ میں نوکری کرتے ہیں۔باپ کے دیے گھر میں اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ گوجرانوالہ میں رہتی ہوں ۔شوہر کا نام احمد فراز ہے۔3 سال سے شوہر صرف ہفتہ اتوار گھر آتا ہے۔میں اسکول میں نوکری کرتی ہوں اور بچے بھی میرے وہیں پڑھتے ہیں۔شوہر اور میرے درمیان شروع وقت سے کافی اختلافات رہے ہیں۔لیکن زندگی کی گاڑی اولاد کی وجہ سے چل رہی ہے ۔

    آٹھ مہینے پہلے میری زندگی نے پلٹا کھایا اور ایک لڑکا گلشام خان سے میری گوجرانوالہ میں دوستی ہوگئی ۔وقت گزرتا گیا اور دوستی محبت میں بدل گئی ۔وہ میرے ساتھ وقت گزارتا رہا اور میں محنت سمجھتی رہی ۔اسکی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔اپنے آپ کے بارے میں بھی نہ سوچھا اور پاگل بن گئی ۔اسکو کاروبار کے لیے پیسے چاہئے تھے تو میں نے اپنے عشق کے پیچھے اپنا زیور بیچ کر اسکی ضرورت پوری کی ۔میں ہمیشہ اسکو کہتی کہ تم مجھ سے نکاح کرلو،میں اپنے شوہر کو چھوڑ دوں گی ۔

    میں جانتی تھی کہ میں گناہ کے راستے پر ہوں لیکن اللہ میری نیت کو جانتا ہے کہ میں وقت نہیں گزار رہی تھی بلکہ گلشام سے شادی کرنا چاہتی تھی۔میرے دل و دماغ پر بس وہی سوار ۔ایک دن اس نے بولا کہ میں نکاح نہیں کرنا چاہتا کیونکہ تم شادی شدہ اور میں غیر شادی شدہ ہوں اور تم بچوں والی ہو۔یہ وہ تب بولا جب اسکی ہر ضرورت میں پوری کر چکی تھی۔میں آج بھی گلشام سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اور اپنے رب سے دعا مانگتی ہوں کہ کسی طرح میرا گلشام سے نکاح ہوجائے حالانکہ اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میں نے اگر اس سے رابطہ کیا تو وہ مجھے بلاک کردے گا ۔لیکن میں اللہ سے رو رو کر دعا مانگتی ہوں کہ مجھے گلشام مل جائے کیا میں دوسری شادی کی خواہش نہیں کر سکتی ۔میرا شوہر میرے دل سے اتر گیا ہے۔

    سائلہ:آمنہ بنت فرخندہ:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو شریعت اسلامیہ میں شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی بھی مرد سے کسی بھی طرح کے ناجائز تعلقات قائم کرنا حرام و گناہ کا کام ہے ، اور کسی بھی عورت کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ کسی ایک مرد کے نکاح میں رہتے ہوئے دوسرے مرد سے محبت کرکے اس سے شادی کی خواہش کرے ۔اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات درست نہیں ہیں تو خاندان کے بڑوں کو ثالث بنا کر معاملے کو حل کیا جائے ۔نہ کہ خود سے کوئی غلط راستہ اختیار کیا جائے جس سےعورت کو دنیا میں بھی رسوائی ہو اورقبر و آخرت میں بھی اس کے عذاب میں مبتلا ہو۔لہذا عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل ودماغ سے غیر مرد کا خیال نکال دے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرے اور آئندہ ایسے کا م سے خود کو بچائے،تاکہ دنیا و آخرت کے بھیانک عذاب سے بچ جائے۔

    قال اللہ تعالیٰ :وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ .ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ،اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں ، مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر۔

    ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں کی مدح بیان فرماتا ہے جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھتی ہیں ارشاد فرماتا ہے :فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ترجمہ: تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں، جس طرح اللّٰہ نے حفاظت کا حکم دیا(یعنی اپنی شرمگاہوں کی) اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو، تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو ، پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللّٰہ بلند بڑا ہے۔ (النساء: 34،35)

    اس آیت کے تحت روح البیان جلد2 ص 202 میں ہے:حافِظاتٌ لِلْغَيْبِ اى لمواجب الغيب اى لما يجب عليهن حفظه فى حال غيبة الأزواج من الفروج والأموال والبيوت. وعن النبي صلى الله عليه وسلم (خير النساء امرأة ان نظرت إليها سرتك وان أمرتها اطاعتك وإذا غبت عنها حفظتك فى مالها ونفسها)ترجمہ: خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں یعنی جو ان پر خاوندوں کی عدم موجودگی میں ان پر مال ،گھر اور شرمگاہوں کی حفاظت لازم ہے اسکی حفاظت کرتی ہیں ،اور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ بہترین عورتیں وہ ہیں کہ ان کے شوہر انکی طرف دیکھیں تو خوش ہوجائیں اور جب خاوند کوئی حکم دے تو اطاعت کریں ،اور جب وہ موجود نہ ہوتو اپنی جان و مال کی حفاظت کریں۔

    عیون الأخبار ، ج 2 ، باب 30 ، حدیث 24 میں ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لیلة اسری ابی الی السّماء ، رأیت نسائً من اُمتی فی عذاب شدید فأنکرت شأنھنأمّا المعلقة فبکیت لما رأیت من شدت عذابھن و رأیت امرئة معلّقة بشعرھا یغلی دماغ رأسھا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بشعرھا . فانھا کانت لا تغطیّ شعرھا من الرجال .ترجمہ:رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتےہیں کہ شب معراج میں نے اپنی امت کی عورتوں کو شدید عذاب میں مبتلا دیکھا جنھیں دیکھ کر مجھے سخت تعجب ہوا اور میں نے ان کے عذاب کی شدت کی وجہ سے گریہ کیا میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دماغ پگھل رہا تھا فرمایا : البتہ جو عورت اپنے سر کے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی یہ ایسی خاتون تھی جو اپنے سر کے بالوں کو نامحرموں سے نہ چھپاتی تھی۔

    اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم من کانت منکن تو منّ باللہ و الیوم الآخر ، لا تجعل زینتھا تغیر زوجھا ولا تبدی خمارھا و معصمھا و ایما امرئة جعلت شیئاً من ذلک لغیر زوجھا فقد أفسدت دینھاو أسخطت ربھا علیہا ترجمہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواتین کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئےفرمایا جو عورت خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے شائستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے زینت کرے اور اگر کوئی عورت کسی غیر کے لئے زینت کرے تو اس نے اپنے اس عمل سے اپنے دین کو نابود کیا اور خدا کو اپنے اوپر غضبناک کیا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــه: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 17ذوالحجۃ1442 ھ/28جولائی 2021 ء