Maal-e-Mushtarak par Tameer Karane ke Ikhrajaat aur Manasakha
سوال
میرا نام محمد علی ہے میں مکان نمبر B-426H مساوات کالونی شاہ فیصل کالونی نمبر 4 میں رہتا ہوں۔ یہ مکان میرے نانا محمد شفیع نے 09/06/1965 میں خریدا تھا۔ میرے نانا کی 2 او لادیں تھیں فاطمہ شہناز، مریم شہناز، تمام لوگوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ صرف مریم شہناز کی 3 اولادیں بیٹا محمد علی ، سائرہ بانو ، حسن بانو زندہ ہیں۔ میں اس مکان میں رہتا ہوں دونوں بہنوں کی شادیاں میری زیر سرپرستی میں ہو چکی ہیں، اب دونوں بہنیں اس مکان میں سے حصہ مانگ رہی ہیں نانا کی پراپرٹی میں سے انکا حصہ کتنا بنتا ہے ؟ اور اس مکان کی قیمت کی ویلیو کس وقت سے لگائی جائے گی ؟ کیونکہ یہ مکان 2 کمروں اور ایک باتھ روم پر مشتمل تھا کمروں پر ٹین کی چادریں تھیں اور مکان گلی سے کئی فٹ نیچے تھا۔
2014 میں جب میری شادی کا سلسلہ ہوا توجب شادی ہونے والی تھی مکان اس قابل نہیں تھا تو میں نے قرض لے کر بنایا تھا(میری بہنیں مجھ سے چھوٹی تھیں اس وجہ سے میں نے ان سے اجازت بھی نہیں لی ) کیونکہ میرے مالی وسائل نہیں تھے۔ پھر میرا بیٹا ہوا جو گروتھ ہارمونز کی کمی نامی بیماری میں مبتلا ہے۔ جسکا علاج میں جناح اسپتال NICHS سے کروا رہا ہوں ۔ میرےبچے کے علاج کیلئے انجیکشن لگتے ہیں جسکی مالیت ایک20,000کا ہے میری تنخوا 21,000 روپے ہے،میں بیت المال سے جو گورنمنٹ کا محکمہ ہے اُس سے اسکا علاج کروا رہا ہوں ۔ اب اگر میں گھر بیچ کر دونوں بہنوں کا حصہ دیتا ہوں تو میں کرائے کے مکان میں کیسے رہوں گا؛ کیونکہ میری تنخواہ 21,000 ہے اور اتنے میں کرائے کا مکان نہیں ملتا اور میرے بیٹے کے علاج کا مسٔلہ بھی ہے ۔ اب اس مسٔلہ میں شریعت کا کیاحکم ہے۔ اس مکان کی قیمت کب سے لگائی جائے گی ؟ موجودہ وقت سے لگائی جائے گی تو میرے اخراجات جو اس مکان کے بنوانے میں خرچ ہوئے ہیں وہ پچھلی قیمت سے لگائے جائیں گے یا موجودہ قیمت سے اگر میں دونوں بہنوں کو بیسیاں ڈال کر پہلے بہن کو پھر دوسری بہن کو حصہ دے دوں کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ مکان بیچنا ضروری ہے یا اسکے علاوہ بھی کوئی حل نکل سکتا ہے مہربانی کرکر کے اس تمام مسٔلہ کا مجھے تحریری فتوی ارشاد فرمائیں۔محمدشفیع کا انتقال1990 کو،مریم شہنازکا انتقال 6/8/2005، مریم شہنازکے شوہر کا انتقال 04/11/2021 ،محمد شفیع کی زوجہ زیتون بیگم کا انتقال 1/1/ 2006 کو ہوا،اس کی وفات کے وقت اس کی دو بہنیں (عائشہ و ہاجرہ )زندہ تھیں ،فاطمہ شہنازکےشوہرکاانتقال6/8/2001،فاطمہ شہنازکےبیٹےکاانتقال2010،اسکاایک بیٹا تھا،فاطمہ شہناز کا انتقال23/1/2022 کو ہوا ۔ سائل:محمد علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ متقدمین فقہاء کرام کے نزدیک جب کوئی شخص ملکِ غیر میں کچھ تعمیرات کرتا تھا جیسا کہ درخت اُگا نایا مکان بنا نا تو اسے درخت و مکان کو اکھاڑنے کا حکم دیا جاتا تھا کہ یہ زمین مالک کی ہے اور تعمیرات کرنے والے کو اس اکھڑے ہوئےدرخت یا مکان کے ملبہ وغیرہا کی قیمت دے دی جاتی تھی۔جبکہ دور حاضر میں اس قول پر فتوی نہیں کہ عرف بدل چکا ہے۔پچھلے زمانے میں تعمیرات کی اتنی قیمت نہیں ہوتی تھی جتنی آج ہے۔مثلاً آج کے دور میں کسی زمین پر پینٹ ہاؤس (ایسا پارٹمنٹ جو عمارت کی سب سے اونچی منزل پر ہوتا ہے،اسے عام طور پر لگژری خصوصیات کے لحاظ سے دوسرے اپارٹمنٹس سے الگ کیا جاتا ہے) کی قیمت اسکے نیچے موجود منزلوں اور زمین کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ ہوتی ہے،اگر یہاں اس پینٹ ہاؤس کی اصل قیمت کے بجائے اسکے ملبے کی قیمت معمرّ (تعمیرات کرنے والے) کو دی جائے تو شدید ضرر ہوگا،جو کہ مقاصدِ شریعت کے موافق نہیں۔
لہذااس ضرر کو پیش نظر رکھتے ہوئے صورت مسئو لہ میں مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیوں کے مطابق قیمت لگوائی جائے گی پھر جومکان کی تعمیر پہ اخراجات ہوئے تھے وہ رقم تعمیرات کرنے والے کو دی جائے گی اس کے بعد جو قیمت بچے گی اسمیں شرعی تقسیم کچھ اس طرح ہوگی کہ امور متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے )کے بعد کل 768حصص کیے جائیں گے ہر ایک کے حصے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :
محمد علی :346حصص،حسن بانواور سائرہ بانو میں سے ہر ایک کے علیحد ہ علیحدہ173 حصص،عائشہ اور ہاجرہ میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 38 حصص ہونگے ۔ ورثا ء کےجو حصے بنتے ہیں وہ ان کے مالک ہیں، آپ کی بہنیں اگر اس بات پر راضی ہو جاتی ہیں کہ بیسیاں ڈال کر ان کو حصہ دیں تو ایسا بھی ہو سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مناسخہ کی صورت مسئلہ پی ڈی ایف میں موجود ہے ۔
لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے متعلق اللہ تعا لی کا فرمان مبارک ہے ۔یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ- ترجمہ : اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے۔
بیویوں کے حصے کے متعلق اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک "وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔
علامہ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:"لا بد من معرفۃ عادات الناس فکثیر من الاحکام تختلف باختلاف الزمان لتغیر عرف اھلہ او لحدوث ضرورۃ او فساد اھل الزمان بحیث لو بقی الحکم علی ما کان علیہ او لا للزم منہ المشقۃ و الضرر بالناس و لخالف قواعد الشریعۃ المبنیۃ علی التخفیف و التیسیر و دفع الضرر و الفساد لبقاء العالم علی اثم نظام و احسن احکام و لھذا تری مشائخ المذھب خالفوا ما نص علیہ المجتھد فی مواضع کثیرۃ بناھا علی ما کان فی زمنہ لعلمھم بانہ لو کان فی زمنھم لقال بما قالوا بہ اخذاً من قواعد مذھبہ".ترجمہ:لوگوں کی عادتوں کی پہچان ضروری ہے کہ بہت سے احکام ،زمانہ بدلنے سے بدل جاتے ہیں کہ اہل زمانہ کا عرف تبدیل ہونے یا کسی ضرورت کے پیدا ہونے یا اہل زمانہ کے فساد کی وجہ سے ایسی صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ اگر وہ پہلا حکم باقی رہے، تو اس سے لوگوں پر ضرر اور مشقت لازم ہوگااور یہ ان شرعی قوانین کے مخالف ہے کہ جن کی بنیاد تخفیف و تیسیر یعنی آسانی دینے اور ضرر و فساد،دور کرنے پر ہے تاکہ دنیا ، اتم نظام اور احسن احکام پر باقی رہے۔ اسی وجہ سے تم مذہب کے مشائخ کو دیکھو گے کہ وہ کثیر مقامات پر اپنے زمانے کے عرف کی بنا پر مجتہد سے منصوص مسئلہ کے خلاف کرتے ہیں ،کیونکہ مجتہد کے مذہب کے قوانین سے اخذ کرتے ہوئے یہ حضرات جانتے ہیں کہ اگر ان کے زمانے میں وہ مجتہد ہوتے تو یہی فرماتے جو انہوں نے فرمایا۔(رسائل ابن عابدین،جلد:2،صفحہ:125،مطبوعہ سھیل اکیڈمی)
السراجی فی المیراث میں ہے "والصنف الثالث ينتمي إلى أبَوَي الميت، وهم أولاد الأخوات وبَناتُ الإخوة وبنو الإخوة لأم۔ترجمہ:ذوی الارحام کی تیسری قسم جو میت کے والدین کی طرف منسوب ہو وہ بہنوں کی اولاد اور بھائیوں کی بیٹیاں اور ماں شریک بہنوں کے بیٹے ۔(السراجی فی المیراث،باب ذوی الارحام،صفحہ:70،دعوت اسلامی)۔
السراجی فی المیراث میں ہے "بينهما للذكر مثل حظ الأنثيين عند أبي يوسف رحمه الله تعالى باعتبار الأبدان وعند محمدرحمه الله تعالى المال بينهما أنصافاً باعتبار الأصول " ترجمہ: "امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیکاابدان کے اعتبار سے ک مرد کے لیے دو حصے اور عورت کے لیے ایک حصہ ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اصول کے اعتبار سے مال دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔( السراجی فی المیراث،باب ذوی الارحام،صفحہ84،دعوت اسلامی)
فائدہ:مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ کہ کل رقم کو مبلغ یعنی 768پر تقسیم (Divide (کردیں جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں ،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا ۔
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 03صفر المظفر 1446 ھ/09اگست 2024ء