چھ بطن مناسخہ

    Chhe Batan Manasakha

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1175

    سوال

    ایک شخص (حاجی عبد الکریم) کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی (زینب) چار بیٹے (فاروق، انور ، منیر، طاہر) اور تین بیٹیاں (زرینہ ، حلیمہ ، زبیدہ) ہیں، بعد ازاں ایک بیٹے (فاروق) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی (عائشہ) دو بیٹے (عدنان، عمیر) اور ایک بیٹی (زیب النساء) ہے ، اسکے بعد ایک بیٹی (زبیدہ) کا انتقال ہوا جس کے ورثاء میں شوہر (رفیق) دو بیٹی (سنیا، شاہین ) اور ایک بیٹا (و قاص) ہے، پھر ایک اور بیٹی (زرینہ کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں دو بیٹے (فرمان، فیضان ) اور ایک بیٹی (فائزہ) ہے جبکہ شوہر کا ان سے پہلے انتقال ہو گیا۔ اسکے بعد مرحوم حاجی عبد الکریم کی بیوہ (زینب) کا انتقال ہو گیا اسکے ورثاء میں تین بیٹے (انور ،منیر، طاہر ) اور ایک بیٹی (حلیمہ ) ہے۔ جائیداد میں ایک گھر ہے ، اسکے علاوہ 50 تولہ سونا تھا جو کہ دو بھائیوں (منیر ، طاہر ) نے آپس میں تقسیم کر لیا اور کہا کہ ہم نے والدہ سے معاف کروالیاجبکہ وہ سارا سونا والد کا تھا، شرعی اعتبار سے کیا حکم ہو گا؟ نیز گھر کے بارے میں بھی انکا کہنا ہے کہ اس میں صرف اس وقت موجود زندہ ورثاء یعنی (انور، منیر ، طاہر اور حلیمہ) کا حصہ ہے جو انتقال کر چکے انکی اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ شرعی اعتبار سے بتادیں کہ کس کس کا حصہ ہو گا اور کتنا اور جو سونا وہ آپس تقسیم کر چکے اسکا کیا حل ہو گا ؟

    سائل:فرحان :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے تو ان ورثاء کے مابین شرعی تقسیم کچھ اس طرح ہوگی کہ امور متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے )کے بعدکل ترکہ گھر اور 50 تولہ سونا کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی پھر اس کے کل147840 حصص کیے جائیں گے ،ان میں سے ہر ایک کے حصص کی تفصل مندرجہ ذیل ہیں :

    فرحان اور ٖفیضان میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 3920حصص،فائزہ کے 1960حصص،رفیق کے 2940حصص،وقاص کے 3430حصص،سنیہ اور شاہینہ میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ 1715حصص،عائشہ کے 2940حصص،عدنان اور عمیر میں سے ہر ایک کے 6664حصص،زیب النساء کے 3332حصص،انور،منیراور طاہرمیں سے ہر ایک کے 31040حصص،حلیمہ کے 15520حصص۔

    باقی یہ بات واضح رہے کہ مورث جب فوت ہوتا ہےتو بوقت وفات جو ورثاء زندہ ہوتے ہیں وہی اس مورث کی وراثت کے حق دار ہوتے ہیں,تو حاجی عبد الکریم کی وفات کے وقت بیوی ،چار بیٹے اور تین بیٹیاں حیات تھیں ،تو ان کا وراثت میں حصہ ہے یہ بعد میں فاروق ،زرینہ اور زبیدہ فوت ہوئی ، توان کا حصہ ہے وہ ان کی اولاد کو ملے گا ، یہ کہنا کہ اب جو ورثاء حیات ان کو ملے گا یہ کہنا صحیح نہیں ،اور پچاس تولے سونا جو والد کی ملکیت میں تھا تو اس میں تمام ورثاء شریک ہیں منیر اور طاہر کا اس کو آپس میں تقسیم کر لینا سخت گناہ اور نہ جائز ہے یہ توبہ کریں اور شرعی اعتبار سے جس جتنا حصہ بنتا ہے وہ دیں ۔

    چھ بطن مناسخہ کی تفصیل پی ڈی ایف میں موجود ہے ۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ في اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ۔ (النساء : 11 ) ترجمہ : اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے ،بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،پھر اگر صرف لڑکیا ں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کیلیے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور ایک لڑکی ہو تو اس کیلیے آدھا حصہ ہے ۔

    شوہر اور بیوی کے حصے کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان مبارک ” وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ‘‘ترجمہ : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کاکا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔

    جو کسی کا حق وراثت نہ دے اس بارے رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک ہے۔ وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة، رواه ابن ماجه"( ۔ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کاٹی تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔( مشکاة المصابیح ،باب الوصایا ،الفصل الثالث ،جلد :۱ صفحہ:۲۵۶)

    السراجی فی المیراث میں ہے ’’و اما للبنات الصلب فاحول ثلاث : النصف للواحدة ،و الثلثان للاثنین فصاعدة ،و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن ‘‘ ترجمہ :حقیقی بیٹیوں کے تین احوال ہیں :ایک ہو تو نصف ،دو یا دو سے زیادہ ہو تو دو ثلث ،اور بیتے کے ساتھ تو لڑکے کیلیے دو لڑکیوں کا حصہ اور وہ لڑکا ان کو عصبہ بنا دیتا ہے :( السراجی فی المیراث ، فصل فی النساء ،صفحہ : 21 ،المدینةالعلمیة)

    فائدہ:مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ کہ کل رقم کو مبلغ یعنی 768پر تقسیم (Divide (کردیں جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں ،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 12شوال المکرم 1446ھ/11اپریل2025ء