حلال سرٹیفکیشن اور گوشت کی خریداری کا حکم

    Halal Certification aur Gosht ki Khareedari ka Hukm

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1169

    سوال

    غیر مسلم ممالک میں حلال سرٹیفیکیشن والے ادارے ہیں وہ حلال گوشت پر سٹیمپ لگا دیتے ہیں حلال سرٹیفائیڈ کی۔ ان ممالک میں یہ گوشت کھانا کیسا ہے؟ جبکہ یہ گوشت مسلمان اور کافر دونوں کی دکانوں پر ملتا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ حلال سرٹفیکیشن دینے والے مسلمان عادل، فاسق ہیں یا مستور الحال ؟ زید کا کہنا ہے کہ اشیاء میں اصل حلت ہے اور کافر کی خبر دیانات میں معتبر نہیں، لہذا کافر کہہ بھی دے کہ یہ گوشت حرام ہے تو پھر بھی غیر مسلم ممالک کا گوشت حلال ہے۔ اسی طرح باقی اشیاء چاکلیٹ پر اگر لکھا ہے کہ اس میں حرام اجزاء ہیں تو اس کا کیا حکم ہو گا؟سائل: احمد رضا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    غیر مسلم ممالک میں حلال اداروں کی تصدیق پر اس وقت تک اعتماد کیا جا سکتا ہے جب تک کہ خلافِ واقعہ کوئی ٹھوس دلیل نہ ملے۔ زید کا کہنا(گوشت میں اصل اباحت) شرعی طور پر غلط ہے کیونکہ گوشت میں اصل حرمت ہے۔ نیز، مصنوعات پر لکھی گئی اجزاء کی فہرست کمپنی کا اپنا اقرار ہے، جس پر عمل کرنا لازم ہے۔

    تفصیل مسئلہ:

    گوشت میں دیگر اشیاء کی طرح اباحت نہیں، بلکہ اس میں اصل حرمت ہے۔ جب تک ذبحِ شرعی یقینی طور پر ثابت نہ ہو جائے، جانور اپنے اصل (مردار ہونے) کی بنا پر حرام رہتا ہے۔ لہٰذا زید کا یہ کہنا کہ اشیاء میں اصل حلت ہے گوشت کے معاملے میں درست نہیں، کیونکہ گوشت کی حلت کیلئے ذبحِ شرعی کی شہادت یا معتبر خبر ضروری ہے۔جہاں تک غیر مسلم ممالک میں حلال سرٹیفیکیشن والے اداروں کا تعلق ہے، تو حلت و حرمت کی خبر دینا دیانات کے زمرے میں آتا ہے۔ دیانات میں اصولی طور پر مسلمان عادل کی خبر شرط ہے، تاہم اگر خبر دینے والا مستور الحال یا فاسق ہو تو تحری لازم ہے۔ اگر غالب گمان ہو کہ یہ ادارے تفتیش کے بعد مُہر لگاتے ہیں، تو ان کی تصدیق پر بھروسہ جائز ہے۔

    مزید یہ کہ اگرچہ دیانات میں کافر کی خبر معتبر نہیں، لیکن معاملات میں اس کی خبر مقبول ہے۔ چونکہ گوشت کی خریداری ایک معاملہ ہے، اس لیے اگر کافر دکاندار یہ کہے کہ ’’میں نے یہ گوشت کسی مسلمان یا کتابی (اہلِ کتاب) سے خریدا ہے‘‘، تو اس کی یہ بات قبول کی جائے گی، بشرطیکہ خریدار کا دل اس کی سچائی کی تصدیق کرے۔ البتہ اگر ذبح کرنے والا تو مسلمان ہو لیکن اس کے بعد گوشت کافر کی تنہا نگرانی میں رہے اور مسلمان کی نظر سے اوجھل ہو جائے، تو ایسی صورت میں کافر کی یہ خبر کہ ’’یہ وہی ذبیحہ ہے‘‘ مشکوک ہو جاتی ہے اور احتیاط لازم آتی ہے۔

    چاکلیٹ اور دیگر مصنوعات جن میں گوشت شامل نہیں ہوتا، ان میں اصل حلت برقرار رہتی ہے جب تک کہ کسی حرام جزو کا یقین نہ ہو جائے۔ تاہم، اگر کسی مصنوعات کے پیکٹ پر کمپنی نے خود حرام اجزاء (مثلاً سور کی چربی) کی صراحت کر دی ، تو شرعی قاعدہ "الكتاب كالخطاب" (تحریر کلام کی طرح ہے) کے تحت اسے کمپنی کا اپنے مال کے بارے میں اعترافِ حقیقت مانا جائے گا۔ چونکہ کافر کی خبر اپنی مصنوعات کے بارے میں معاملات کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے اس تحریر کو معتبر مانتے ہوئے ایسی چیز کے استعمال سے بچنا واجب ہے، کیونکہ یہ خبر حرمت کا یقین یا کم از کم قوی شک پیدا کرنے کیلئے کافی ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    کافر خادم کی خریداری اور حلتِ گوشت کے متعلق امام محمد بن الحسن الشیبانی (المتوفی: 189ھ) رقمطراز ہیں: "رجل أرسل أجيرا له مجوسيا أو خادما فاشترى لحما فقال اشتريته من يهودي أو نصراني أو مسلم وسعه أن يأكل".ترجمہ: کسی شخص نے اپنے مجوسی (کافر) مزدور یا خادم کو گوشت خریدنے کیلئے بھیجا، پس اس نے گوشت خریدا اور کہا کہ میں نے یہ گوشت کسی یہودی، نصرانی یا مسلمان سے خریدا ہے، تو اس شخص کیلئے وہ گوشت کھانا جائز ہے۔ (الجامع الصغیر، کتاب الکراہية، ص 476، عالم الکتب بیروت)

    معاملات اور دیانات میں قول کی مقبولیت کے فرق پر امام ابوالحسین احمد بن محمد القدوری (المتوفی: 428ھ) فرماتے ہیں: "ويقبل في المعاملات قول الفاسق ولا يقبل في أخبار الديانات إلا قول العدل".ترجمہ: معاملات (خرید و فروخت وغیرہ) میں فاسق کا قول قبول کیا جائے گا، لیکن اخبارِ دیانات (حلال و حرام کے شرعی احکام) میں صرف عادل (مسلمان) کا قول ہی معتبر ہوگا۔ (مختصر القدوری، کتاب الحظر والاباحة، ص 240، دار الکتب العلمیة)

    معاملات و دیانات کے درمیان وجہِ فرق پر علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں: "ويقبل في المعاملات قول الفاسق، ولا يقبل في الديانات إلا قول العدل. ووجه الفرق أن المعاملات يكثر وجودها فيما بين أجناس الناس، فلو شرطنا شرطا زائدا يؤدي إلى الحرج فيقبل قول الواحد فيها عدلا كان أو فاسقا كافرا أو مسلما عبدا أو حرا ذكرا أو أنثى دفعا للحرج. أما الديانات فلا يكثر وقوعها حسب وقوع المعاملات فجاز أن يشترط فيها زيادة شرط، فلا يقبل فيها إلا قول المسلم العدل".ترجمہ: معاملات میں فاسق کا قول مقبول ہے، جبکہ دیانات میں صرف عادل کا قول قبول ہوگا۔ ان دونوں کے درمیان فرق کی وجہ یہ ہے کہ معاملات لوگوں کے درمیان کثرت سے واقع ہوتے ہیں، اگر ان میں سخت شرائط لگا دی جائیں تو تنگی پیدا ہوگی، لہٰذا حرج کو دور کرنے کیلئے معاملات میں ایک شخص کی بات قبول کر لی جائے گی خواہ وہ عادل ہو یا فاسق، کافر ہو یا مسلمان، غلام ہو یا آزاد اور مرد ہو یا عورت۔ رہی بات دیانات کی، تو وہ معاملات کی طرح کثرت سے پیش نہیں آتے، اس لیے ان میں عادل مسلمان کی شرط لگانا جائز ہے ۔ (الہدایة ، کتاب الکراہیۃ، فصل فی الاکل والشرب، 4/364، دار احياء التراث العربي بيروت )

    مستور الحال اور فاسق کی خبر کے متعلق علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "ولو أخبره بذلك فاسق أو من لا تعرف عدالته، فإن غلب على ظنه صدقه سمع قوله وإلا فلا، والأحوط أن يريقه ويتيمم". ترجمہ: اور اگر اسے (پانی کی نجاست یا حلت و حرام کے بارے میں) کوئی فاسق یا ایسا شخص خبر دے جس کی عدالت معلوم نہ ہو، تو اگر اس کے دل میں غالب گمان یہ ہو کہ وہ سچ کہہ رہا ہے تو اس کی بات مان لے، ورنہ نہیں، اور احتیاط یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے۔ (الاختیار ، کتاب الکراہیۃ، فصل فی مسائل مختلفۃ، 4/163، الحلبي القاهرة)

    دیانات میں شرطِ عدالت اور تحری کے متعلق علامہ ابرہیم بن محمد الحلبی (المتوفی:956ھ) فرماتے ہیں: "وشرط العدل في الديانات كالخبر عن نجاسة الماء فيتيمم إن أخبر بها مسلم عدل ولو أنثى أو عبدا ويتحرى في الفاسق والمبتور ثم يعمل بغالب رأيه ولو أراق فتيمم عند غلبة صدقه وتوضأ عند غلبة كذبه كان أحوط".ترجمہ: اور دیانات میں عادل ہونا شرط ہے جیسے پانی کی نجاست کے بارے میں خبر دینا، پس اگر اس کی خبر عادل مسلمان دے، خواہ وہ عورت ہو یا غلام، تو تیمم کیا جائے گا، اور فاسق و مستور الحال کے بارے میں تحری کرے گا پھر اپنے غالبِ گمان پر عمل کرے گا، اور اگر اس نے (نجاست کی خبر دینے والے کے) سچ کے غلبہ پر پانی بہا دیا اور تیمم کر لیا، یا جھوٹ کے غلبہ پر وضو کر لیا تو یہی زیادہ احتیاط والا راستہ ہے۔ (ملتقی الابحر، کتاب الکراہیۃ، فصل فی الکسب، ص: 188، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    گوشت کی اصل اور تعارضِ خبر پر سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں: "لبقائه أي اللحم على الحرمة أي التي هي الأصل إذ حل الأكل متوقف على تحقق الذكاة الشرعية وبتعارض الخبرين لم يتحقق الحل فبقيت الذبيحة على الحرمة".ترجمہ: گوشت اپنی اصل میں حرمت (مردار) پر باقی رہتا ہے، کیونکہ اس کا حلال ہونا شرعی ذبح (تذکیہ) کے پائے جانے پر موقوف ہے، اور جب حلال و حرام کی خبروں میں تعارض آ جائے تو حلت ثابت نہیں ہوتی اور ذبیحہ اپنی اصل حرمت پر باقی رہتا ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الطہارۃ، فصل فی بیان احکام السور، ص 35، دار الکتب العلمیة)

    کافر کی خبر کی شرعی حیثیت اور معاملات میں استثناء پر امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’حیوان جب تک زندہ تھا حرام تھا، ذبح شرعی سے حلال ہوگیا، اور اس کا حصول ثابت نہ ہوا، والیقین لایزول بالشک (شک سے یقین زائل نہیں ہوتا) اور وہ کافر غیر کتابی اگر کہے بھی کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے، تویہ خبر خصوصا امردیانت وحلت وحرمت میں ہیں۔ اور ان امور میں کافرکی خبر محض باطل ونامعتبر ہے... بخلاف اس کے کہ مسلمان اپنے کسی نوکر یا مزدور مشرک کو گوشت لینے بھیجے اور وہ خریدکر لائے اور کہے میں نے مسلمان سے خریدا ہے اس کا کھانا جائز ہوگا، جبکہ قبل میں اس کا صدق جمتاہو کہ اب یہ اصالۃً دربارہ معاملات قول کافر کا قبول ہے اگر چہ حکم دیانت کو متضمن ہوجائے گا... ولہذا اگر وہ نوکر کہے کہ بائع مشرک تھا گوشت حرام ہوگا، معلوم ہو اکہ بیچنے والے کا مشرک ہونا ہی حرمت گوشت کےلئے کافی ہے... ہاں جب تک وہ گوشت ذابح مسلم خواہ او ر کسی مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو تو اس مسلمان اور نیز دوسرے کو اس مسلم کی خبر پر کہ یہ وہی گوشت ہے جو مسلمان نے ذبح کیا، خریدنا اور کھانا سب جائز ہے کہ اب خبر مسلم ہے نہ کہ کافر، مگر وہ مخبر ثقہ نہ ہو تو قلب پر اس کا صدق جمنا شرط ہوگا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 20/283-285، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 25 شوال المکرم 1447ھ/14 اپریل 2026ء