Market mein jo qeemat chal rahi hai woh dunga
سوال
1۔میرا نام شہناز ساجد ہے میرے شوہر کے انتقال کو ایک سال ہو چکا ہے،میرے تین سوالات ہیں ۔
میرے نام پلاٹ تھا ،میرے شوہر نے مجھ سے خریدا تھا اور اس کے پیسے انہوں نے دینےتھے، دینے سے پہلے انتقال ہو گیا یہ بات حلفا بو لتی ہوں کہ میرا پلاٹ ان کے نام ہو گیا لیکن ادائیگی نہیں ہوئی تو ایک طرح کا یہ ایک قرض ہے ،آپ لکھ کر دے دیں تو باقی ورثاء ادا کر دیں گے ۔(شوہر نے پلاٹ خریدا لیکن قیمت ذکر نہیں کی یہ کہا کہ جو مارکیٹ میں قیمت چل رہی ہو گی وہ دو گا )۔
2۔میرا زیور چوری ہو گیا تھا تو میرے شوہر نے بولا کہ آپ کے لیے میں اس کے بدلے دوسرا زیور یا بسکٹ لے کر رکھو گاہر طرح کی قیمتی اشیا ان کے لو کر میں رکھی ہوتی تھیں، اب اس زیور کے بدلے ان کے لوکر میں دس تولے کابسکٹ موجود ہے جو چوری ہوا تھا اس کی مالیت بھی یہی تھی ۔ یہ ان کا تحفہ تھا جو انہوں نے زبانی بولا اور لے کر رکھا۔
3۔میری گاڑی میرے شوہر نے میرے لیے خریدی اور وہ میرے نام تھی اس کے کاغذات میرے پاس موجود ہیں ،انتقا ل سے پہلے انہوں نے میرے لیے دوسری گاڑی رکھنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے مجھ سے اجازت لی کہ گاڑی میرے نام کر دو اور دوسری گاڑی لے لو ،ان کے نام اس لیے کی تھی کہ میرے کاغذات کسی دوسرے کے پاس نہ جائیں اس بات کی انہوں نے مجھے تسلی دی کہ تمہاری ملکیت ختم نہیں ہو رہی صرف مصلحت ہے ،پردہ داری کا خیال رکھنا ہے میں نے گاڑی شوہر کے نام تو کر دی (وہ گاڑی میرے پاس ہے حوالے نہیں کی تھی) لیکن ان کا انتقال ہو گیا ہے اب ورثا کہتے ہیں کہ اگر گاڑی آپ کی ملکیت ہے تو فتوی لے کر آئیں ہم تسلیم کرلیں گے،تو کیا اب سونے کا بسکٹ اور گاڑی میری ملکیت ہے اور تقسیم میں نہیں جائے گی۔سائلہ :شہناز ساجد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائلہ اپنے بیان میں سچی ہے تو مذکورہ بالا سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں ۔
1۔پلاٹ کا سودہ طے کرتے وقت قیمت ذکر نہیں کی گئی اور خریدنے والےیعنی شوہرنے کہا کہ جو مارکیٹ میں قیمت چل رہی ہو گی وہ دوگا یہ بیع فاسد ہے ،خریدنے اور بیچنے والے دونوں پر اس بیع کو فسخ کرنا واجب ہے چونکہ خریدنے والا یعنی شوہر فوت ہو گیا اور پلاٹ پہ کسی بھی قسم کی زیادتی یعنی تعمیرات وغیرہ نہیں کی گئیں ، تو حق فسخ ابھی بھی ختم نہیں ہوااب ورثا ء پر لازم ہے کہ اس بیع کو فسخ کریں اور پلاٹ بیچنے والی یعنی سائلہ کو واپس کر دیں ۔
2۔ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہے یعنی ہبہ کرنے والا شخص شئ موہوبہ (جو چیز گفٹ دی گئی )کو موہوب لہ (جس کو گفٹ کی گئی)کے حوالے کردے اور اس کوشئی پر مالک اور قابض بنا دے فقط زبانی کہنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا ،لہذا سونے کا بسکٹ شوہر کی ملکیت ہے ان کے انتقال کے بعدورثا میں تقسیم ہو گا ۔
3۔چونکہ ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہے فقط دوسرے کے نام رجسٹری کرانے پر ہبہ تام نہیں ہوتا لہذا اس صورت میں بیوی نے اگرچہ شوہر کے نام گاڑی کرا دی لیکن گاڑی شوہر کے حوالے نہیں کی اور کوئی مالکانہ تصرف بھی نہیں دیا تو گاڑی بیوی کی ملکیت میں برقرارہے اس کو شوہر کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا ۔
دلائل و جزئیات :
بیع میں ثمن کا معلوم ہونا ضروری ہے وگرنہ بیع فاسد ہو جاتی ہے اس بارے علامہ ابو بکر بن مسعود کاسانی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں" وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الْمَبِيعُ مَعْلُومًا وَثَمَنُهُ مَعْلُومًا عِلْمًا يَمْنَعُ مِنْ الْمُنَازَعَةِ.فَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مَجْهُولًا جَهَالَةً مُفْضِيَةً إلَى الْمُنَازَعَةِ فَسَدَ الْبَيْعُ، وَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا جَهَالَةً لَا تُفْضِي إلَى الْمُنَازَعَةِ لَا يَفْسُدْ؛ لِأَنَّ الْجَهَالَةَ إذَا كَانَتْ مُفْضِيَةً إلَى الْمُنَازَعَةِ كَانَتْ مَانِعَةً مِنْ التَّسْلِيمِ وَالتَّسَلُّمِ فَلَا يَحْصُلُ مَقْصُودُ الْبَيْعِ" ترجمہ : بیع کے صحیح ہو نے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ مبیع اور ثمن دونوں معلوم ہوں کہ جھگڑے سے مانع ہو اگر مبیع یا ثمن میں سے کوئی ایک مجہول ہو اورجہالت بھی ایسی ہو جو جھگڑے تک پہنچاتی ہوتو بیع فاسد ہے ،اوراگر جہالت ایسی نہیں جو جھگڑے تک پہنچائے تو بیع فاسد نہیں ،کیونکہ جب جہالت جھگڑے تک پہنچانے والی ہو تو وہ سپردگی سے مانع ہو تی ہے ،اس بنا پہ بیع کا مقصود حاصل نہیں ہوگا۔(البدائع الصنائع ،کتاب البیوع ،فصل في شرائط الصحة في البيوع،جلد:۵،صفحة :۱۵۶،دارالکتب العلمیة)
ثمن کا ذکر نہ ہونا اور یہ کہنا کہ مارکیٹ میں جو قیمت چل رہی ہے وہ دو گا ،یہ بیع فاسد ہے اس بارے علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "بیع میں ثمن کا ذکر نہ ہویعنی یہ کہا کہ جو بازار میں اس کا نرخ ہے دیدینا یہ بیع فاسد ہے اور اگر یہ کہا کہ ثمن کچھ نہیں تو بیع باطل ہے کہ بغیر ثمن بیع نہیں ہوسکتی۔(بہار شریعت،حصہ یازدہم،صفحہ:707)
بائع اور مشتری میں سے کسی ایک کے مرنے سے حق فسخ ختم نہیں ہوتا اس بارے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "وَلَا يَبْطُلُ حَقُّ الْفَسْخِ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَافَيُحَلِّفُهُ الْوَارِثُ بِهِ يُفْتَى" ترجمہ: بائع فاسد میں بائع یا مشتری کی موت کے سبب سے حق فسخ باطل نہیں ہوتا، چنانچہ مرنے والے کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا اور اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔( رد المحتار ، کتاب البیوع ،باب بیع الفاسد،جلد:۵،صفحة:۹۵،دار الفکر بیروت)
اگر مبیع فاسدہ پر کچھ تغیر و تبدل اور زیادتی کی جائے تب حق فسخ ختم ہو جاتا ہےوگرنہ نہیں" بَنَى أَوْ غَرَسَ فِيمَا اشْتَرَاهُ فَاسِدًا لَزِمَهُ قِيمَتُهُمَا وَامْتَنَعَ الْفَسْخُ" ترجمہ:زمین بطور بیع فاسد خریدی تھی اس میں درخت نصب کر دیے یا مکان خریدا تھا اس میں تعمیر کی تو مشتری پر قیمت دینا واجب ہوگی اور بیع فسخ نہیں ہو سکتی ۔ (رد المحتار ، کتاب البیوع ،باب بیع الفاسد ،جلد:۷،صفحة:۳۰۲،مکتبة امدادیة)
ہبہ قبضہ سے تام ہوتا ہے اس بارے مجلۃ الاحکام میں ہے "فإذا وهب أحد شيئا إلى آخر لا تتم الهبة قبل القبض" ترجمہ : جب ایک شخص کسی دوسرے کی طرف کوئی چیز ہبہ کرتا ہے تو قبضہ سے پہلے ہبہ تام نہ ہوگا ۔(مجلة الاحکام ،المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،صفحة:۲۲،نور محمد آرام باغ کراچی)
ہبہ کی شرائط سے متعلق در مختار میں ہے :’’ و شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول ‘‘ ترجمہ : ہبہ کی جانے والی چیز میں ہبہ درست ہونے کی یہ شرائط ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو ، مشاع ( مشترک ) نہ ہو ، جدا ہو اور ( کسی اور کے قبضہ کے ساتھ ) مشغول نہ ہو ۔(رد المحتار ،کتاب الهبة،جلد:۵،صفحة:۶۸۸،دار الفکر بیروت)
صرف نام یا رجسٹری کروانے سے قبضہ مکمل نہیں ہوتا، چنانچہ اعلحضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاںرحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ” ہندہ نے اپنی بیٹی کو مکان ہبہ کیا ، اس کی جسٹری بھی بچی کے نام کروادی، تو یہ مکان بچی کا ہو گیا ی یا نہیں ؟“ جواباً آپ رحمتہ الله رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ” ماں اگر اسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے کل اسباب سے بالکل خالی کر کے لڑکی کو قابض نہ کر دیا تھا ، جب تو (رجسٹری کے باوجود ) لڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہوا۔ ہندہ اگر زندہ ہے تو اپنے مکان کی وہ خود مالک ہے اور اگر مر چکی ہے ، تو لڑ کی اس مکان میں سے تہائی لے سکتی ہے اور اگر ہندہ نے مکان بالکل خالی کر کے پورا قبضہ لڑکی کو دے دیا تھا، وہ اس کی مالک ہو گئی۔ (فتاویٰ رضویہ ، جلد 19 ، صفحہ 390، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:18محرم الحرام 1446 ھ/25جولائی 2024ء