بیوی کو زوجیت سے آزاد کرتا ہوں

    Biwi ko Zaujiyat se Azaad Karta Hoon

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1171

    سوال

    وحید احمد ولد ارباب علی قوم سماں نے اپنی بیٹی سمیرا لاکھا محلہ گھوٹکی کی رضا و خوشی سے ممتاز علی لاشاری ولد سہارو خان کے ساتھ 14 اپریل 2017 کو نکاح شرع محمدی کے مطابق کیا۔ اس نکاح سے ایک بیٹا 5 اپریل 2021 کو پیدا ہوا۔ بعدازاں ممتاز علی لاشاری کی طرف سے مسلسل بیوی کو گھر نہ کرنے اور ناچاقی کی وجہ سے ان سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا اور طلاق کے مطالبے کے لیے بیٹی کی طرف سے بحیثیت وکیل کے وحید احمد نے رابطہ کیا جس پر ممتاز لاشاری کے مطالبے کے مطابق چار افراد ان کے گھر حیدر آباد طلاق لینے کی نیت سے گئے اس مقصد کے لیے وحید احمد اپنے ساتھ سید اظہار شاہ بخاری، حافظ محمد حسن چاچڑ، محسن حسن بھٹا اور آصف علی ان کے پہنچنے کے بعد وہاں تفصیلی حال احوال ہوا اور حافظ محمد حسن نے ممتاز کو بتایا کہ ہم آپ کے مطالبے کے مطابق طلاق لینے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ اس گفتگو کے دوران ممتاز علی لاشاری نے کہا: میں آپ کی عزت کرتے ہوئے سمیرا بیوی کو زوجیت سے آزاد کرتا ہوں۔ کیا ان مخصوص الفاظ کے ساتھ خاوند بیوی کے تعلقات باقی رہیں گے یا طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر وہ عورت آگے نکاح کرنا چاہے تو اس کی کیا صورت ہے کیا وہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں۔

    سائل : عبد الوحید:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تو اس جملے ’’سمیرا بیوی کو زوجیت سے آزاد کرتا ہوں‘‘ سے بیوی کو ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے؛ کیونکہ اس قسم کے الفاظ کی وضع طلاق کے لیے نہیں ، اسی بنا پر فقہاء کرام نے اسے کنایہ میں شمار کیا ، لیکن فی زمانہ پاکستان کے اکثر شہروں میں کثیر الاستعمال اور عرف کی وجہ سے یہ الفاظ ملحق بصریح ہیں؛ کیونکہ جب بھی کوئی یہ الفاظ بولتا ہے تو متبادر الی الفہم طلاق ہی کے معنی ہوتے ہیں۔اور عدت گزرنے تک شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، اگر رجوع کر لیتا ہے تو نکاح برقرار رہے گا، اور اگر رجوع نہیں کرتا یہاں تک کہ عدت گزر جاتی ہے تو یہ طلاقِ رجعی بائن ہو جائے گی، جس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد عورت جہاں نکاح کرنا چاہے، نکاح کر سکتی ہے۔

    اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے"اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔(البقرہ :229)

    لفظ صریح اور کنایہ کا دار و مدار عرف میں کثرتِ استعمال پر ہے ،اس بارے رد المحتار میں ہے :"و الصریح والکنایةمن اقسام الحقیقة و المجاز فالحقیقة التی لم تھجر صریح والمھجورة التی غلب معناھا المجاز کنایة،و المجاز الغالب الاستعمال صریح و غیر غالب کنایة۔ترجمہ:صریح اور کنایہ حقیقت اور مجاز کی اقسام میں سے ہیں ،پس وہ حقیقت جسے ترک نہ کیا گیا ہو وہ صریح ہے ،اور حقیقت مہجورہ جس کے معنی پر مجاز غالب آجائے وہ کنایہ ہے ،اور مجاز جو غالب استعمال ہوجائے وہ صریح ہے اور مجاز غیر غالب کنایہ ہے ۔

    فتاوی رضویہ میں ہے: " میں نے تیر اپاؤں کھولا " لِعَدْمِ التَّعَارُفِ فِي بِلَادِنَا وَمَا فِي الخلاصة" پای کشاده کردم ترا " تفسیر قَوْلِهِ طَلَّقْتُكِ عُرْفاً حَتَّى يَكُوْنَ رَجْعِياً وَتَقَّعُ بِدُوْنِ النِّيَّةِ. اهـ. فَمَبْنَى كَمَا تَرَى عَلَى الْعُرْفِ. ترجمہ : یہ الفاظ ہمارے علاقے کا عرف نہ ہونے کی بناء پر (کنایہ ہیں)، اور جو خلاصہ میں ہے کہ " میں نے تیرے پاؤں کھول دیے " عرف میں " میں نے تجھے طلاق دی" کے ہم معنی ہے، لہذا اس سے بغیر نیت طلاق رجعی ہو گی ۔ تو یہ عرف پر مبنی ہے جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے ۔ ( فتاوی رضویہ ، ج: 12 ، ص: 523، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ فارسی الفاظ " رہا کر دم " کے بارے میں فرماتے ہیں: " سَرَّحْتُكَ كِنَايَةٌ لَكِنَّهُ فِي عُرْفِ الْفُرْسِ غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ فِي الصَّرِيحِ فَإِذَا قَالَ" رها كردم" أَيْ سَرَّحْتُكَ يَقَعُ بِهِ الرَّجْعِيُّ مَعَ أَنَّ أَصْلَهُ كِنَايَةٌ أَيْضًا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُ غَلَبَ فِي عُرْفِ الْفُرْسِ اسْتِعْمَالُهُ فِي الطَّلَاقِ وَقَدْ مَرَّ أَنَّ الصَّرِيحَ مَا لَمْ يُسْتَعْمَلْ إِلَّا فِي الطَّلَاقِ مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ. ترجمہ : سرحتک (میں نے تجھے چھوڑا) کنایہ ہے لیکن فارسیوں کے عرف میں اس کا غالب استعمال صریح میں ہے پس جب مرد بیوی سے کہے " میں نے تجھے رہا کیا " یعنی " سر خٹک " کہے۔ تو اس سے رجعی طلاق واقع ہو گی باوجود یہ کہ اسکی اصل کنایہ ہے۔ اور یہ اسلئے ہے کہ لوگوں کے عرف میں اس کا غالب استعمال طلاق میں ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ صریح الفاظ وہ ہیں جو طلاق میں ہی استعمال ہوں چاہے وہ کسی بھی زبان کے ہوں۔ (رد المحتار, باب الكنايات، ج:4، ص:530،دار الفکر بیروت)

    امام اہلسنت مجد د دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بعض علاقوں اور اہل پیشہ میں پائے جانے والے عرف کی بناء پر لفظ " فارغ خطی " کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: " فَإِنَّ هَذَا اللَّفْظَ مِنَ الرَّجُلِ لِإِمْرَأَتِهِ لَا يُسْتَعْمَلُ إِلَّا فِي مَعْنَى الطَّلَاقِ وَلَا يُرَادُ وَلَا يُفْهَمُ مِنْهُ إِلَّا هَذَا فَكَانَ مِنَ الصَّرِيحِ الَّذِي لَا يَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ.ترجمہ : خاوند کی طرف سے بیوی کے لیے اس لفظ کا استعمال صرف طلاق کے معنی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد اور مفہوم یہی ہوتا ہےلہذا یہ لفظ صریح ہے جس میں نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ ( فتاوی رضویہ ، ج:12 ، ص: 559، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    طلاق رجعی عدت گزرنے کے بعد بائن ہو جاتی ہے اس بارے علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی :1252ھ) فرماتے ہیں:" والرجعی لا یزیل الملك الا بعد مضی العدۃ. ترجمہ : رجعی طلاق ملکیت کو زائل نہیں کرتی مگر عدت گزرنے کے بعد ملکیت کو ختم کر دیتی ہے ۔( رد المحتار ، کتاب الطلاق ،باب الرجعۃ ،ج:3،ص:441،دار الفکر بیروت)واللہ تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 28شوال المکرم1447ھ/17 اپریل 2026