Mushtarka Maal se Haasil Hone Wale Munafa ka Hukm
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا، جس کے بعد اس کی بیوی اور بالغ اولاد (بیٹے اور بیٹیاں) موجود ہیں۔ تمام بیٹے اکٹھے رہتے ہیں، مشترکہ طور پر کماتے اور خرچ کرتے ہیں، جبکہ بعض بیٹیاں شادی کے بعد الگ رہائش اختیار کر چکی ہیں۔ مرحوم کی جائیداد (زمین، کرایہ، کاروبار وغیرہ) بدستور مشترکہ طور پر زیرِ استعمال ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی مشترکہ طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
اس پس منظر میں درج ذیل سوالات کے شرعی احکام مطلوب ہیں:
1.مرحوم کی برسی کے موقع پر تقریباً دو سے ڈھائی لاکھ روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جو اسی مشترکہ جائیداد یا اس کی آمدنی سے لیے جاتے ہیں۔کیا اس خرچ کے لیے تمام ورثاء (خصوصاً بیٹیاں) کی اجازت لینا ضروری ہے؟
2:مرحوم کی جائیداد سے وقت کے ساتھ جو اضافہ (مثلاً کرایہ، منافع یا کاروباری ترقی) حاصل ہوتا ہے،کیا یہ اضافہ بھی تمام ورثاء (بیٹوں اور بیٹیوں) میں تقسیم ہوگا؟یا چونکہ بیٹے محنت کر رہے ہیں، اس لیے یہ اضافہ صرف انہی کا حق ہوگا؟
3:اگر وراثت کئی سال (مثلاً 2، 5 یا 10 سال) تک تقسیم نہ کی جائے اور بیٹے پوری جائیداد اپنے تصرف میں رکھیں، جبکہ بیٹیاں خاموش ہوں اور کوئی مطالبہ نہ کریں،تو کیا اس صورت میں بیٹوں کا اس جائیداد کو اپنے استعمال میں رکھنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ اس وراثت میں بہنوں کا بھی حصہ ہے۔
4:شریعتِ اسلامیہ میں وراثت کی تقسیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟کیا اسے فوراً تقسیم کرنا ضروری ہے یا تاخیر کی گنجائش ہے؟
سائل : عبد اللہ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ بالا سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :
1.جب مُورِث کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کا ترکہ جب تک ورثاء میں تقسیم نہ کیا جائے تمام ورثاء کے مابین مشترک رہتا ہے۔ ایسے مال مشترک میں کسی ایک وارث کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا برسی کے اخراجات کے لیے تمام ورثاء کی اجازت لینا ضروری ہے، اور اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہو تو اس کے حصے سے کسی قسم کے اخراجات نکالنا ہرگز جائز نہیں۔
2.جیسا کہ ابھی یہ بات ذکر کی گئی کہ میراث کی تقسیم سے قبل ترکہ مشترک رہتا ہے، لہٰذا اس مشترکہ ملکیت سے حاصل ہونے والا ہر قسم کا(کرایہ ،منافع،کاروباری ترقی)بھی ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
3.بیٹوں کا مرحوم کی جائیداد کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں رکھنا جائز نہیں؛ کیونکہ مشترکہ ملکیت میں ہر شریک دوسرے کے حصے کے اعتبار سے اجنبی کی طرح ہوتا ہے، اس لیے بغیر اجازت تصرف درست نہیں۔
4.میراث کی تقسیم میں حتیٰ الامکان جلدی کرنی چاہیے، اور بلا عذرِ شرعی تاخیر کرنا مناسب نہیں۔ تاہم اگر کوئی عذر شرعی ہو تو تاخیر کی گنجائش ہے۔ نیز تاخیر کی صورت میں عموماً کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں؛ مثلاً اگر کسی مشترکہ مکان میں کوئی وارث دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تعمیرات یا مرمت پر خرچ کرے تو یہ خرچ تبرع (احسان) شمار ہوگا، اور شرعاً وہ دیگر ورثاء سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے اسے بہت پریشانی ہوتی ہے ۔
دلائل و جزئیات:
ملکیت وراثت کے طور پہ ہو تو وہ شرکت ملک ہے اس کے متعلق "مجمع الانهر" میں ہے: ’’ شركة الملك (أن يملك اثنان) أو أكثر (عينا إرثا أو شراء أو اتهابا واستيلاء) أي أخذا بالقهر من مال الحربي ‘‘. ترجمہ: شركة الملک یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد ایک چیز کے مالک ہوں، خواہ وہ (ملکیت) وراثت، خریداری، ہبہ یا حربی کے مال پر قبضہ کے ذریعے حاصل ہوئی ہو۔( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،ج:1،ص:714، دار إحياء التراث العربي)
شرکت املاک کے حکم کے متعلق' البدائع الصنائع' میں ہے: ’’فأما شركة الأملاك، فحكمها في النوعين جميعاً واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛‘‘. ترجمہ :شرکت املاک تو دونوں قسموں میں اس کا حکم یکساں ہے، اور وہ یہ کہ ہر شریک دوسرے شریک کے حصے میں ایسے ہی ہے جیسے کوئی اجنبی ہو، اور وہ دوسرے کے حصے میں بغیر اس کی اجازت کے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الشركة۔ فصل في حكم الشركة،جلد:6،صفحة:65،دار الکتب العلمیة)
بہار شریعت میں ہے: ’’ شرکتِ ملک ميں ہر ایک اپنے حصہ ميں تَصَرُّف کرسکتا ہے اور دوسرے کے حصہ ميں بمنزلہ اجنبی ہے، لہٰذا اپنا حصہ بیع کرسکتا ہے اس ميں شریک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اُسے اختيار ہے شریک کے ہاتھ بیع کرے یا دوسرے کے ہاتھ۔(بہار شریعت،:حصہ:10،صفحہ:490،مکتبہ دعوت اسلامی)
مشترکہ ملکیت سے حاصل ہونے مال(منافع) کی تقسیم کے بارے میں مجلۃ الاحکام میں ہے:’’تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ‘‘.ترجمہ: مشترکہ ملکیت میں حاصل ہونے والے اموال کو ان کے مالکین کے درمیان ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کرنا۔( مجلۃ الاحکام ،الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف، ج:۱،ص:۲۶ ، مادہ نمبر 1073 )
اسی طرح درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:’’إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما‘‘.ترجمہ: جب دو شریکوں کے حصے مساوی ہوں یعنی مشترکہ نصف نصف ہو تو برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔اور جب متساوی نہ ہو بایں طور کہ ان میں سے ایک کا ثلث اور دوسرے کے دو ثلث ہوں تو حاصلات اسی نسبت سے تقسیم کیے جائیں گے کیونکہ ان اموال کے نفقات انکے حصوں کے نسبت سے ہیں۔ (مجلۃ الاحکام ،الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف، ج:۱،ص:۲۶ ، مادہ نمبر ً مادہ 1077)
رد المحتار میں ہے :’’ وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ‘‘.ترجمہ : اسی طرح اگر بھائی اپنے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں اکٹھے کام کریں اور مال میں اضافہ ہو جائے، تو وہ اضافہ سب کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، اگرچہ کام اور رائے میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔(رد المحتار،فصل في الشركة الفاسدة،ج:4،ص:325،دار الفکر بیروت)
مال وراثت کی تقسیم کب کی جائے اس حوالے سے 'الفتاوی الهندیہ' میں ہے ’’ (وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول‘‘.ترجمہ : مشترکہ مال کی تقسیم کسی ایک شریک کے مطالبہ پر کی جائے گی، اگر تقسیم کے بعد ہر شریک اپنے حصے سے نفع اٹھا سکے۔ زیادہ حصے والے کے مطالبہ پر تقسیم کی جائے اگر (تقسیم کے بعد) کم حصے والا شریک اپنے حصے کے کم ہونے کی وجہ سے نفع نہ اٹھا سکے، "الخانیہ" میں ہے کہ: ہر شریک کے مطالبہ پر تقسیم کی جائے گی، اور اسی پر فتویٰ ہے۔لیکن متونِ فقہ پہلے قول پرہے،پس اسی پر اعتماد کیا جائے گا۔ والّٰله تعالى اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 28شوال المکرم1447ھ/17 اپریل 2026