Takharruj wa Musalihat ka Masla
سوال
ہم دس بہن بھائی ہیں جن میں تین بھائی اور سات بہنیں ہیں، ہماری والدہ حیات ہے آٹھ سال پہلے میرے چھوٹے بھائی نے اس وقت کی مالیت کے حساب سے میرے ایک بھائی کو حصہ دے دیا تھا ،مگر اب جو آج کی مالیت ہے وہ چالیس لاکھ ہے اب اس میں اس بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟جبکہ میرے بھائی نے میرے چھوٹے بھائی کولکھ کر دے دیا تھا کہ اب میرا اس مکان سے کوئی حصہ نہیں بنتا ہے ،اب آج کے حساب سے جو مکان کی مالیت ہے وہ میرے چھوٹے بھائی کو جائے گی یاسب میں تقسیم ہوگی جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مکان کی مالیت چالیس لاکھ ہےاور ہم دو بھائی اور سات بہنیں ہیں او ر ایک والدہ ہےاب ہم سب کا کتناحصہ بنتا ہے ۔
نوٹ:ترکہ کے طور پر جو مکان ہے وہ والد کی ملکیت تھا ،مکان کی مالیت اس وقت 1000000 لاکھ تھی ،والد کے فوت ہونے کےبعد چھوٹے بھائی کوباہمی رضا مندی سے 200000 لاکھ روپے دیےگئے ۔سائل: معروف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ والد کے انتقال کے بعد چھوٹے بھائی کو وراثت کے تقسیم ہونے سے پہلے 2 لاکھ روپے باہمی رضا مندی سے دے دیےگئے، جس کو شریعت کی اصطلاح میں تخارج و مصالحت کہتے ہیں ،تو جب چھوڑابھائی مصالحت کے طور پر دو لاکھ روپے لے چکا ہے تو اب مکان کی وراثت میں اس کاکوئی حصہ نہیں بنتا،مال وراثت (مکان )کی تقسیم بقیہ ورثاء میں کی جائے گی ، لہذا ان کے مابین شرعی تقسیم کچھ اس طرح ہوگی کہ :امور متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے )کے بعد دکان کی کل مالیت 40 لاکھ روپے ہے ،اس کےکل 88 حصص کیے جائیں گے ان میں سے ہر ایک کے حصے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :
بیوی :11حصص پانچ لاکھ روپے ،ہر ایک بیٹی کو علیحدعلیحدہ :7حصص318181.8181لاکھ روپے،دو بھائیوں میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ :14 حصص،636363.63لاکھ روپے ۔
مسئلہ:8x11=88
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا
ثمن عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــات
1 7x11=77
11 7 7 7 7 7 7 7 14 14
دلائل و جزئیات:
لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے متعلق اللہ عز وجل ارشاد مبارک ہے "يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔"(النساء:۱۱)
بیوی کےحصے کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے "وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ"ترجمہ کنز الایمان :اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔(النساء:۱۲)
تخارج و مصالحت کس کو کہتے ہیں اس بارے میں قرة عیون الاخیار تکملة رد المحتار میں ہے "وَهُوَ فِي الِاصْطِلَاحِ تَصَالُحُ الْوَرَثَةِ عَلَى إخْرَاجِ بَعْضِهِمْ عَنْ الْمِيرَاث على شئ مِنْ التَّرِكَةِ عَيْنٍ أَوْ دَيْنٍ. قَالَ فِي سَكْبِ الْأَنْهُرِ: وَأَصْلُهُ مَا رُوِيَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ طَلَّقَ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ إحْدَى نِسَائِهِ الْأَرْبَعِ ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رُبُعَ الثُّمُنِ فَصَالَحُوهَا عَنْهُ عَلَى ثَلَاثَةٍ وَثَمَانِينَ أَلْفًا مِنْ الدَّرَاهِمِ.ترجمہ :تخارج اصطلاح میں کہتےہیں کہ ورثا کا صلح کرنا کسی ایک وارث کومیراث سے نکالناپر ترکہ میں سے کسی شئی پر وہ شئی عین ہو یا دین ،سکب الانھر میں فرماتے ہیں :تخارج کی اصل وہ ہے جو روایت کی گئی کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی وقت رحلت کی مرض میں چار بیویوں میں سے ایک کو طلاق دی ،پھر آپ خالق حقیقی کو جاملے وہ عورت ابھی عدت میں تھی تو حضرت سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ نے اسےآٹھویں حصے کی چوتھائی کا وارث بنایا پس ورثاء نے اس سے ۸۳ ہزار دراہم پر صلح کر لی ۔(قرة عیون الاخیارتکملةردالمحتار،کتاب الفرائض ،باب المخارج،جلد:۷،صفحة:۴۰۷،دار الفکر بیروت)
ورثاء میں سے کسی کو کچھ مال دے کر مال وراثت سے سبکدوش کرنے پر علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "أَخْرَجَتْ الْوَرَثَةُ أَحَدَهُمْ عَنْ التَّرِكَةِ وَهِيَ عَرَضٌ أَوْ هِيَ عَقَارٌ بِمَالٍ أَعْطَاهُ لَهُ أَوْ أَخْرَجُوهُ عَنْ تَرِكَةٍ هِيَ ذَهَبٌ بِفِضَّةٍدَفَعُوهَا لَهُ أَوْعَلَى الْعَكْسِ أَوْ عَنْ نَقْدَيْنِ بِهِمَا صَحَّ فِي الْكُلِّ صَرْفًا لِلْجِنْسِ بِخِلَافِ جِنْسِهِ" ترجمہ :ورثاء نے کسی وارث کو ترکہ سے نکالا مال کے بدلے جو مال اس کو دیا وہ ترکہ سامان ہو یا زمین یا ورثاء نے اس وارث کو ترکہ سے نکالا چاندی کے بدلے جو اس وارث کو دیا وہ ترکہ سونا ہو یا اس کے برعکس معاملہ ہو یا نقدیوں سے نکالا سونا و چاندی کے بدلے تمام صورتوں میں یہ معاملہ جائز ہے جنس کو اس کے خلاف جنس کے پھیرتے ہوئے۔(الدر المختار،کتاب الصلح،فصل فی التخارج،جلد:۱،صفحہ :۵۴۳،دار الکتب العلمیة)
جب کسی وارث کو بطور مصالحت کے ترکہ سے نکالا جائے تو اس ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی اس بارے فتاوی عالمگیری میں ہے "وَمَنْ صَالَحَ مِنْ الْغُرَمَاءِ أَوْ الْوَرَثَةِ عَلَى شَيْءٍ مِنْ التَّرِكَةِ فَاطْرَحْهُ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ ثُمَّ اقْسِمْ الْبَاقِيَ عَلَى سِهَامِ الْبَاقِينَ مِثَالُهُ زَوْجٌ وَأُمٌّ وَعَمٌّ صَالَحَ عَنْ نَصِيبِهِ مِنْ التَّرِكَةِ عَلَى مَا فِي ذِمَّتِهِ مِنْ الْمَهْرِ فَاطْرَحْهُ كَأَنَّهَا مَاتَتْ عَنْ أُمٍّ وَعَمٍّ فَاقْسِمْ التَّرِكَةَ بَيْنَهُمَا لِلْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَالْبَاقِي لِلْعَمِّ" اور ورثاءیا قرض لینے والوں میں سے جس نے ترکہ میں سے کسی بھی چیز پر صلح کی پس اس کو چھوڑو گویا کہ وہ ہے ہی نہیں پھر بقیہ ترکہ کو بقیہ ورثا میں ان کے حصے کی بنا پر تقسیم کریں،اس کی مثال وارثین شوہر و ماں اور چچا ہیں شوہر نےترکہ میں اپنے حصے سے مصالحت کی اس پر جو ا س کے ذمہ مہر تھا پس اس شوہر کو چھوڑو گویا کہ وہ عورت فوت ہوئی (ورثاء) ماں اور چچا سے پس ترکہ کو ان دونوں کے درمیان تقسیم کر ماں کے لیے دو ثلث اور باقی چچا کے لیے ۔( الفتاوى العالمكيرية،كتاب الفرائض،الباب السادس عشر في قسمة التركات،جلد :۶،صفحہ:۴۷۶،دار الفکر بیروت)واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 03محرم الحرام 1445 ھ/10جولائی 2024ء