سوال
1:استاذ،شاگرد سے کوئی کام کرواسکتا ہے یا نہیں ؟اگر ہاں تو اس کی کوئی حد متعین ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو کیا ؟
2:بعض اساتذہ کسی شاگرد کو کوئی کام بولتے ہیں ،لیکن اگر وہ کسی وجہ سے کر نہ پائے تو اس کی شامت آجاتی ہے ،محمد عربی کی سیرت میں اس کی مثال ملتی ہے ؟
3:ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب کوئی بھی استاذصاحب تشریف لاتے ہیں تو طلباء تعظیما کھڑے ہو جاتے ہیں آیا ان کا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟اگر درست ہے تو حضور ﷺکے درج ذیل فرامین کا کیا مطلب ہے ؟
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ،قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ، يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا»(رواہ ابو داؤد)
4:وہ کون سے افعال ہیں جو طالب علم کے مدرسے سے اخراج کے اسباب میں شمار ہو سکتے ہیں ،اصول بیان فرمادیں؟کہ ہم نے بعض جگہ دیکھا کہ چھوٹی سی بات پر مدرسے ،سے خارج کردیا جاتا ہے؟تو وہ طالب علم جو دین سے محروم ہوا تو وہ گناہ کس پر ہے؟
سائل: صابر رضا سیالوی: سکھر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:جی ہاں استاد تربیت کی خاطرشاگرد سے عرف کے مطابق کا م لے سکتا ہے ۔اور باقاعدہ اس کی کو ئی حد بندی تو نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ گزشتہ ادوارکے تلامذہ اپنے اساتذہ کی خدمت کے لیئے بہت ہی مشقت اور محنت طلب کام کر نے سے نہیں کتراتے بلکہ سعادت سمجھ کر انجام دیتے ،نہ ہی عرف میں برا سمجھا جاتا ،لیکن آج کےطلباء وہی کام اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں اور لوگوں میں بھی طلباء سے مشقت طلب کام لینے کو برا سمجھا جاتا ہے ۔ لہذا ہر علاقہ و شہر کے عرف کے مطابق استاد اپنے شاکرد سے کام لے سکتا ہے ۔تو استاد پر لازم ہے کہ وہ بچوں سےہر گز وہ کام نہ لے ،جو ان کی دسترس میں نہ ہو ،بلکہ طلباء کی طبائع اور طاقت کے مطابق ان سے کا م لیا جائے ،کیوں کہ فی زمانہ بہت سے والدین اپنے بچوں سے کسی قسم کاکام لینےکو اچھا نہیں سمجھتے ،اور ان ہی چیزوں کا خیال رکھنا عرف کی رعایت کرنا ہے۔
ردالمحتار( فصل فی الشرب،ج:۶،ص:۴۴۰،طبع:دارالفکر)میں جامع الفصولین کے حوالے سے منقول ہےکہ :‘‘وَلِلْأَبِ أَنْ يُعِيرَ وَلَدَهُ الصَّغِيرَ لِيَخْدُمَ أُسْتَاذَه لِتَعْلِيمِ الْحِرْفَةِ وَلِلْأَبِ أَوْ الْجَدِّ أَوْ الْوَصِيِّ اسْتِعْمَالُهُ بِلَا عِوَضٍ بِطَرِيقِ التَّهْذِيبِ وَالرِّيَاضَةِ’’ترجمہ:اور والد اپنے چھوٹے بیٹے کو استاد کی خدمت کیلئے متعین کرسکتا ہے تاکہ استاد اس کو صنعت وحرفت سکھائے، اور باپ دادا اوروصی بچّے سے بلا عوض کام لے سکتے ہیں تاکہ ا س کو ادب وتہذیب سکھائیں اور اس کو کام کرنے کی عادت ہو۔
2:یہ بات گزر چکی کہ طلباء کی طبائع اور طاقت کے مطابق ان سے کا م لیا جائے،تاہم اگرکوئی شاگرد کسی عذر یا بغیر عذر کے استاد کے حکم کی تعمیل نہیں کرسکاتو استادکو ہر گز سزا نہیں دینی چاہیئے،کیو ں کہ اس صورت میں استاد تربیت کے بجائے اپنی ذات اور غصے کو پیش نظر رکھ کر سرزنش کریگا جو کہ مزاج شریعت کے یکسر خلاف ہے ۔جب کہ شرعا طالب علم کو تربیت کے لیئے ہی ہاتھ سے تین ضربوں کی اجا زت ہے وہ بھی چہرہ ،سراور شرمگاہ کے علاوہ ۔
مشکاۃ المصابیح(باب فی اخلاقہ ،فصل اول،رقم الحدیث:۵۸۰۱،طبع:المکتبۃالاسلامی،بیروت)میں ہے :عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ میں نے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی دس سال تک خدمت کی !لیکن آپ نے کبھی مجھ سے اف تک نہیں فرمایا ،نہ ہی یہ فرمایا کہ کیوں کیا ؟اور نہ ہی یہ فرمایا کہ کیوں نہیں کیا؟
اور اس سے آگے والی حدیث میں ہے :‘‘كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُول الله’’ترجمہ:بے شک رسول ﷺتمام لوگوں سب سے اچھے واعلی اخلاق والے تھے ،آپ نے ایک دن مجھے کسی کام کے لیئے بھیجا ،تو میں کہا اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا جب کہ دل میں میرا ارادہ تھا کہ میں اس کام کے لیئے ضرور جا ؤں گا جس کے لیئے رسول اللہ ﷺنے مھے بھیجا ہے؛تو میں نکلا اور میرا گزر بچوں پر سے ہو ا جو کہ بازار میں کھیل رہے تھے ،تو اچانک رسول اللہ ﷺنے پیچھے کی جانب گدی سے پکڑا تو میں دیکھا کہ آپ ﷺتبسم فرما رہے تھے ،تو فرمایا اے چھوٹے انس !تم وہاں گئے ؟جہاں کا میں نے کہا !تو میں عرض کیا یا رسول اللہ جا رہا ہوں ۔
مکارم الاخلاق للخراطی (باب العفو ولصفح،ج:۱ص:۱۳۱،رقم:۳۷۶،دارالافاق ،قاہرہ)میں ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ خَادِمِي يُسِيءُ وَيَظْلِمُ، أَفَأَضْرِبُهُ؟ قَالَ: «لَا، تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً»ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میراخادم کام الٹا کرتا اور ظلم کرتا ہے تو کیا میں اسے مار سکتا ہوں ؟آپ ﷺنے فرمایا نہیں !ہر روز اسے ستر مرتبہ معاف کردیاکرو۔
ردالمحتار علی الدرالمختار(فصل اعطاءسائل المسجد،ج:۶،ص:۴۳۰،طبع:دارالفکر،بیروت)میں ہے لَا يَجُوزُ ضَرْبُ وَلَدِ الْحُرِّ بِأَمْرِ أَبِيهِ، أَمَّا الْمُعَلِّمُ فَلَهُ ضَرْبُهُ لِأَنَّ الْمَأْمُورَ يَضْرِبُهُ نِيَابَةً عَنْ الْأَبِ لِمَصْلَحَتِهِ، وَالْمُعَلِّمُ يَضْرِبُهُ بِحُكْمِ الْمِلْكِ بِتَمْلِيكِ أَبِيهِ لِمَصْلَحَةِ التَّعْلِيمِ، وَقَيَّدَهُ الطَّرَسُوسِيُّ بِأَنْ يَكُونَ بِغَيْرِ آلَةٍ جَارِحَةٍ، وَبِأَنْ لَا يَزِيدَ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ وَرَدَّهُ النَّاظِمُ بِأَنَّهُ لَا وَجْهَ لَهُ، وَيَحْتَاجُ إلَى نَقْلٍ وَأَقَرَّهُ الشَّارِحُ قَالَ الشُّرُنْبُلَالِيُّ: وَالنَّقْلُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ يَضْرِبُ الصَّغِيرَ بِالْيَدِ لَا بِالْخَشَبَةِ، وَلَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ:ترجمہ: اور آزاد شخص کے بچوں کو انکے والد کی اجازت کے ساتھ بھی مارنا جائز نہیں ہے، لیکن معلم کے لیے مارنا جائز ہے کیونکہ جس شخص کو مارنے کا کہا جائے وہ باپ کا نائب بن کر مصلحت کے مد نظر مارتا ہے ،جبکہ معلم کا مارنا اس لیے ہے کہ تعلیم کی مصلحت کے پیش نظر باپ معلم کو بچے کا مالک
بنا دیتا ہے تو معلم اپنی ملکیت حکمی کےسبب مارتا ہے ،اور طرطوسی نے کہا کہ آلہ جارحہ کے بغیر ہو ۔ اور یہ کہ تین ضربوں سے زائد نہ ہو۔ اور ناظم نے اس بات کا رد کیا کہ اسکی کوئی وجہ نہیں ہےاور یہ نقل کا محتاج ہے اور شارح نے اسی کو برقرار رکھا، علامہ شرنبلالی نے فرمایا کتاب الصلوۃ میں منقول ہے کہ بچہ کو ہاتھ سے مارا جائے لکڑی سے نہ مارا جائے اور تین ضربوں سے زائد نہ ہو۔
3:جی طلباء کا استاد کی تعظیم میں کھڑا ہو نا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے ،اور احادیث مبارکہ میں جو منع وارد ہو ئی وہ خاص لوگوں کے حق میں ہے ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فقہاء کرام نے احادیث مبارکہ میں غور خوض کرکےقیام تعظیمی کی چندصورتیں اوران کے مختلف احکامات بیان کیئے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ نےفرمایا:قُوْمُوْا إِلٰی سَيِّدِكُمْ۔(بخاری ، باب قول النبی ﷺ قومو الی سید کم ،رقم:۶۲۶۲)ترجمہ:اپنے سردار کی تعظیم و تکریم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
ایک دوسری حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآهَا قَدْ أَقْبَلَتْ رَحَّبَ بِهَا ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَا حَتّٰى يُجْلِسَهَا فِي مَكَانِهٖ. وَكَانَتْ إِذَا أَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَّبَتْ بِهٖ ثُمَّ قَامَتْ إِلَيْهِ فَقَبَّلَتْهٗ ۔ (الادب المفرد،باب قیام الرجل لاخیہ)ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آتے دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے اور بڑھ کر ان کا استقبال کرتے، ان کو بوسہ دیتے پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لاتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں اوربڑھ کر آپ کا استقبال کرتیں اور پھر آپ کا ہاتھ تھام کر دست بوسی کرتیں۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جو ان کی توبہ کی قبولیت کے حوالے سے مروی ہے اس میں حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےنماز فجرکی ادائیگی سے فارغ ہوکر ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ لوگوں نے مجھ سے جوق در جوق ملاقات کی اور یہ کہتے ہوئےمبارک باد دی کہ:اللہ نے آپ کی توبہ قبول فرمالی ہے ، مبارک ہو۔ یہاں تک کہ میں مسجد نبوی آگیاتو میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے جھرمٹ میں ہیں۔
فَقَامَ إِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِاللہِ یُہَرْوِلُ حَتّٰی صَافَحَنِیْ وَہَنَّأَنِیْ ۔(بخاری، باب حدیث کعب بن مالک،رقم:۴۴۱۸)ترجمہ:مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبید اللہ (رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہو گئے اور میری طرف بھاگتے ہوئے آئے، مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھ کو مبارک باد دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک دوسری روایت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں :
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتّٰى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهٖ۔(شعب الایمان،فصل فی سلام الواحد،رقم:۸۵۸۱،مکتبۃ الرشد،ریاض)
ترجمہ: واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے درمیان سے اٹھ کر اندر تشریف لے جاتے تو ہم(تعظیماً) آپ کے لیے کھڑے ہو جاتے، یہاں تک کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کےگھر میں داخل ہوجاتے۔عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (باب قول النبی ﷺ قومو الی سید کم ،ج:۲۲،ص:۲۵۱،طبع:دار احیاءالترث،بیروت)
میں ہے
‘‘أَن قيام المرؤوس للرئيس الْفَاضِل وَالْإِمَام الْعَادِل والمتعلم للْعَالم مُسْتَحبّ، وَإِنَّمَا يكره لمن كَانَ بِغَيْر هَذِه الصِّفَات، وَعَن أبي الْوَلِيد بن رشد: أَن الْقيام على أَرْبَعَة أوجه: الأول: مَحْظُور، وَهُوَ أَن يَقع لمن يُرِيد أَن يُقَام إِلَيْهِ تكبراً وتعاظماً على القائمين إِلَيْهِ. وَالثَّانِي: مَكْرُوه وَهُوَ أَن يَقع لمن لَا يتكبر وَلَا يتعاظم على القائمين، وَلَكِن يخْشَى أَن يدْخل نَفسه بِسَبَب ذَلِك مَا يحذر، وَلما فِيهِ من التَّشَبُّه بالجبابرة. وَالثَّالِث: جَائِز وَهُوَ أَن يَقع على سَبِيل الْبر وَالْإِكْرَام لمن لَا يُرِيد ذَلِك، ويؤمن مَعَه التَّشَبُّه بالجبابرة. وَالرَّابِع: مَنْدُوب وَهُوَ أَن يقوم لمن قدم من سفر فَرحا بقدومه ليسلم عَلَيْهِ أَو إِلَى من تَجَدَّدَتْ لَهُ نعْمَة فيهنيه بحصولها.أَومُصِيبَة فيعزيه بِسَبَبِهَا.’’ترجمہ:بے شک کسی شخص کا اپنے قوم کے معزز سردار یا امام عادل کے اکرام میں کھڑاہونا اور شاگرد کا استاد کی تعظیم میں کھڑا ہونا مستحب ہے ،اور مکروہ تو صرف اس شخص کے حق میں ہے جو ان صفات کے حامل نہ ہوں ۔اور ابو ولیدبن رشد سے روایت کہ قیام کی چار صورتیں ہیں (جو کہ درج ذیل ہیں ) پہلی ،حرام ہے:یہ حکم اس شخص کے حق میں ہے جو تکبر کی وجہ سے یہ چاہتا ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں۔ دوسری ،مکروہ ہے:
یہ اس شخص کے حق میں ہےجو تکبرتو نہ کرتا ہو لیکن اس عمل کی وجہ سے اس کے دل میں تکبرکا خوف ہو ، کیو نکہ اس میں متکبرین سے مشابہت بھی ہے ۔تیسری، جائز ہے: یہ اس شخص کے حق میں ہے جس کےلیے تعظیم کی غرض سے لوگ کھڑے ہوں لیکن خود اس کے دل میں اس کی طلب نہ ہواور متکبرین کی مشابہت سے بے خوف ہو ۔ چوتھی ،مستحب ہے: یہ اس شخص کے حق میں ہے جو سفر سے لوٹا ہو اور اس کی واپسی پر لوگ کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کریں،یااس کو نعمت حاصل ہوئی ہو اور بڑھ کرلوگ اس کو مبارک باد دیں یا اس پر کوئی مصیبت آئی ہو اور لوگ بڑھ کر اس کی تعزیت کریں اور اس کو تسلی دیں ۔
قیام تعظیمی کے دلائل کاتجزیہ:
ان تمام تفصیلات سے قیام تعظیمی کا جوازواستحباب بالکل وضح و ظاہر ہے اور رہی بات یہ کہ بعض لوگ غلط فہمی کی وجہ سے بعض احادیث سے مطلقا قیام تعظیمی کے عدم جواز پر استدلال کر تے ہیں کہ ان تمام احادیث میں قَامَ إِلٰی کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں کسی کی آمد پر آگے بڑھ کر اس کااستقبال کرنا، یا اسی طرح کسی اور صحیح مقصد ،مثلاً:سواری سے اتارنا، یا سہارا دینا وغیرہ کے لیے کھڑا ہونا۔چنانچہ یہاںکھڑاہونا کسی کے معظم ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک جائز مقصد کی تکمیل کے لیے ہے اور اگر کسی جائز مقصد کی تکمیل کے لیے کھڑا ہوا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر اس حدیث میں کسی شخص کے لیے کھڑا ہونا مراد ہوتا تو قَامَ إِلٰی کے بجائے قَامَ لَہٗ جیسے الفاظ وارد ہوتے۔ لیکن یہ اعتراض درست نہیں ہے ،کیوں کہ قَامَ إِلٰی اور قَامَ لَہٗ کے درمیان فرق کرنا اور اس کی وجہ سے قیام تعظیمی کا انکار کرنا درست نہیں ہے،کیوں کہ اس طرح کے مقام پر لام کے استعمال
کے بجائے إِلٰی کا استعمال آنے والے کی تعظیم کو زیادہ بتاتا ہے، کیوں کہ قُوْمُوْالِسَیِّدِکُمْ کا معنی صرف یہ ہوگا کہ اپنے سردار کی تعظیم کرو ،جب کہ قُوْمُوْاإِلٰی سَيِّدِكُمْ میں معنی یہ ہے کہ کھڑے ہو جاؤ اور ان کے استقبال اور ان کی تعظیم کے لیےان کی طرف بڑھواور اس میں تعظیم کامعنی مبالغے کے ساتھ پایاجارہا ہے۔
اور جہاں تک ابوداؤ دکی اس حدیث پاک کی بات ہے جس میں یہ آیا ہے کہ :لاَ تَقُوْمُوْا كَمَا تَقُوْمُ الأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا۔(یعنی عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہو)تو یہ حدیث سنداً مضطرب اور ضعیف ہے، اس کے راوی کچھ ایسے ہیں جو مجہول ہیں۔
جیسا کہ علامہ عینی علیہ الرحمہ امام طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
‘‘قَالَ الطَّبَرِيّ: هَذَا حَدِيث ضَعِيف مُضْطَرب السَّنَد فِيهِ من لَا يعرف’’ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (باب قول النبی ﷺ قومو الی سید کم ،ج:۲۲، ص:۲۵۱،طبع:دار احیاءالتراث،بیروت)
ترجمہ :یہ حدیث ضعیف اور سنداً مضطرب ہے، اور اس کے راوی کچھ مجہول ہیں۔
دوسری بات یہ کہ یہاں دنیاداروں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے وقت جوکیفیت ہوتی تھی اس کیفیت پر انکار مقصودہے مطلق قیام تعظیمی کی ممانعت مرادنہیں۔
اور رہی وہ حدیث جس میں یہ ذکر ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتےتھے:لِمَا یَعْلَمُوْنَ مِنْ کَرَاھِیَّتِہٖ لِذٰلِکَ (سنن ترمذی)کیوں کہ ان کو معلوم تھا کہ آپ اس بات کوناپسند فرماتے ہیں کہ کوئی آپ کے لیے کھڑا ہو۔
علامہ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وَالْجَوَابُ عَنْهُ مِنْ وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ خَافَ عَلَيْهِمُ الْفِتْنَةَ إِذَا أَفْرَطُوا فِي تَعْظِيمِهِ فَكَرِهَ قِيَامَهُمْ لَهُ لِهَذَا الْمَعْنَى وَلَمْ يَكْرَهْ قِيَامَ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ فَإِنَّهُ قَدْ قَامَ لِبَعْضِهِمْ وَقَامُوا لِغَيْرِهِ بِحَضْرَتِهِ فَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِمْ بَلْ أَقَرَّهُ وَأَمَرَ بِهِ ثَانِيهِمَا أَنَّهُ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الْأُنْسِ وَكَمَالِ الْوُدِّ وَالصَّفَاءِ مَا لَا يَحْتَمِلُ زِيَادَةَ بِالْإِكْرَامِ بِالْقِيَامِ فَلَمْ يَكُنْ فِي الْقِيَامِ مَقْصُودٌ ،وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي الْجَوَابِ عَنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِنَّ الْأَصَحَّ وَالْأَوْلَى بَلِ الَّذِي لَا حَاجَةَ إِلَى مَا سِوَاهُ أَنَّ مَعْنَاهُ زَجْرُ الْمُكَلَّفِ أَنْ يُحِبَّ قِيَامَ النَّاسِ لَهُ ،قَالَ وَالْمَنْهِيُّ عَنْهُ مَحَبَّةُ الْقِيَامِ فَلَوْ لَمْ يَخْطِرْ بِبَالِهِ فَقَامُوا لَهُ أَوْ لَمْ يَقُومُوا فَلَا لَوْمَ عَلَيْهِ فَإِنْ أَحَبَّ ارْتَكَبَ التَّحْرِيمَ سَوَاءٌ قَامُوا أَوْ لَمْ يَقُومُوا قَالَ فَلَا يَصِحُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ لِتَرْكِ الْقِيَامِ ۔متغیراً(فتح الباری شرح صحیح البخاری (باب قول النبی ﷺ قومو الی سید کم ،ج:۱۱، ص:۵۳،طبع:دار المعرفۃ،بیروت)
ترجمہ:(اس حدیث سےقیام کے عدم جواز پر استدلال کر نے والوں کا جواب دو طرح سےہے ،ایک یہ کہ حضور علیہ السلام نے فتنے کے خوف سے صحابہ کرام کو منع کیا ،جب صحابہ کرام ،حضور علیہ السلام کی تعظیم میں دیوانے ہو گئے تو آپ ﷺنے اپنے لیئے ان کے کھڑے ہونےکو اسی لیئے نا پسند فرمایا ،اور حالانکہ آپ ﷺنے صحابہ کا ایک دوسرے کے لیئے کھڑا ہونا ،ناپسند نہیں فرمایا ،جبکہ آپ ﷺبھی بعض صحابہ کے لیئے کھڑے ہو تے اور صحابہ کرام حضور کی موجودگی بھی بعض صحابہ کے لیئے کھڑے ہو جاتے (لیکن ) حضور نے اس کو نا پسند نہیں فرمایا بلکہ اس جا ری رکھا اور اس کا حکم دیا ہے ۔اور دوسرا جواب یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناپسندیدگی حضور اور صحابہ کے درمیان کامل محبت، راسخ الفت اورباطن کی صفائی کی بناپر تھی تو اب اس قیام کی وجہ سے محبت میں کسی قسم کی زیادتی کا کو ئی احتمال نہیں تھا تو قیام کا کو ئی مقصد نہیں رہا ( جس کی وجہ سےآپﷺاپنے لیئے قیام کوناپسندفرماتے )اور امام نووی حدیث معاویہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایاکہ اس کا صحیح اور زیادہ بہتر جواب بلکہ ایک ایسا جواب جوسب سے بےنیاز کردے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکلف کو اس بات سے روکا جائےکہ وہ یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں ،اور فرمایا کہ ممانعت تو اس شخص کے حق میں ہے جو اپنے لیئے کھڑے ہونے کو پسند کرے پس اگر اس کے دل نہ ہو تو لوگ کھڑے ہوں یا نہ ہوں،اس پر کوئی ملامت کی بات نہیں ہے اور جیسے ہی اس نےاپنے لیئے کھڑا ہوناپسند کیا ،حرام کا مرتکب ٹہرا چاہے لوگ اس کے لیئےکھڑے ہوں یا نہ ہوں ،لہذا اس حدیث سے قیام تعظیمی کی عدم جواز پر استدلال کرنا درست نہیں ہے ۔
4:ہر وہ کام جو مدرسے میں فساد ،دوسروں کے لیئے بگاڑاورہر وہ جرم جو مسلک و مدرسے کے بدنامی کا سبب بنے اس کی وجہ سے طالب علم کو مدرسے خارج کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی طالب علم پر زیادتی نہ ہو اور حتی الامکان اخراج سے بچتے ہو ئے معاملات کو حل کیا جائے ۔خدانخوستہ اگر کسی طالب علم کو ناحق خارج کیا گیا تو اس کا گناہ مخرِج پر ہو گا ۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ مدرسے سے اخراج کا سبب فسادہے(چاہے اس کا تعلق اپنی ذات سے ہو ،یا چند افراد سے یا پھر معاشرے سے )جب وہ لوگوں پر ظاہر ہو جا ئےکیوں کہ فساد ہی کی وجہ سے ابتداء اسلام میں بعض جگہ تعزیرا ملک بدر کا حکم دیا جاتا ۔
جیسا کہ صحیح البخاری (باب الاعتراف باالزنا،ج:۸،ص:۱۶۷،رقم:۶۸۲۷)میں،ملخصاً ہے‘‘وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ۔۔۔عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ۔۔۔’’
ترجمہ:قسم ہے اس ذات کی جس کی قبضہ قدرت مین میری جان ہے کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی بلند ذکر والی کے مطابق فیصلہ کروں گا کہ تم اور تمہارےبیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی لازم ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03جمادی اولی 1439 ھ/10جنوری 2019ء