اسکول کے عمومی اخراجات کے لیے زکوة کی رقم صرف کرنا

    school ke umoomi akhrajaat ke liye zakat ki raqam sirf karna

    تاریخ: 22 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 44
    حوالہ: 1782

    سوال

    ہم ایک غریب اور مستحق بچوں کا اسکول چلا رہے ہیں، جس میں تقریباً 450 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بچے غریب اور ضرورت مند خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ہم بچوں سے صرف 400 روپے ماہانہ فیس لیتے ہیں، جبکہ فی بچے اسکول کا ماہانہ خرچ تقریباً 1100 روپے بنتا ہے۔ باقی رقم ہم زکوٰۃ فنڈ سے پوری کرتے ہیں۔

    ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:

    1. کیا مستحق بچوں کی تعلیم کے لیے حاصل ہونے والی زکوٰۃ کی رقم سے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کی جا سکتی ہیں؟

    2. کیا اسی زکوٰۃ کی رقم سے اسکول کے ڈومیسٹک/غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں بھی ادا کی جا سکتی ہیں؟

    3. کیا زکوٰۃ کی رقم سے بچوں کی کتابیں، کاپیاں، اسٹیشنری اور تعلیمی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں؟

    4. کیا زکوٰۃ کی رقم سے اسکول کی عمارت کی مرمت، تعمیر و تزئین، پینٹ وغیرہ کا خرچ کیا جا سکتا ہے؟

    5. کیا اسکول کے لیے ڈیسک، کرسیاں، الماریاں، کابڈز وغیرہ بنوانے یا مرمت کروانے میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے؟

    6. کیا اسکول کے لیے فوٹوکاپی مشین یا دیگر ضروری مشینری/آلات زکوٰۃ کی رقم سے خریدے جا سکتے ہیں؟

    7. اگر زکوٰۃ کی رقم مستحق بچوں کی فیس کے طور پر وصول ہوتی ہے اور بعد میں وہ رقم اسکول کے عمومی اخراجات، مثلاً تنخواہوں وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے، تو کیا شرعاً یہ طریقہ درست ہے؟ یا زکوٰۃ کی رقم کو لازماً کسی مستحق بچے کو اس طرح دینا ضروری ہے کہ وہ اس کا مالک بن جائے؟

    8. اگر اسکول کے عمومی اخراجات زکوٰۃ کی رقم سے پورے کرنا شرعاً درست نہ ہو تو براہِ کرم یہ بھی بتا دیں کہ مستحق بچوں کی تعلیم کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنے کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہوگا؟

    براہِ کرم اس پورے معاملے کی وضاحت قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں فرمائیں، تاکہ ہم زکوٰۃ کی رقم کو صحیح اور شرعی طریقے سے استعمال کر سکیں اور کسی قسم کی شرعی خلاف ورزی نہ ہو۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورتوں کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں :

    1۔ براہِ راست زکوٰۃ کی رقم سے اساتذہ کی تنخواہ دینا قطعاً جائز نہیں۔

    2۔ اسی طرح اسکول کے ڈومیسٹک اسٹاف (چوکیدار، صفائی والے، آفس اسٹاف وغیرہ) کو بھی زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہ دینا جائز نہیں۔

    اسکول کے اساتذہ اور ڈومیسٹک اسٹاف کو زکوٰۃ کی رقم بطورِ تنخواہ دی گئی، اگر وہ فقیر شرعی ہوں تو ان کے قبضہ کرنے سے زکوٰۃ تو ادا ہوجائے گی، لیکن اساتذہ اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ڈومیسٹک اسٹاف بھی اپنی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے، لہٰذا جتنی اجرت پر ان کی خدمات طے ہوئی تھیں، وہ اجرت بہرحال ادا کرنا لازم و ضروری ہوگی۔ محض زکوٰۃ کی رقم بطورِ تنخواہ دینے سے ان کی تنخواہ ادا نہیں ہوگی۔

    اور اگر جن افراد کو زکوٰۃ کی رقم بطورِ تنخواہ دی گئی ہے وہ فقیر شرعی نہیں ہیں تو زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی، کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیر شرعی کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہے، جو کہ اس صورت میں نہیں پایا گیا۔

    3۔ اگر بچے سمجھ دار ہوں، مال پر قبضہ کرنا اور ملکیت کو جانتے ہوں اور مستحقِ زکوٰۃ (یعنی فقیر شرعی ) ہوں، تو زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں، کاپیاں اور اسٹیشنری وغیرہ خرید کر ان کی ذاتی ملکیت میں دے دی جائیں یا اگر بچے خود عقل مند اور سمجھ دار نہ ہوں، یا مال پر قبضہ کرنا نہ جانتے ہوں، تو ان کے ولی (یعنی باپ، دادا) یا کفالت کرنے والے کی ملکیت میں دے دی جائیں تو شرعی طور پر یہ جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔لیکن اگر اسکول ان چیزوں کو اپنی ملکیت میں رکھے اور بچوں کو صرف استعمال کے لیے دے، یعنی ان بچوں یا ان کے ولی (یعنی باپ، دادا) یا کفالت کرنے والے کو مالک نہ بنائے، تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیونکہ زکوٰۃ کے لیے فقیر شرعی کو مالک بنانا لازم و ضروری ہے، اور بغیر مالک بنائے خرچ کردینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔

    4،5۔ اسکول کی عمارت کی تعمیر، مرمت، رنگ و روغن یا آرائش، نیز اسکول کے لیے ڈیسک، کرسیاں، الماریاں، کیبنٹس وغیرہ بنوانے یا ان کی مرمت وغیرہ پر زکوٰۃ کی رقم براہِ راست خرچ کرنا شرعاً ناجائز و باطل ہے، کیونکہ ان صورتوں میں فقیر شرعی کو مالک بنانا نہیں پایا جاتا۔

    6۔ اسکول کے لیے فوٹوکاپی مشین، کمپیوٹر، یا دیگر آلات و مشینری زکوٰۃ کی رقم سے براہِ راست خریدنا ناجائز ہے، کیونکہ اس میں بھی فقیر شرعی کو مالک بنانا نہیں پایاجاتا۔

    7۔ اگر اسکول زکوٰۃ کی رقم کے ذریعے بچے کو یا اس کے ولی یا کفالت کرنے والے کو مالک بنا دے، پھر بچہ یا اس کا ولی یا کفیل قبضہ کرنے کے بعد اپنی رضامندی سے وہ رقم اسکول کی مد میں جمع کرا دے، تو یہ طریقہ شرعاً درست ہے۔ فیس وصول ہوجانے کے بعد یہ رقم اسکول کے عمومی اخراجات اور اساتذہ وغیرہ کی تنخواہوں میں صرف (خرچ) کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر براہِ راست زکوٰۃ کی رقم کو ان مستحق بچوں کی فیس کی مد میں وصول کیا جائے اور انہیں مالک نہ بنایا جائے، تو یہ طریقہ درست نہیں، اور اس سے زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوتی؛ کیونکہ مالک بنانا نہیں پایا گیا جوکہ زکوة کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے ۔

    8۔ اگر زکوۃ کی رقم مصارف زکوة( جو اللہ عز وجل کی طرف سے متعین کردہ ہیں ) کے علاوہ صَرف کرنامقصود ہےتو اس کے لیے حیلہ شرعی کرنا ہوگااور حیلہ شرعی تب جائز ہوتاہے ، جب تین امور کا تحقق ہو(1)جس مقصد کے لیےحیلہ شرعی کیا جا رہا ہو،وہ فی نفسہٖ شرعاً جائز اور ثواب کام ہو(2)ضرورت ِ شرعیہ کا تحقق ہو(3)حیلۂ شرعی سے کوئی مقصدِ شرعی فوت نہ ہو۔

    بہرحال، اسکول میں میٹرک تک کی تعلیم ضرورت کے تحت داخل ہے، لہٰذا اگر اس اسکول میں میٹرک تک مستحق بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے تو اس کے لیے شرعی حیلہ کرنا جائز ہے ۔

    حیلۂ شرعی کا طریقہ یہ ہوگا کہ: زکوٰۃ دینے والا یا اسکول کا کوئی نمائندہ کسی قابلِ اعتماد، عاقل و بالغ فقیر شرعی کو زکوٰۃ کی نیت سے زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنا دے۔ اس کے قبضہ کرنے کے بعد فقیر شرعی اپنی خوشی اور رضامندی سے وہ رقم اسکول کے تعلیمی اخراجات، تعمیرات یا اساتذہ کی تنخواہوں وغیرہ کے لیے اسکول کو بطورِ ہبہ دے دے۔ ہبہ ہوجانے کے بعد اسکول انتظامیہ اس رقم کو اسکول کے عمومی اخراجات میں صرف کرسکتی ہے۔

    دلائل و جزئیات :

    زکوة کے مال کو کسی قسم کی تعمیرات پر خرچ کرنا جائز نہیں اس بارے 'الفتاوی الهندیة' میں ہے :’’ وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِالزَّكَاةِ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا الْقَنَاطِرُ وَالسِّقَايَاتُ، وَإِصْلَاحُ الطَّرَقَاتِ، وَكَرْيُ الْأَنْهَارِ وَالْحَجُّ وَالْجِهَادُ وَكُلُّ مَا لَا تَمْلِيكَ فِيهِ‘‘. ترجمہ : زکوٰۃ کے مال سے مسجد تعمیر کرنا جائز نہیں، اسی طرح پل بنانا، پانی پلانے کے انتظامات کرنا، راستوں کی مرمت کرنا، نہروں کی کھدائی کرنا، حج اور جہاد کے اخراجات میں صرف کرنا بھی جائز نہیں؛ اور ہر وہ کام جس میں کسی مستحق کو مال کا مالک بنانا نہ پایا جائے، اس میں زکوٰۃ کا مال خرچ کرنا جائز نہیں۔( الفتاوی الهندیة ،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188،دار الفکر بیروت)

    زکوۃ کسی فقیر شرعی کو دی جائے اس بارے تنویر ابصار مع الدر المختارمیں ہے :تملیک جزء مال عینه الشارع من مسلم فقیر غیر هاشمی و لا مولاه ۔ترجمہ:مال کے ایک حصے کا مسلم فقیر جو ہاشمی اور ہاشمی کا غلام نہ ہوکو مالک بنا دینا جس کو شارع نے متعین کیا ہو ا ۔(رد المحتار،کتاب الزکاة،ج:3،ص:172،مکتبہ امدادیہ)

    جو قبضہ کرنا جانتا چاہے وہ بچہ ہو اسے زکوة کا مالک بنانا درست ہے اس بارے رد المحتار میں ہے:وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط.ترجمہ: مالک بنانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاگل وغیرِ مراہق بچے کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی، ہاں اگر ان کی طرف سے زکوۃ پر وہ قبضہ کرے، جس کے لئے قبضہ کرنا جائز ہے جیسا کہ باپ، وصی وغیرہ تو جائز ہے، یونہی مراہق بچہ جو قبضہ کرنا جانتا ہو، اسے بھی زکوۃ دی جا سکتی ہے، جیسا کہ محیط میں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 344، دار الفکر، بیروت)

    اسی طرح بہار شریعت میں ہے: مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو، یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی، مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اُس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں۔ ( بہار شریعت، ج 01، حصہ 05، ص 875، مکتبۃ المدینہ)

    حیلہ شرعی ضرورت و حاجت شرعی کے تحت ہی جائز ہو گا ،اور جو حیلہ محض منفعت کے حصول ،یا خواہشِ نفس کی تکمیل کے لیے ہوجائز نہیں کہ اس سے مقصدِ شریعت کو فوت کرنا ہے جو کہ قبیح جرم ہے ۔ ضرورت و حاجت کسے کہتے ہیں ؟ان کا دائرہ کار کیا ہے؟ ضروری ہے کہ انہیں جانا جائے ،چناچہ علامہ حموی بحوالہ فتح المدبرللعاجز المقصر ضرورت، حاجت، منفعت، زینت ، فضول تعریفات نقل فرماتے ہیں :فالضرورۃ:بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع،ھلک او قارب وھذایبیح الحرام ترجمہ: ضرورت یہ ہے کہ انسان کا اس حد کو پہنچ جانا کہ ممنوع چیز کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک یاہلاکت کے قریب ہوجائے،اور یہی وہ صورتِ اضطرار ہے جس میں حرام وممنوع اشیاء کا استعمال جائز ہوجاتا ہے۔

    حیلہ کی ضرورت کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے :وہ طریقہ کہ زکوۃ کا مال بنیت زکوۃ کسی محتاج کو دے کر مالک کر دیا جائے، پھر اس کی رضامندی سے تھوڑے داموں کو اس سے خرید لیں یہ حیلہ بضرورت صرف ایسی جگہ ہو کہ مثلا کسی سید صاحب کو حاجت ہے مال زکوۃ انہیں دے نہیں سکتے اور اپنے پاس زر زکوۃ سے زیادہ دینے کی وسعت نہیں تو اس طرح زکوۃ ادا کر کے رضامندی مول لے کر سید صاحب کی نذر کر دیا جائے یا مسجد کی تعمیر یا میت کے کفن میں لگا دیا جائے کہ یہ سب نیتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، خرید کر اپنےیا اپنے بچوں کے صرف میں لانے کی غرض سے یہ حیلہ نہیں کہ اس میں راہ خدا میں مال خرچ کر کے پھر جانا پایا جائے گا والعیاذ باللہ۔(فتاوی رضویہ :جلد ،ص:264،10 مطبوعہ رضا فاونڈیشن )

    حیلہ کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: یتیم خانے کی خریداری میں روپیہ لگا دینے سے زکوۃ ہرگز ادا نہ ہوگی لانہ ان کان وقفا والزکاۃ تملیک فلایجتمعان (کیونکہ یتیم خانہ اگر وقف ہے اور زکوۃ میں تملیک ہوتی ہے لہذا ان دونوں کا اجتماع نہیں ہو سکتا) نہ کسی غنی کو صرف مقدمہ کے لیے دینے سے ادا ہو سکے اگرچہ وہ مقدمہ مذہبی دینی ہو فان الغنی لیس بمصرف( کیونکہ غنی زکوۃ کا مصرف نہیں )نہ کسی فقیر نہ مسکین کے دینی خواہ دنیاوی مقدمہ میں وکیلوں مختاروں کو دینے اور خرچوں میں اٹھانے سے ادا ممکن جب تک فقیر کو دے کر اس کے قبضے کے بعد اس سے لے کر صرف نہ کیا جائے فان الصدقۃ لا تحصل الا بتملیک مصرفھا ولاتتم الا بقبضۃ (کیونکہ صدقہ تب ادا ہوگا جب کسی مصرف کو مالک بنایا جائے گا اور تملیک کا اہتمام قبضے کے بغیر نہیں ہو سکتا )پس اگر اس قسم کے معاملات میں اٹھانا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص شرعا مصرف زکوۃ ہے اسے بنیت زکوۃ دے کر اس کا قبضہ کرا دیں پھر وہ اپنی طرف سے اپنے آپ خواہ اسے دیکھ کر خریداری یتیم خانہ خوا کسی دین مقدمہ وغیرہ نور خیر میں لگا دے(فتاوی رضویہ :جلد 10 مطبوعہ رضا فاونڈیشن )

    والله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ربیع الاول 1448ھ/10ستمبر2026ء