مناسخہ پانچ بطن حوالہ نمبر تیرہ سو آٹھ

    manasakha paanch batn hawala number 1308

    تاریخ: 7 جولائی، 2026
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 1591

    سوال

    ہمارے والد( پیر محمد) کا انتقال ہوا ، ورثاء میں ایک بیوی( اللہ ڈنی) دو بیٹے (طالب حسیب، شیردل) اور تین بیٹیاں (زبیدہ، رشیدہ، انوری) تھے بعد ازاں بیوی کا انتقال ہوگیا اسکے ورثاء بعینہ یہی ہیں، اسکے بعد اک بیٹی (زبیدہ) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں 9 بیٹے (یوسف، یونس، گل محمد، آصف، عابد، محمود، شفیق، بلال ، یامین) ایک بیٹی (شاہدہ)ہے جبکہ شوہر کا پہلے ہی انتقال ہوگیا۔بعد ازاں ایک اور بیٹی (رشیدہ) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی(عبدالرشید) 5 بیٹے(احمد،افضل، فاروق، صدیق، عبدالرحمان، ) 3 بیٹیاں (بسم اللہ، رابعہ، سدرہ)ہیں، پھر ایک بیٹے (طالب) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں ایک بیوی (صغرٰی بانو) 2 بیٹے (طاہر، طلحہ) 3 بیٹیاں (طاہرہ، ماہرہ، ثناء) ہیں، پھر ایک اور بیٹی (انوری) چل بسی اسکے ؤرثاء میں شوہر(اسلم) 2 بیٹے(سلمان، ارسلان)اور ایک بیٹی (انجم)ہے، بعد ازاں ایک بیٹی کے بیٹے (یامین) کا بھی انتقال ہوگیا اسکے ورثاء میں ایک بیوی (وسیمہ) 3 بیٹے(عبدالوہاب، علی، یاسر) اور ایک بیٹی (فریحہ) ہے۔ وراثت میں ایک مکان ہے جسکی قیمت ایک سے ڈیڑھ کروڑ کے درمیان ہے، تمام ورثاء کے مابین تقسیم کیسے ہوگی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:شیردل : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 34580حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر ایک وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

    شیر دل :9880 یوسف:520 یونس:520 گل محم:د520 آصف:520 عابد:520 محمود:520 شفیق:520 بلال:520 , شاہدہ:260 احمد:570 افضل:570 فاروق:570

    صدیق:570, عبدالرحمان :570, بسم اللہ:285 , رابعہ:285, سدرہ :285, عبد الرشید:1235, صغربانو:1235, طاہر:2470 , طلحہ:2470, طاہرہ:1235, ماہرہ:1235, ثناء:1235

    اسلم:1235 , سلمان:1482, ارسلان:1482 , انجم:741, وسیمہ:65 عبد الوہاب:130, علی:130, یاسر:130, فریحہ:65

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مکان کی کل قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 34580پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: صفر المظفر 1447ھ/ 31 جولائی2025 ء