manasakha ka hukm hawala number 1284
سوال
میری خالہ(حنفیہ) کا انتقال ہوگیا ہے وہ غیر شادی شدہ تھی، انکے ورثاء میں 2 بہنیں (رابعہ، زبیدہ) اور دس بھتیجے ( فاروق، خالد، اسلم عارف، اقبال، صدیق، عزیز، ہارون، جاوید، عبدالرزاق)ہیں۔ان دس کے علاوہ دو بھتیجے اور تھے جن کا انتقال خالہ سے پہلے ہی ہوگیا ۔ انکے بعد ایک بہن (زبیدہ) کا بھی انتقال ہوگیا،زبیدہ کےشوہر کا انتقال پہلے ہی ہوگیا جبکہ زبیدہ کے دو بیٹے (شاہد، شیراز) اور ایک بیٹی (ریحانہ) ہے۔خالہ کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔ سائل:شاہد جیوانی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں امور متقدمہ علی الارث (تجہیز و تکفین، ادائے قرض، ایک تہائی سے وصیت) کے بعد جائیدا دکے کل 30 حصص ہونگے، ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:
کل حصے: 30
رابعہ:10، فاروق:1، خالد:1، اسلم :1, عارف:1, اقبال:1, صدیق:1, عزیز:1, ہارون:1, جاوید:1, عبدالرزاق:1, شاہد :4, شیراز:4, ریحانہ:2
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،کہ اگر دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انکو ودثلث یعنی 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۔ ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی ہے۔(النساء:10)
سگی بہنوں کے حصہ کی بابت السراجی فی المیراث میں ہے :أمّا للأخَوات لأبٍ وأُمٍّ فأحْوَال خَمْس: النِصْف للواحدة، والثُلُثانِ للاثنتَينِ فصاعِدة،ومع الأخ لأبٍ وأُمٍّ للذَكَر مِثْل حظّ الأنثيَينِ يَصِرْنَ به عَصَبةترجمہ:بہرحال سگی بہن تو اسکے پانچ احوال ہیں:ایک بہن ہو تو نصف حصہ ہوگا،اور دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو دو تہائی حصہ ہوگا۔اور سگے بھائی کے ساتھ للذکر مثل حظ الانثیین (لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کی مثل ہے)کے تحت عصبہ ہوگی۔ ( السراجی فی المیراث ،ص39مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا عصبہ بنے گا: أولاهم بالميراث عند عدَم جزء الميِّت وأصله جزءُ أبيه) أي: جزء أبي الميِّت (أي: الإخْوَة) لأبٍ وأمٍّ أو لأبٍ (ثُمّ) أي: وعند عدَم الإخَوة (بَنوهم) أي: بنوا الإخْوَة)وان سفلوا کبنی بنی الاخوۃ۔ترجمہ:میت کی فروع(بیٹا ،پوتا وغیرہ)اور اصول (باپ،دادا ،وغیرہ)کی عدم موجودگی میں وراثت کے حقدار میت کےوالد کی فروع (میت کا سگا اور باپ شریک بھائی )ہوگا ۔پھر بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا وراثت کا حقدار ہوگا۔اسی طرح نیچے تک جیساکہ بھائی کے بیٹوں کے بیٹے۔(السراجية مع شرحه القمرية، جلد:1، ص:30،مکتبہ المدینہ کراتشی)
جبکہ بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ بھتیجے انہیں عصبہ نہیں بناتے کہ انہیں بھتیجوں کے ساتھ مل کر ان کے حصہ کا نصف ملے۔چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا سکتے۔علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 ص 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: رجب المرجب 1446ھ/ 29 جنوری 2024 ء