مناسخہ حکم حوالہ نمبر1272

    manasakha hukm hawala number 1272

    تاریخ: 7 جولائی، 2026
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 1592

    سوال

    ہمارے والد کا مکان تھا ،جو رہائش کے قابل نہ تھا انکے انتقال کے بعد عبدالحفیظ خان نے اسکی مرمت بھی کروائی اور اسکے اوپر تعمیرات بھی کروائی جس پر انہوں نے 8 لاکھ روپے خرچ کئے یوں ہی ایک اور بھائی محمد انوار نے بھی اس تعمیرات میں کچھ پیسے ملائے جو کہ ایک لاکھ پچاس ہزار بنتے ہیں۔

    مکان کی تعمیر کے وقت عبدالحفیظ نے اپنے ایک بھائی محمد وقار کو اس وقت کی ویلیو کے اعتبار سے انکے تقاضے اور انکی رضامندی پر انکا حصہ اپنی جانب سے ادا کردیا تھاجس کا اقرار انکی اولاد بھی کرتی ہے۔ ورثاء کی تفصیل اور ترتیب وفات درج ذیل ہے :

    ہمارے والد عبدالستار کی زوجہ یعنی ہماری والدہ کا انتقال والد سے پہلے ہی ہوگیا تھا، انکی وفات کے وقت انکے مجھ سمیت 5 بیٹے(وقار، انوار،عبدالغفار، عبدالجبار، عبدالحفیظ) اور دو بیٹیاں (عشرت جہاں، نصرت جہاں)تھیں، سب سے پہلے ایک بیٹی (عشرت جہاں) کا انتقال ہوا اسکےبعد انکے شوہر (ندیم) کا بھی انتقال ہوگیاشوہر کا ایک بھائی(فرضی نام: علی) اور ایک بہن(فرضی نام: فاطمہ) حیات ہے جوکہ پشاور میں ہیں جبکہ عشرت جہاں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اسکے بعد ایک بیٹے وقا ر خان کا انتقال ہوا،انکے ورثاء میں ایک بیوی(آمنہ) تین بیٹے (عمران، ارسلان ،حسان) اور چار بیٹیاں (ثنا، شازیہ، شازمہ، شمین) ہیں۔ پھر ایک اور بیٹی (نصرت جہاں) کا انتقال ہوا انکے شوہر(رئیس)کا بھی انتقال ہوگیا شوہر کے بہن بھائی نہیں ہیں جبکہ شوہر کے والدین پہلے وفات پا چکے ہیں جبکہ انکی کوئی اولاد نہیں ہے۔ پھر ایک بیٹے (انوار) کا انتقال ہوانکے ورثاء میں ایک بیوی (سعیدہ) دو بیٹے (عامر، ارباز) اور دو بیٹیاں(عامرہ ، مریم) ہیں۔پھر ایک اور بیٹے (عبدالغفار) کا انتقال ہوا ، جوکہ غیر شادی شدہ تھا۔جبکہ عبدالجبار اور عبدالحفیظ دونوں حیات ہیں۔

    اب یہاں چند ایک سوالات ہیں:

    1: عبدالحفیظ نے بڑے بھائی کو جو حصہ دیا وہ عبدالحفیظ کو ملے گا یا نہیں؟

    2: نیز ورثاء میں سے کس کس کو کتنا کتنا ملے گا؟

    3: دادا کی وراثت میں پوتے پوتیوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

    سائل:عبدالحفیظ: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تعمیرات کا حکم:

    اگر عبدالحفیظ اور محمد انوار نے دیگر ورثاء کی اجازت سے تعمیرات کروائی ہیں تو بے شک یہ دونوں اپنی اپنی تعمیرات کے مالک ہیں ۔ بایں طور کہ کل تعمیرات ساڑھے نو لاکھ کی ہیں اور اس میں ایک بھائی نے 8 لاکھ جبکہ دوسرے نے ڈیڑھ لاکھ لگائے تو پہلے بھائی کا تناسب 84.21 ہے جبکہ دوسرے کا 15.79 ہے۔ لہذا یہ دونوں ان تعمیرات کے اسی تناسب کے اعتبار سے مالک ٹھہریں گے ۔ اور اگر یہ تعمیرات دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تھی تو مکمل تعمیرات تبرع قرار پائیں گی۔ اور کل زمین مع عمارت تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔

    وراثت کا مال تمام ورثاء کو بطور شرکت ملک حاصل ہوتا ہے، اور شرکت الملک میں تمام ورثاء ایک دوسرے کےحصہ میں اجنبی کی طرح ہوتے ہیں کوئی بھی وارث دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔جبکہ اجازت کے ساتھ تصرف جائز ہے، تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ عَيْنًا أَوْ دَيْنًا أَوْ بِإِرْثٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ غَيْرِهِمَا،وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ترجمہ: شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں یا وراثت میں یا بیع یا کسی اور چیز میں مشترکہ مالک ہوجائیں ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ،کتاب الشرکۃ جلد 4 ص 299،300)

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    وراثت کی تقسیم کا حکم:

    1: والد کی وفات کے بعد عبدالحفیظ نے اپنی جانب سے اپنے بھائی محمد وقار کوانکے تقاضے پر حصہ دے دیا تو اب وقار کے ورثاء اس جائیداد میں حصہ نہیں پائیں گے ،بلکہ اس حصے کے مالک عبدالحفیظ قرار پائیں گے، کیونکہ ورثاء کے مابین اس طرح کے معاملات حکماً بیع قرار پاتے ہیں گویا عبدالحفیظ نے محمد وقار کا حصہ خریدلیا۔

    2: مذکورہ وراثت کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہوگی۔

    کل حصے: 760320

    ہر وارث کا حصہ:

    عبدالجبار:223560 ، عبدالحفیظ :223560، علی:21120 ، فاطمہ :10560، آمنہ:16560، عمران:23184، ارسلان:23184

    احسان:23184، ثنا:11592، شازیہ:11592، شاذمہ:11592، شمین:11592، سعیدہ:18630، عامر:43470

    ارباز: 43470 عامرہ:21735 مریم:21735

    نوٹ: چونکہ عبدالحفیظ نے وقار احمد کا حصہ ان سے خرید کر اپنی جانب سے حصہ دے دیا تھا تو اب وقار احمد کے ورثاء( یعنی آمنہ، عمران، ارسلان، احسان، ثنا، شازیہ، شاذمہ، شمین) کے حصص عبدالحفیظ کو ملیں گے اس طرح کل حصوں میں سے عبدالحفیظ کو ٹوٹل 356130 حصے ملیں گے۔

    وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو لگوا لیں بعد ازاں بقیہ کل رقم کومبلغ یعنی 760320 پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    3: بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کا دادا کی وراثت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ مسائل میراث کا اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے۔ چناچہ السراجی فی المیراث ص36میں ہے:''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا''ترجمہ: میت کی وراثت کے زےادہ حقدار میت کا جزء ےعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوں تو)اسکے بعد پوتے ۔(السراجی فی المیراث ص36)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے :''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ''ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔

    بخاری شریف کتاب الفرائض بَابُ مِیرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ یَکُنِ ابْنٌ میں ہے :''وَقَالَ زَیْدٌ: وَلاَ یَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ''ترجمہ:حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میت کے بیٹے کی موجودگی میں پوتا وراثت میں حصہ دار نہیں بنے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:رجب المرجب 1446ھ/ 16 جنوری 2025ء