masla warasat manasakha teen batn
سوال
ہمارے والد کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوی(زاہدہ) 6 بیٹے (رئیس،شبیر، وحید، زبیر، جنید، عمیر) اور 1 بیٹی(نازنین) ہے، بعد ازاں بڑے بھائی (رئیس) کا انتقال ہوا، اسکی 1 بیوی(رفیعہ)3 بیٹے(فرحان، دانیال، حاذق)اور 4 بیٹیاں (قرۃ، راحت، نور، فرحت)ہیں،پھر والدہ (زاہدہ) کا انتقال ہوگیا،پھر ایک اور بھائی (شبیر)کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں بیوی(نصرت) 2 بیٹے (فرخ، شاہ رخ) 2 بیٹیاں (عروسہ، اریبہ)ہیں۔ مکان 85 لاکھ کا ہے جس میں سے 5 لاکھ کاغذات کی مدمیں خرچ ہورہے ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے بعد ایک شخص قرض مانگنے آگیا جبکہ والد صاحب نے قرض اد اکردیا تھا، بڑے بھائی نے دوبارہ قرض ادا کردیا تھااب یہ بتائیں کہ کس کے حصے میں کتنی رقم آئے گی۔ مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:محمد جنید: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 411840حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے۔
وحید:66480، زبیر:66480، جنید:66480، عمیر:66480، نازنین:33240، رفیعہ:6930، فرحان:7854، دانیال:7854، حاذق:7854، قرۃ:3927، راحت:3927، نور:3927 فرحت:3927، نصرت:8310 ، فرخ:19390، شاہ رخ:19390، عروسہ:9695 ، اریبہ :9695
وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو لگوا لیں اسکے بعد کاغذات کے اخراجات نکال لیں بعد ازاں بقیہ کل رقم کو مبلغ یعنی411840 پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
قرض دار کو دیئے جانے والے پیسوں کا حکم:
جو شخص قرض کا تقاضا کررہا ہے وہ مدعی ہے ، اور مرحوم کے ورثاء مدعٰی علیہ ہیں۔ شریعتِ مطہرہ میں مدعی اور مدعی علیہ کےمابین فیصلہ کرنے کے حوالے سے اصول و ضوابط طے شدہ ہیں،جس کے مطابق مدعی کا وظیفہ شہادتِ شرعیہ(یعنی دو لوگوں کی گواہی )پیش کرنا ہوتاہے۔لیکن جب مدعی گواہ نہ پیش کر سکے تو پھر مدعی علیہ پرقسمکھانا واجب ہوتی ہے ۔
لہذاجولوگ میت پرقرض کادعویٰ کررہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنے دعوٰی پر گواہ پیش کریں اگر یہ لوگ اپنے دعوٰی پر کوئی گواہ نہ پیش کر سکے ،اور نہ ہی میت کے ورثاء میں سے کوئی شخص ان کے دعویٰ کااقرارکرتاہو،اور نہ ہی کوئی ایسا وثیقہ (قانونی یا معروف دستاویز)موجود ہوجس پر مرحوم کےدستخط ہوںجو وہ اپنی زندگی میں کرتا تھا۔ تو اس صورت میں محض اس دعویٰ کے بنیاد پر قرض وصول نہیں کیاجاسکتا،بلکہ شرعی طور پر یہ دعویٰ کرنے والے افراد میت کے ورثاء سے حلف لیں گے کہ انہیں اس قرض کا علم نہیں اور نہ میت نے انہیں بتایاہے،اگر ورثاء اس بات پر حلف اٹھالیتے ہیں تو دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ ساقط ہوجائے گا۔ اور اگرمیت کے ورثاء حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہیں تو دعویٰ ثابت ہوجائے گا اور مرحوم کے ترکہ سےادائیگی لازم ہوگی۔
مدعی اور مدعٰی علیہ کا کیا وظیفہ ہے اس سلسلے میں حدیث پاک میں ارشا ہوا:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم البینۃ علی المدعي والیمین علی من أنکر۔ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر لازم ہے۔(سنن الترمذي،رقم: 1356، السنن الکبریٰ للبیہقي، الدعویٰ / باب البینۃ علی المدعي رقم: 21807)
المحیط البرھانی پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں اس حوالے سے مذکور ہے :واللفظ للآخر:وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔ترجمہ:اور اگر مدعی کےپاس گواہ نہ ہوں اور وہ یہ چاہے کہ وارث قسم اٹھائے تو ہمارے علماء کے نزدیک وارث سے اسکے علم پر اللہ تعالٰی کی قسم لی جائے کہ تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ اس شخص کا تیرے والدپر اتنا مال ہے جسکا اس نے دعوٰی کیا یعنی نہ ایک ہزار درہم ، اور نہ اس سے کم۔ پھر اگر وہ قسم اٹھالے تو معاملہ ختم ہوجائے گا ۔(یعنی قرض دار کو کچھ نہ ملے گا)اور اگر قسم سے انکار کردے تو اس وارث کے حصے سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔(فتاوٰی ہندیہ، الباب الخامس والعشرون، جلد 3ص 407دار الفکر،المحيط البرهاني في الفقه النعماني، الفصل السادس والعشرون جلد 8 ص 218)
فتاوٰی خیریہ میں ہے: القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما فی اقرار الخانیۃ وقد نقلہ الشیخ زین فی اشباھہ ونظائرہ فی اول کتاب القضاء۔ترجمہ: قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے جیساکہ خانیہ کے باب الاقرار میں ہے اور اس کو شیخ زین الدین نے اپنی اشباہ ونظائر میں کتاب القضاء کے شروع میں ذکر کیا ہے۔(فتاوٰی خیریہ ،کتاب القضاء،جلد 2 ص 19 دارالفکر بیروت)
لہذا اب اگر بڑے بھائی نے تمام ورثاء کی اجازت سے قرض دیا تھا تو یہ سب کی طرف سے ہے اتنی رقم کل مال سے منھا کرکے بقیہ تقسیم ہوگی، بصورتِ دیگر یعنی اگر بڑے بھائی نے دیگر کی اجازت حاصل نہیں کی تو یہ ادائیگی فقط انکی طرف سے شمار ہوگی اور انکے حصے یہ وہ رقم منھا کی جائے گی۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 جمادی الاول 1446ھ/ 20 نومبر 2024 ء