والدین کی کفالت میں لڑکی کا نکاح مؤخر کرنا

    walidain ki kafalat mein larki ka nikah muakhar karna

    تاریخ: 8 جولائی، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 1595

    سوال

    کیا ایک لڑکی والدین کی کفالت کیلئے ملازمت کرے اور اسی وجہ سے کچھ عرصہ نکاح مؤخر کردے؟

    سائل :عاقب خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر والدین نادار (شرعی فقیر) ہوں اور اولاد صاحبِ نصاب تو ان کی کفالت(نان نفقہ) اولاد (بیٹا بیٹی دونوں) پر برابر لازم ہے۔لہذا اگر ملازمت میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ ہو اور اس تاخیر میں گناہ میں پڑنے کا غالب گمان یا یقین نہ ہو تو لڑکی والدین کی کفالت کی وجہ سے نکاح مؤخر کرسکتی ہے۔

    لیکن اگر والدین نادار نہ ہوں، یا نادار تو ہوں لیکن لڑکی خود صاحبِ نصاب نہ ہو (یعنی اتنا مال جو صدقہ فطر لازم کرے)، یا صاحبِ بھی ہو لیکن اس تاخیر کی وجہ سے گناہ کا غالب گمان یا یقین ہو یا دوران ملازم کپڑے باریک ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے یا کپڑے اتنے تنگ وچست ہوں جو بدن کی ہیئت ظاہر کریں یا بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہوتا ہو یا کبھی نامحرم کے ساتھ مختصر سے وقت کیلئے ہی سہی لیکن تنہائی ہوتی ہو یا عورت کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں فتنے کا خوف ہو، تو ممانعت ضرور ہوگی۔

    پس پوچھی گئی صورت میں عورت کا نکاح کو مؤخر نہ کرنے کا حکم ظاہر ہے، کہ اوّلا تو لڑکی اگر صاحبِ نصاب ہے تو اس کی ملازمت چہ معنی دارد؟ اسی مال کو کفالت میں خرچ کردے، ملازمت کی کیا حاجت۔ اور اگر بالفرض صاحبِ نصاب اس طور پر ہو کہ سونا ہو اور والدین اسے بیچنے نہ دیں، تو آج کے معاشرے میں عورت کا بے نکاح رہنا سخت مشکل کام ہے، جہاں عورت کو کانچ سے مثال دی گئی کہ ہلکی سے ٹھوکر سے یہ ٹوٹ جاتی ہیں، وہ ایسے معاشرے میں کہ برائیاں عام اور آسان ہوتی چلی جارہی ہیں، کیسے گناہ سے محفوظ ہوگی؟ پھر اگر اولاد بالغ ہو اور اندازہ ہو کہ شادی کرنا چاہتی ہے ورنہ گناہ میں پڑے گی، اس پر والدین بلا کسی عذر، شادی میں تاخیر کریں تو ان کے گناہ کا وبال والدین پر بھی آئے گا۔

    یہ تو تھا اولاد کیلئےشرعی حکم، اب یہاں والدین بھی نصیحت لیں کہ ہر جائز حق وصول ہی کیا جائے، چاہے اس میں کوئی کتنے ہی گناہوں میں مبتلا ہو، ہرگز درست نہیں۔ المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیاں جب ٹیچنگ وغیرہ کاموں سے کمائی کرنے لگتی ہیں تو والدین کی ضرورت حرص میں بدلنی لگتی ہے، جس کے نتیجے میں لڑکیوں کو شادی نہیں کرنے دی جاتی کہ یہ ہاتھ سے چلی گئی تو ہماری آسائشیں کون پورے کرے گا ،طرح طرح سے جذباتی دباؤ ڈالا جاتا ہے اور چونکہ عورت اپنی ذات میں فطرتاً جذباتی ہے، تو اس بہاؤ میں آکر وہ اپنی ساری زندگی گناہ میں مبتلا ہو کر گزار دیتی ہے۔ ڈرنا چاہیے ایسے والدین کو جن کے سبب ان کی بیٹیاں گناہوں کے دلدل میں پھنسے۔

    دلائل و جزئیات:

    والدین کا نفقہ بیٹا اور بیٹی دونوں پر لازم ہے،علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "(النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب والقول لمنكر اليسار والبينة لمدعيه (بالسوية) بين الابن والبنت ". ترجمہ: اور نفقہ واجب ہے انسان کے اصول (والدین وغیرہ) کیلئے اگرچہ وہ نانا ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ الذخیرہ میں ہے، جبکہ وہ اصول فقیر ہوں اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہی کیوں نہ ہوں، اور (اولاد کی تنگدستی کے اختلاف میں) قول اس کا معتبر ہوگا جو مالداری کا منکر ہو اور دلیل اس کے ذمے ہوگی جو مالداری کا مدعی ہو، اور یہ نفقہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان برابر برابر (تقسیم) ہوگا۔ (الدر المختار، باب النفقۃ، مطلب فی نفقۃ الاصول، 3/622-623، دار الفکر)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں: ’’ ماں باپ جب محتاج ہوں تو ان کا نفقہ اولاد پر واجب ہے، جب کہ اولاد مالداریعنی صاحب نصاب ہو‘‘۔ (فتاوی امجدیہ، 2/299، مکتبہ رضویہ، کراچی)

    نفقہ کے معاملہ میں اولاد کی تنگدستی و مالداری کی مراد میں علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: "ثم لا بد من معرفة حدّ اليسار الذي تعلق به وجوب هذه النفقة. ذكر ابن سماعة عن أبي يوسف رحمهما الله: أنه اعتبر نصاب الزكاة، وروى هشام عن محمد رحمهما الله إذا كان له نفقة شهر لنفسه وعياله وفضل على ذلك يجبر على نفقة الأقارب، وإن لم يكن له شيء واكتسب كل يوم درهماً ويكفيه أربعة دوانيق ينفق الفضل عليهم. وذكر شيخ الإسلام خواهر زاده رحمه الله: أن المعتبر بسائر (ما) يحرم الصدقة بأن يملك ما فضل عن حاجته ما يبلغ مائتي درهم فصاعداً وهو الصحيح، وهذا لأنه لم يشترط بوجوب صدقة الفطر غنىً موجباً للزكاة، وإنما شرط غنىً يحرم الصدقة، فكذا في حق إيجاب النفقة لأن النفقة بصدقة الفطر أشبه منه بالزكاة؛ لأن في صدقة الفطر معنى المؤنة، ومعنى الصدقة". ترجمہ: پھر مالداری کی اُس مقدار کو بھی جاننا ضروری ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے نفقہ واجب ہو جاتا ہے، تو ابن سماعہ نے امام ابو یوسف سے روایت کیا کہ انہوں نے نصابِ زکوٰۃ کا اعتبار کیا ہے، اور ہشام نے امام محمد سے روایت کیا کہ جب کسی کے پاس اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے ایک مہینے کا نفقہ موجود ہو اور اس سے کچھ زائد بچ جائے تو اسے رشتہ داروں کے نفقہ پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کچھ (مال) نہ ہو لیکن وہ ہر روز ایک درہم کماتا ہو اور اسے (اپنے لیے) چار دانق (ایک درہم کا دو تہائی حصہ) کافی ہوتے ہوں تو وہ زائد بچنے والی رقم ان (رشتہ داروں) پر خرچ کرے گا۔ اور شیخ الاسلام خواہر زادہ نے ذکر کیا کہ: اعتبار اُس مالداری کا ہے جس کے ہوتے ہوئے صدقہ لینا حرام ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ یہ شخص اپنی حاجتِ اصلیہ سے زائد ایسے مال کا مالک ہو جو دو سو درہم یا اس سے زیادہ کو پہنچتا ہو اور یہی قول صحیح ہے، اور یہ معیار اس لیے ہے کہ صدقہ فطر کے وجوب میں ایسی مالداری کی شرط نہیں رکھی گئی جو زکوٰۃ کو واجب کرے، بلکہ ایسی مالداری شرط ہے جو صدقہ لینے کو حرام کر دے، لہذا نفقہ کے واجب ہونے کے حق میں بھی یہی حکم ہوگا کیونکہ نفقہ زکوٰۃ کے مقابلے میں صدقۂ فطر کے زیادہ مشابہ ہے؛ اس لیے کہ صدقۂ فطر میں خرچے اور ذمے داری کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور صدقہ کے معنی بھی۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، كتاب النفقات، الفصل الثالث في نفقة ذوي الأرحام، 3/584، دار الكتب العلمية، بيروت)

    عورت کے نکاح پر تحقیقی کلام فرماتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) لکھتے ہیں:’’ (۱) جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالباً اس سے شوہر کی اطاعت اور اُ س کے حقوق واجبہ کی ادانہ ہوسکے گی اسے نکاح ممنوع وناجائز ہے اگر کرے گی گنہگار ہوگی، یہ صورت کراہت تحریمی کی ہے۔ (۲) اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کرکے یقین تک پہنچا جب تو اُسے نکاح حرام قطعی ہے۔حکم ایسی عورتوں کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے بلکہ ترغیب دینی خود خلاف شرع ومعصیت ہے کہ گناہ کا حکم دینا ہوگا یہ عورتیں یا ان کے اولیاء اگر نکاح سے انکار کرتے ہیں انہیں انکار سے پھیرنے والا جاہل ومخالفِ شرع۔ (۳) جنہیں اپنے نفس سے ایساخوف نہ ہو انہیں اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے معاذاﷲگناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے۔ (۴) بلکہ بے نکاح معاذاﷲ وقوع حرام کا یقین کُلی ہوتو اُنہیں فرض قطعی یعنی جبکہ اُس کے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ورنہ خاص نکاح فرض وواجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو۔حکم ایسی عورتوں کو بیشک نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وُہ گنہگار ہوں گی، اور اگر ان کے اولیاء اپنے حدِ مقدورتک کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وُہ بھی گنہگار ہوں گے، ایسی جگہ ترک وانکار پر بیشک انکار کیا جائے مگر کتنا، صرف اتنا جو ترِک واجب وفرض پر ہوسکتا ہے... پھر امر حاجت میں عورت کا اپنا بیان مقبول ہوگا کہ حاجت نکاح امر خفی و وجدانی ہے جس پر خود صاحبِ حاجت ہی کو ٹھیک اطلاع ہوتی ہے جب وُہ بیان کرے کہ مجھے ایسی حاجت نہیں تو خواہی نخواہی اس کی تکذیب کی طرف کوئی راہ نہیں ہوسکتی عُمر وغیرہ کا مظنہ سب جگہ ایک سا نہیں ہوتامزاج، عقل، حیا، خوف، اشغال، احوال، ہموم، افکار، صحبت، اطوارصد ہا اختلافوں سے مختلف ہوجاتا ہے جس کی تفصیل اہلِ عقل وتجارب پر خوب روشن ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 12/291، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    عورت کیلئے ملازمت کی شرائط سے متعلق سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں:’’یہاں پانچ شرطیں ہیں : (۱)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔(۲)کپڑے اتنے تنگ وچست نہ ہوں جو بدن کی ہیئت ظاہر کریں۔(۳)بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو ۔(۴)کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔(۵) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔ یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں تو کوئی حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو حرام ‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/248،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    شادی نہ ہونے کی وجہ سے اولاد نے گناہ کیا تو اس کا گناہ والد پر ہوگا،چنانچہ مشکاۃ المصابیح میں ہے:"من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه".ترجمہ: جس کے ہاں اولاد پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا۔(مشكاة المصابيح،2/ 939،رقم:3138،المکتب الاسلامی ) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 محرم الحرام 1448ھ/29جون 2026ء