school fees par jurmana lagana kaisa hai
سوال
میرے بچے کے اسکول کی انتظامیہ کی جانب سے یہ بات نوٹس میں لائی گئی ہے ماہانہ فیس وقت پر نہ دینے کی صورت میں یا تاخیر کی صورت میں فیس کا دس فیصد زائد دینا ہوگا؟ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟انکا فیس پر اضافی رقم لینا کہاں تک جائز ہے۔
سائل:الیاس: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اسکول انتظامیہ کا لیٹ فیس پر زائد رقم کا مطالبہ دراصل مالی جرمانہ ہے اور شرعاً مالی جرمانہ جائز نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کو چاہیے کہ لیٹ فیس جمع کروانے والے کی مالی حالت کو مدنظر رکھے اگر تاخیر کا کوئی حقیقی و واقعی سبب موجود ہو تو جتنی فیس بنتی ہو اتنی وصول کریں ، بصورت دیگر اگر کوئی عادتاً ایسا کرتا ہو تو نوٹس وغیرہ کے ذریعے یا بچے کے داخلے کی عارضی منسوخی کے ذریعے متنبہ کریں پھر بھی اثر نہ ہو تو اس صورت میں داخلہ منسوخ کردیں یا اسی مہینے متعلقہ بچے کے سرپرست کو آگاہ کردیں کہ اگلے مہینے سے ماہانہ فیس میں اضافہ کردیا جائے گا اور اس دس فیصد کو جو بطورِ جرمانہ لیا جارہا تھا اصل فیس کے ساتھ لاحق کردیں، بہر حال مذکورہ طریقہ کے مطابق مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔
مذہبِ مختار و مفتیٰ بہ میں مالی جرمانہ جائز نہیں بلکہ حرام ہے، کہ یہ باطل طریقے سے اور کسی شرعی وجہ کے بغیر دوسرے کا مال کھانا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)
آیت ِمذکور کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه ".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ".ترجمہ: حاصل کلام یہ ہے کہ اصل مذہب حنفی میں مال لے کر تعزیر نہیں۔(رد المحتار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 4/62، دارالفکر)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے: لاباخذ مال فی المذھب بحر۔ مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر ۔اُسی میں ہے:وفی المجتبٰی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا، پھر منسوخ کردیا گیا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 5 ص 111)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ربیع الاول 1447ھ/ 15 ستمبر2025 ء