سوال
کیا شبِ براءت کی دعا کا کوئی ثبوت ہے؟ بعض لوگ اس دعا کی کسی بھی حدیث میں موجودگی کا شدت سے انکار کرتے ہیں۔سائل:عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شبِ براءت کی مخصوص دعا (دعائے نصف شعبان) اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں۔ لیکن ان الفاظ سے دعا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مروی ضرور ہے۔یہ دعا صحابہ کرام علیہم الرضوان میں معروف اور متداول تھی اور کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کے لیے یہ شرط نہیں رکھی کہ وہ نبوی ہو۔
چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ طوافِ کعبہ کے دوران یہ دعا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي السَّعَادَةِ فَاثْبِتْنِي فِيهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَتَبْتَ عَلَيَّ الشَّقَاوَةَ وَالذَّنْبَ. . . فَامْحُنِي وَاثْبِتْنِي فِي السَّعَادَةِ ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾".ترجمہ: اے اللہ! اگر تو نے مجھے سعادت والوں میں لکھا ہے تو مجھے اس میں ثابت رکھ، اور اگر تو نے مجھ پر گناہ اور بدبختی لکھ دی ہے تو اسے مٹا دے اور مجھے سعادت والوں میں شامل کر دے، اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے ۔(القضاء والقدر للبيهقي،1/215، مكتبة العبيكان الرياض)
ایک اور روایت میں ہے: "اللهمَّ إن كنتَ كَتَبتنا عندك في شِقوة وذنب، فإنَّك تمحو ما تشاء وتُثبِتُ، وعندك أُمُّ الكتاب، فاجعلها سعادةً ومغفرةً".ترجمہ:اے اللہ! اگر تو نے ہمیں اپنے ہاں بدبختی اور گناہ میں لکھ دیا ہے، تو بے شک تو جو چاہے مٹا سکتا ہے اور ثابت رکھ سکتا ہے، اور تیرے پاس ہی ام الکتاب ہے، پس اسے سعادت اور مغفرت میں بدل دے۔ (مسند الفاروق لابن کثیر، کتاب التفسیر من سورۃ الرعد، 2/549، الرقم: 841، دار الفلاح مصر) (جامع البیان المعروف بالتفسیر الطبری، 16/481، الرقم: 20478، مؤسسة الرسالة)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: " مَا دَعَا قَطُّ عَبْدٌ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ إِلَّا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي مَعِيشَتِهِ: يَا ذَا الْمَنِّ فَلَا يُمَنَّ عَلَيْكَ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا ذَا الطَّوْلِ وَالْإِنْعَامِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ظَهْرُ اللَّاجِئِينَ، وَجَارُ الْمُسْتَجِيرِينَ، وَمَأْمَنُ الْخَائِفِينَ، إِنْ كَتَبْتنِي عِنْدَكَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ شَقِيًّا، فَامْحُ عَنِّي اسْمَ الشَّقَاءِ، وَأَثْبِتْنِي عِنْدَكَ سَعِيدًا مُوَفَّقًا لِلْخَيْرِ، فَإِنَّكَ تَقُولُ فِي كِتَابِكَ ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ ".ترجمہ: جو کوئی شخص ان دعاوں کے ساتھ دعا کرتا ہے اللہ اس کے رزق میں ضرور کشادگی فرماتا ہے: اے احسان فرمانے والے کہ تجھ پر کوئی احسان نہیں، اے جلال و اکرام والے، اے عظمت اور انعام والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی پناہ لینے والوں کا سہارا، پناہ طلب کرنے والوں کا محافظ، اور خوف زدہ لوگوں کا امن دینے والا ہے، اگر تو نے مجھے اپنی کتاب میں بدبخت لکھا ہے تو میرا نام بدبختوں میں سے مٹا دے اور مجھے اپنی بارگاہ میں سعید و نیک بخت لکھ دے، کیونکہ تو اپنی کتاب میں فرماتا ہے اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔ (المصنف لابن أبي شيبة ، کتاب الدعاء، ما جاء عن عبد اللہ بن مسعود،6/68،الرقم: 29530، 31507، دار التاج لبنان)
یونہی حضرت ابو وائل شقیق رضی اللہ تعالی سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی ایسا ہی فرمایا: "اللهم إنْ كنتَ كَتَبتَنا أشقياءَ فامْحُنا واكتُبنا سعداءَ، وإنْ كنتَ كَتَبتَنا سعداءَ فأثبتنا، فإنك تمحو ما تشاء وتثبت، وعندك أم الكتاب". (جامع البیان المعروف بالتفسیر الطبری، 16/481، الرقم: 20476-20477، مؤسسة الرسالة)
نیز، دعائے نصف شعبان کے بعض الفاظ، جیسے "إلهي بالتجلي الأعظم"شیخ ماء العینین الشنقیطی نے اضافہ کیے ہیں۔
چنانچہ امام الرائد محمد زکی ابراہیم اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں: "أما بقية الدعاء من عند قولهم : ( إلهي بالتجلي الأعظم) إلى نهايته ؛ فقد زاده الشيخ ماء العينين الشنقيطي وذكره في كتابه « نعت البدايات » ، ولا بأس به ، فالاجتهاد في الدعاء سنة نبوية مقررة ".ترجمہ: جہاں سے دعا کے الفاظ "إلهي بالتجلي الأعظم" شروع ہوتے ہیں اور اس کے آخر تک، یہ اضافی الفاظ شیخ ماء العينين الشنقيطي نے بڑھائے ہیں اور اسے اپنی کتاب "نعت البدايات" میں ذکر کیا ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ دعا میں اجتہاد کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت ہے۔ (لیلۃ النصف من شعبان فی میزان الانصاف العلمی، ص:56، دار احیاء التراث الصوفی)
اصولی استدلال:
یہاں ایک شرعی اصول یاد رکھیں کہ فضائلِ اعمال کے باب میں اگر کوئی روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو یا اصلاً نہ مل سکے، تب بھی اس میں بیان کردہ عمل ناجائز نہیں ہوتا، بلکہ اگر وہ علماء، صوفیاء اور امت کے صالحین میں مقبول رہا ہو (جسے تلقی بالقبول کہا جاتا ہے) اور اسے اپنی کتابوں میں درج کیا گیا ہو، چاہے بغیر سند کے ہی کیوں نہ ہو، یا اس پر عمل کا معمول رہا ہو، تو وہ عمل نہ صرف جائز ہوگا بلکہ مستحب شمار ہوگا۔ اور اس دعائے نصف شعبان پر اکابرین امت کا عمل کتابوں میں موجود ہے۔
نصف شعبان کے معمولات کے متعلق ،علامہ سید محمد بن محمد الحسینی الزبیدی (المتوفی: 1205ھ) لکھتے ہیں: "وقد توارث الخلف عن السلف في إحياء هذه الليلة بصلاة ست ركعات بعد صلاة المغرب كل ركعتين بتسليمة يقرأ في كل ركعة منها بالفاتحة مرة والإخلاص ست مرات، وبعد الفراغ من كل ركعتين يقرأ سورة يس مرة، ويدعو بالدعاء المشهور بدعاء ليلة النصف، ويسأل الله تعالى البركة في العمر، ثم في الثانية البركة في الرزق، ثم في الثالثة حسن الخاتمة، وذكروا أن من صلى هكذا بهذه الكيفية اعطي جميع ما طلب ، وهذه الصلاة مشهورة في كتب المتأخرين من السادة الصوفية، ولم أر لها ولا لدعائها مستندأ صحيحاً في السنة إلا أنه من عمل المشايخ".ترجمہ: سلف صالح سے خلف صالح تک اس رات کو مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعات نماز کے ذریعے زندہ کرنے کا عمل وارد ہوتا رہا ہے۔ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ اور سورہ اخلاص چھ مرتبہ پڑھی جاتی ہے۔ ہر دو رکعت کے بعد سورہ یٰسین ایک مرتبہ تلاوت کی جاتی ہے۔ پھر نصف شعبان کی رات کی مشہور دعا مانگی جاتی ہے۔ پہلی دعا میں عمر میں برکت کی درخواست کی جاتی ہے۔ دوسری میں رزق میں برکت کی دعا کی جاتی ہے۔ تیسری میں حسن خاتمہ کی دعا کی جاتی ہے۔ ان سلف و خلف صالحین نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص اس طریقے سے نماز ادا کرے گا، اسے وہ تمام عطا کیا جائے گا جسکی اس نے دعا کی۔ یہ نماز صوفیاء کرام کی متاخرین کی کتابوں میں مشہور ہے۔ لیکن میں نے اس نماز یا اس کی دعا کا سنت میں کوئی صحیح مستند نہیں پایا، سوائے اس کے کہ یہ مشائخ کا عمل ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب اسرار الصلاۃ، الباب السابع، القسم الرابع، 3/708، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فضائل اعمال سے متعلق حدیث نور کے جواب میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) نے اصول رقم فرمایا:’’تلقی علماء بالقبول وہ شے عظیم ہے جس کے بعد ملاحظہ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سند ضعیف بھی ہوتو حرج نہیں کرتی ، کما بیناہ فی منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین... باجماع علماء دربارئہ فضائل صحت مصطلحہ محدثین کی حاجت نہیں ... علاوہ بریں یہ معنی قدیماً وحدیثاً تصانیف وکلمات ائمہ وعلماء واولیاء وعرفاء میں مذکور ومشہور وملقّٰی بالقبول رہنے پر خود صحت حدیث کی دلیل کافی ہے، فان الحدیث یتقوی بتلقی الائمۃ بالقبول کما اشارالیہ الامام الترمذی فی جامعہ وصرح بہ علماؤنا فی الاصول۔یعنی اس لئے کہ حدیث علماء کی طرف سے تلقی بالقبول پاکر قوی ہوجاتی ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، اورہمارے علماء نے اصول میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ (فتاوی رضویہ، 30/659، 661، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علاوہ ازیں، دعا بذاتِ خود ایک مشروع عمل ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "الدُّعَاءُ هُوَ العِبَادَةُ" .یعنی دعا ہی عبادت ہے۔ (سنن الترمذی: 2969)
بدعت کے اشکال کا جواب:
بعض لوگ اس قسم کی نیکیوں کو بلا سند ہونے کی وجہ سے بدعتِ سیئہ (ناجائز بدعت) قرار دیتے ہیں، لیکن اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ:
ہر وہ نیا کام جو عبادت کے طور پر کیا جائے اور وہ شریعتِ مطہرہ کے اصولوں سے ٹکرا رہا ہو یا کسی سنّت و حدیث کے مخالف ہو، وہ مردود اور بدعتِ سیئہ ہوگا۔ البتہ، جو چیز شریعت کے عمومی دلائل سے ثابت ہو یا دینِ اسلام کے اصولوں کے خلاف نہ ہو، وہ بدعتِ حسنہ کے دائرے میں آتی ہے اور مردود نہیں ہوتی، بلکہ قابلِ قبول ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب تراویح کو باجماعت جمع کیا تو فرمایا: "نِعْمَ الْبِدْعَۃُ هٰذِهٖ".یعنی یہ اچھی بدعت ہے۔(صحيح البخاري ، کتاب صلاة التراویح، باب فضل من قام رمضان، الرقم: 1906)
بدعت کی تقسیم کرتے ہوئے علامہ ابو محمد محمود بن احمد بدر الدین العینی (المتوفی:855ھ) فرماتے ہیں:" ثمَّ الْبِدْعَة على نَوْعَيْنِ: إِن كَانَت مِمَّا ينْدَرج تَحت مستحسن فِي الشَّرْع فَهِيَ بِدعَة حَسَنَة، وَإِن كَانَت مِمَّا ينْدَرج تَحت مستقبح فِي الشَّرْع فَهِيَ بِدعَة مستقبحة ".ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں: (۱)گر وہ شریعت میں کسی اچھے کام کے تحت ہو، تو بدعتِ حسنہ ہوگی۔ (۲)اگر شریعت میں کسی برے کام کے تحت ہو، تو بدعتِ قبیحہ یعنی سیئہ ہو گی۔(عمدۃ القاری،کتاب التراویح، باب فضل من قام رمضان،11/126، تحت الحدیث:9002، دار إحياء التراث العربي)
علامہ ابو الفضل احمد بن علی بن محمد بن احمد بن حجر العسقلانی (المتوفى: 852ھ) فرماتے ہیں: " قَالَ الشَّافِعِيُّ الْبِدْعَةُ بِدْعَتَانِ مَحْمُودَةٌ وَمَذْمُومَةٌ فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ فَهُوَ مَحْمُودٌ وَمَا خَالَفَهَا فَهُوَ مَذْمُومٌ".ترجمہ:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:بدعت دو اقسام پرمشتمل ہے: (١)بدعتِ محمودہ یعنی حسَنہ اور (٢)بدعتِ مذمومہ یعنی سیئہ۔جو سنّت کے موافق ہو، وہ بدعتِ محمودہ (جس کی تعریف ہویعنی اچھی) اور جو سنّت کے خلاف ہو، وہ بدعت مذمومہ(جس کی مذمت کی جائے یعنی بُری) ہے۔(فتح الباری،13/253،تحت الحدیث:7277، دار المعرفة)
بدعت سیئہ کے متعلق مشکاۃ المصابیح کی روایت ہے، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: " مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا ". ترجمہ:کوئی قوم کسی بدعت کو ایجاد کرے، تو اللہ پاک اس کی مثل سنت کو اٹھا دیتا ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،1/56،الرقم:188، المكتب الإسلامي بيروت)
اس حدیثِ پاک میں مذکور لفظ ’’بدعت‘‘ کی تشریح میں علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں: " أَيْ: مُزَاحِمَةً لِسُنَّةٍ ".ترجمہ: یعنی اس سے مراد بدعت سیئہ ہے جو کسی سنّت کے مخالف ہو۔
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ،1/270،تحت الحدیث:187، دار الفکر بیروت)
حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ”لَیسَ مِنہُ“ کی شرح میں مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”لَیسَ مِنہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جو دین یعنی کتاب و سنّت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا، فارسی میں اذان دینا وغیرہ“۔ (مراٰۃ المناجیح ،1/146، قادری پبلشرز لاہور)
اسی قاعدے کی بنیاد پر شبِ براءت کی دعا کو مطلق دعا کی حیثیت سے پڑھنا درست ہے، کیونکہ دعا بذاتِ خود مشروع عمل ہے اور حدیث میں اصول بیان کیا گیا ہے: " فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ"یعنی جسے مؤمنین اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند عبد اللہ بن مسعود، 6/84، الرقم: 3600)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 15 شعبان المعظم 1446 ھ/14فروری 2024ء