ورثاء ظالم ہو تو کیا انہیں وراثت سے محروم کر سکتے ہیں
    تاریخ: 31 جنوری، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 718

    سوال

    میں ایک بیوہ خاتون ہوں گھر اور ایک اسکول کی مالک ہوں اندازاًدو کروڑ کی مالیت بنتی ہے۔ میری چار بہنیں ندوں اور ایک بھائی ہے۔ میری اولاد نہیں ہے۔ میں پیشن ہولڈرہوں ۔ اللہ کے کرم سے گزر اوقات اچھی طرح سے ہو رہا ۔جس کی جو ضرورت ہوتی ہے اللہ کےتوفیق سے پوری مدد کرتی ہوں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میرے بہن بھائی قرض کی مد میں مجھ سے رقم لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتنے مہینوں میں ادا کر دیں گے ۔ اسوقت بھائی کی فیملی پر 14 لاکھ اور بہنوں پر 10 لاکھ واجب الادا ہیں۔ انہیں میں نے آسان ادائیگی کی سہولت دی ہے پھر بھی وہ ادا نہیں کرتے ۔ اُنکی رہائش اور عیاشی دیکھنے کے لائق ہے ۔ خوب دل کھول کر عیاشی کرتے ہیں ۔ جبکہ میں محدود رقم خرچ کرتی ،ناجائز رقم خرچ نہیں کرتی ۔ ان سے اگر قرضہ مانگوں تو واپسی کیلئے ہو تو صاف انکارکر دیتے ہیں۔ چونکہ میں بے اولاد ہوں شوہر بھی نہیں ہے تو یہ میں مجھ پر حاوی ہو جاتے ہیں ۔ کچھ بھی واپس کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔ ہر وقت میری جائیداد پر نظر رہتی ہےکہ اب میں مروں یہ سب مالِ مفت دلِ بے رحم کی طرح جھپٹ پڑیں۔ میرا دل ان سب سے اچاٹ ہو گیا ہے لیکن وقت و حالات کو مدِنظر رکھ کر تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری مدد کریں کہ انکے لیے کیا وصیت کروں اور کس طرح مال وراثت میں تقسیم کروں مستحقین کیلئے کیا حکم ہے ۔ جناب میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوں. میرے اردگرد انتہائی مفلوک الحال لوگ رہتے ہیں جنکی اللہ کی رضا کیلئے مدد کرتی رہتی ہوں ۔ اب رشتہ داروں کو دینے کو دل نہیں چاہتا۔ سخت اذیت کا شکار ہوں ۔ ان سے کس طرح جان چھڑاؤں نہ زندگی میں انہیں کچھ دینا چاہتی ہوں نہ مرنے کے بعد انہیں دینا چاہتی ہوں ۔مجھے سمجھا دیں کہ میں کیا کروں اور کسی دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دوں ؟سائل:رخسانہ بیگم

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔آپ کے پاس جتنی مال و دولت ہے ،آپ اس کی مالکہ ہیں شریعت کی طرف سے آپ کو اجازت ہے کہ جیساجائز تصرف چاہیں،اس میں کر سکتی ہیں ۔

    ملکیت میں جائز تصرف کرنا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’کل احد احق بمالہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین‘‘ترجمہ:ہر ایک اپنے مال کا اپنے والد،بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔(سننِ دارِ قطنی،جلد5،صفحہ422،مطبوعہ،مؤسسۃ الرسالہ،بیروت)

    رد المحتار میں ہے:’’الملک ما من شانہ ان یتصرف فیہ بوصف الاختصاص کما فی التلویح‘‘ ترجمہ:ملک کی شان یہ ہے کہ بندہ اس میں وصفِ خصوصیت کے ساتھ تصرف کر سکے،جیسا کہ تلویح میں ہے۔(فتاوی شامی،جلد5،صفحہ51،مطبوعہ دار الفکر)

    مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:’’کل یتصرف فی ملکہ کیف ما شاء‘‘ترجمہ:ہر ایک اپنی ملک میں جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے۔(مجلۃ الاحکام العدلیہ،جلد1،صفحہ230،المادہ1192،مطبوعہ کراچی)

    2:۔ آپ اپنی زندگی میں جتنا چاہیں غریبوں اور محتاجوں کی مدد کر سکتی ہیں، دینی مدارس اور جامعات کو عطیات دے سکتی ہیں، یا ان کے نام پر وقف کر سکتی ہیں، کیونکہ یہ تمام اعمال خالص نیکی کے کام ہیں۔ لیکن خرچ کرنے میں آپ کی نیت ورثا کو محروم کرنا نہ ہو ، بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی مقصود ہونی چاہیے ۔ اگر آپ کی نیت ورثا کو جان بوجھ کر محروم کرنا ہے تو یہ نیت ضرور مزموم وقبیح ہے۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اسے اپنی صحت میں وقف کا اختیار ہے جس طرح وقف کرے گی کل یا بعض وقف ہوجائے گا مگر نیت اگر یہ ہے کہ بہنوں کو ترکہ سے محروم کرے تو یہ اگرچہ حق العبد میں گرفتار نہیں کہ صحتِ مورث میں کسی وارث کا کوئی حق ا س کے مال سے متعلق نہیں ہوتا مگر ایسی نیت ضرور مذموم وسخت شنیعہ ہے، حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃترجمہ:جو بلاوجہ شرعی اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲتعالٰی جنت سے اس کا حصہ قطع کردے۔(سنن ابن ماجہ باب الحیف فی الوصیۃ ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ سرگودھا ص۱۹۸)(فتاوی رضویہ جلد 16 صفحی 251،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ وَالْمَرْأَۃُ بِطَاعَۃِ اللهِ سِتِّیْنَ سَنَۃً، ثُمَّ یَحْضُرُھُمَا الْمَوْتُ فَیُضَارَّانِ فِی الْوَصِیَّۃِ، فَتَجِبُ لَھُمَا النَّارُ.ترجمہ: بے شک آدمی اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت میں عمل کرتے ہیں، پھر ان پر موت آتی ہے تو وصیت میں (کسی کے حق میں) نقصان پہنچاتے ہیں، تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔(ترمذی، السنن، کتاب الوصایا، باب ما جاء في الضرار في الوصیۃ، 4: 375، رقم الحدیث : 2117)

    2:۔بھائیوں بہنوں نے جو قرض لے رکھا ہے ،ادائیگی کی سکت ہوتے ہوئے بھی ان کا ادا نہ کرنا ظلم ہے ۔حدیث پاک میں ہے:عن أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ "،ترجمہ: ے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مال دار ( سے وصولی) پر لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہئے ۔ ( صحیح مسلم: حدیث نمبر 1564 (کتاب المساقاة، باب تحریم مطل الغنی بحق طلبہ)

    مشورہ:

    اگر آپ اپنی زندگی میں زمین مال و متاع راہِ خدا میں وقف کریں تو اس میں چند چیزیں ملحوظِ خاطر رکھیں !

    1:۔جب بھی یہ چیزیں وقف کرنے کا ارادہ بنے کسی سنی مستند مفتی صاحب سے رہنمائی لیں!

    2: زندگی میں ہی اس وقف کو تام و مکمل کر دیں اسے اپنی وفات پر معلق نہ کریں ۔

    3:۔ویسے تو وقف زبانی کلامی بھی ہو جاتا ہے لیکن آپ وقف نامہ بھی لازمی بنوائیں تاکہ بعد میں کسی قسم کی پیچیدگی نہ ہو ۔

    نوٹ:

    آپ تمام مال و متاع اور جائیدا د وقف نہ کریں تاکہ کسی کو آپ پر بدگمانی نہ ہو بلکہ کچھ حصہ اپنے اعز و اقارب کو بھی دیں ۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:23جمادی الثانی1446 ھ/26سمبرر2024ھ