سوال
میری شادی کو 3 سال ہوگئے ہیں اس دوران فقط دوماہ میری بیوی میرے ساتھ رہی اسکے بعد والدہ سے ملنے گئیں تاحال وہیں ہے واپس نہیں آئی حالانکہ بارہا میں اکیلا اور متعلقین کے ساتھ ان کے گھر گیا انہوں نے بھیجنے سے انکار کردیا اور ہر بات انہوں نے کافی ذلیل کیا تو میں نے جاناچھوڑ دیا تقریباً 9 ماہ ہوگئے ہیں میں وہاں نہیں گیا پھر کسی بڑے کے سمجھانے میں دوبارہ گیا اور مناتا رہا کہ گھر چل لو لیکن میری زوجہ مجھ سے لڑتی رہیں کہ میں آپکے ساتھ نہیں جاؤں گی، تو میں نے جانا چھوڑ دیا اور میری ساس مجھ پہ الزام دیتی رہیں کہ میں وہاں جاکر لڑائی کرتا ہوں ۔ میری بیوی کو وہیں ولادت ہوئی جسکا انہوں نے مجھے نہیں بتایا بلکہ کہیں اور سے 3 دن بعد پتہ چلا پھر میں ، میری والدہ اور میرے بڑے بھائی بیوی اور بچے کو لینے گئے انکا رویہ بہت ہی ناروا تھا اور میری بیوی نے کہہ دیا کہ مجھے واپس نہیں جانا پھر میں نے جانا چھوڑ دیا اسکے تقریبا 7 ماہ بعد دوبارہ کسی رشتہ دار کے کہنے پر میں اور میرے والدین گئے انہوں نے کہا بھیج دیں گے لیکن میں 4 ما ہ تک ہر ہفتے تواتر کے ساتھ جاتا رہا انہوں نے نہ بھیجا نہ جانے دیا اب میں نے مکمل جانا چھوڑ دیا ، اب 9 ماہ گزر چکے ہیں حال ہی میں میرے تایا گئے تھے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم اب نہیں بھیجیں گے لڑکے نے جو فیصلہ کرنا ہے کرلے ۔
1: کیا مجھ پر بیوی کے سابقہ زمانے کا نان و نفقہ لازم ہےکیونکہ میری ساس کا کہنا ہے کہ اگر تم نے چھوڑا تو ہم سارا خرچہ وصول کریں گے۔میرے ایک دوست عالم ہیں انکا کہنا ہے کہ اگر معصیت عورت کی جانب سے ہوتو وہ نان ونفقہ کی حقدار نہیں ہوتی۔
2: بچے کی پرورش یعنی حق حضانت کسے حاصل ہے؟ اور بچے کا سابقہ خرچہ مجھ پر لازم ہے یا نہیں ؟ میں نے آج تک کوئی خرچہ نہیں دیا ۔
3: مجھے میرے بچے سے ملنے کا حق ہے یا نہیں؟ کیونکہ انکا کہنا ہے کہ میں بچے کی شکل بھی نہیں دیکھنے دونگی۔
4: اب میں طلاق دینا چاہتا ہوں اسکا شرعی طریقہ بتادیں تاکہ میں گنہ گار نہ ہوں۔
سائل: احسن علی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: وہ عورت جو شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے چلی جائے اور باوجود شوہر کے اصرار کے اسکے گھر نہ آئے یا شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے تو ایسی عورت شرعاً ناشزہ کہلاتی ہے ، جسکا حکم یہ ہے کہ جتنے دن وہ شوہر کی مرضی کے بغیر میکے میں رہے گی اتنے دن شوہر اس کے نان و نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں ہوگا۔ نیز صورت مسئولہ میں جبکہ شوہر یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے پاس رہے اور وہ اس کے تمام حقوق ادا کرے لیکن بیوی اور اسکے گھر والوں کا شریعت کے مطابق معاملات حل کرنے کے بجائے شوہر پر الزام تراشی کرنا سراسر ظلم و زیادتی ہے ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: عن الشعبی: أنہ سئل عن امرأۃ خرجت من بیتہا عاصیۃ لزوجہا، ألہا نفقۃ؟ قال: لا، و إن مکثت عشرین سنۃ۔ ترجمہ: امام شعبی سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو شوہر کے گھر سےاسکی نافرمانی کرتے ہوئے چلی جائے کیا اس لئے نفقہ ہوگا؟ انہوں نے فرمایا نہیں اگرچہ بیس سال تک ٹھہری رہے۔(المصنف لابن أبی شیبۃ، الطلاق ما قالوا فی المرأۃ تخرج من بیتہا وہی عاصیۃ، حدیث نمبر 19369)
مبسوط سرخسی میں ہے: ولا نفقۃ للناشزۃ فإن اللہ تعالیٰ أمر فی حق الناشزۃ بمنع حظہا فی الصحبۃ بقولہ تعالیٰ: ’’واھجروھن فی المضاجع۔ فذٰلک دلیل علی أنہ تمنع کفایتہا فی النفقۃ بطریق الأولیٰ۔ ترجمہ:اور ناشزہ کے لئے نفقہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ناشزہ کے بارے میں صحبت میں انکا حق روکنے کا حکم دیا فرمایا اور انہیں بستروں میں چھوڑ دو ۔ تو یہ دلیل کہ اس بات پر کہ نفقہ میں انکی کفایت بطریق اولٰی منع ہے۔(المبسوط للسرخسی، دار الکتب العلمیۃ بیروت جلد 5 ص 174)
تنویر الابصار مع الدر میں ہے: (لا) نفقة لأحد عشر۔۔۔۔۔۔ (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود۔ ترجمہ:گیارہ عورتوں کےلئے نفقہ نہیں ہے ان میں سے ایک بغیر حق کے گھر سے نکلنے والی ہے وہ ناشزہ کہلاتی ہے جب تک لوٹ نہ آئے۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ،کتاب الطلاق جلد 3 ص 576)
2: حق حضانت یعنی پرورش کے سلسلے میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق یا کسی اور وجہ سے تفریق ہو جائے تو بالاتفاق ماں کو حق حضانت یعنی پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے۔ بشرطیکہ وہ کہیں دوسری جگہ شادی نہ کرلے لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی کے نو سال کی ہونے تک ماں پرورش کی حقدار ہے، اور باپ پر انکی پرورش کا خرچہ لازم ہوگا ۔ لہذا، اِس صورت میں بچہ ماں کے زیرِ نگرانی رہے گا۔
بچہ جتنا عرصہ بیوی کے ساتھ شوہر کے میکے رہا ہے اسکا خرچہ بھی شوہر پر لازم ہے البتہ خرچے کی تعیین یا تو مصالحت سے کرلی جائے یا بچے کے معہود اخراجات جیسے (کھانے پینے کی اشیاء دوائیاں اور کپڑے وغیرہ) شمار کرکے اسکی ادائیگی کی جائے۔
حضانت سے متعلق ابوداؤد میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ان امراۃ قالت: یارسول اللہ، ان ابنی ھذا کان بطنی لہ وعاء وثدیی لہ سقاء وحجری لہ حواء وان اباہ طلقنی واراد ینتزعہ منی فقال لہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انت احق بہ مالم تنکحی۔ترجمہ:ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرنے لگی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ بیٹا، میرا شکم اس کا برتن بنا رہا، میرے سینے سے یہ سیراب ہوتا رہا اور میری گود اس کی پرورش گاہ رہی، اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اب مجھ سے بیٹا بھی چھیننا چاہتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیٹے کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو آگے کہیں نکاح نہیں کرتی۔( ابوداؤد ،حدیث نمبر 2276)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: (والحاضنة أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. (والأم والجدة أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب وقدر بتسع وبه يفتى.ترجمہ:اور عورت لڑکے کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ عورتوں سے مستغنی نہ ہوجائے۔ اور اسکی مقدار سات سال مقرر کی گئی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اور ماں اور دادی لڑکی کی پرورش کی اس وقت تک حقدار ہیں جب تک حیض نہ آجائے یعنی بالغ نہ ہوجائے ظاہرالروایہ کے مطابق ۔میں کہتا ہوں کہ اسکا عمر کے مطابق حکم دیا جائے اور غالب پر عمل کیا جائے ، جوکہ نو سال مقرر کی گئی ہے۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار، باب الحضانۃ،جلد 3 ص 556)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: جس عورت کے ليے حقِ پرورش ہے اُس کے پاس لڑکے کو اُس وقت تک رہنے دیں کہ اب اسے اُس کی حاجت نہ رہے یعنی اپنے آپ کھاتا پیتا، پہنتا، استنجا کرلیتا ہو، اس کی مقدار سات برس کی عمر ہے اور اگر عمر میں اختلاف ہو تو اگر یہ سب کام خود کرلیتا ہو تو اُس کے پاس سے علیٰحدہ کرلیا جائے ورنہ نہیں اور اگر باپ لینے سے انکار کرے تو جبراً اُس کے حوالے کیا جائے اور لڑکی اُس وقت تک عورت کی پرورش میں رہے گی کہ حدِ شہوت کو پہنچ جائے اس کی مقدار نو برس کی عمر ہے اور اگر اس عمر سے کم میں لڑکی کا نکاح کر دیا گیا جب بھی اُسی کی پرورش میں رہے گی جس کی پرورش میں ہے نکاح کردینے سے حقِ پرورش باطل نہ ہوگا، جب تک مرد کے قابل نہ ہو۔(بہارِ شریعت ، حصہ ہشتم، جلد 2 ص 255)
3: باپ جب چاہے بچے سے مل سکتا ہے ، بیوی یا اسکے گھر والوں کو بچے سے ملنے سے روکنے کا حق نہیں ہے بلکہ روکیں تو گنہ کے مرتکب ہونگے۔
4: ابتداءًطلاق کی دھمکی دی جائے، پھر بھی کوئی فرق نہ پڑے تو شرعی طریقے سے طلاق دی جائے ،اور طلاق کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاًوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔ اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاقوں کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ۔ لیکن پھربھی اگر تین طلاقیں دینا چاہیں تو ہر طہر میں ایک ایک طلاق بھی دے سکتے ہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 جمادی الاول1444 ھ/06 دسمبر 2022 ء