نشہ کی حالت میں طلاق
    تاریخ: 2 فروری، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 721

    سوال

    میرانام ثمینہ ہے ،عمر 25 سال ہے میرے گھر والو نے میری شادی میری پھپو کے بیٹے سے کروادی جو کہ مجھے پسند نہیں تھا ، لیکن ان کا اپنا گھر بار اور زمینیں تھی جسکی وجہ سے اس سے شادی کردی گئی ،جب نکاح ہوا تو اس کے بعد سے ہی وہ میرے ساتھ برا رویہ رکھنا ، اچھے سے بات نہ کرنا،شراب پینا، گالیاں دینا،نکاح توڑنے کی دھمکیاں دینا وغیرہ بہر حال جنوری 2018 میں رخصتی ہوگئی جس کے 9 دن بعد ہی وہ ایک رات شراب میں دھت گھر آیا اور مجھے بہت مارا میں اگلے دن والدہ کے گھر چلی گئی پھر سب کے کہنے پر واپس چلی گئی ۔ پھر 21 مارچ 2018 کو ابھی شادی کو تین ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ رات کو پھر شراب پی کر آئے اور مجھے مارا اور لرائی کرتے کرتے تین بار منہ سے بولا تجھے طلاق ہے ۔ جبکہ میں حمل سے بھی ہوں ،مجھے کہا کہ بچہ ضایع کروادو۔ اب میں ان سے نکاح سے نکل گئی یا نہیں ؟ اگر نکل گئی تو مجھے تادیں تاکہ میں کہیں اور شادی کرسکوں۔

    سائل: ثمینہ



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو آپکو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور آپ حرمت مغلظہ کے ساتھ ا ن پر حرام ہوچکی ہیں ، کیونکہ نشے کی حالت میں دی جانے ولی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔

    ہدایہ کتاب الطلاق فصل ویقع طلاق کل زوج جلد 1 ص 224 میں ہے" وطلاق السكران واقع "ترجمہ: نشہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

    آپ اگر حمل سے ہیں تو آپکی عدت وضع حمل ہے یعنی جب تک بچہ نہ پیدا ہولے اس وقت تک عدت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق ٤) ترجمہ: اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔اس عدت کے بعد آپ ان کے نکاح سے نکل جائیں گے،پھرجس سے چاہیں نکاح کر سکتی ہیں۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی