سوال
میرے اور میری زوجہ کے مابین گھریلو ناچاقیوں کے سبب لڑائی ہوئی جس کی وجہ سے وہ دو ماہ سے اپنی والدہ کے گھر بیٹھی ہوئی ہے ، 15 روز قبل میں نے اپنی سالی کو فون کرکے کہا کہ میری زوجہ کو کب بھیج رہے ہو تو اس نے غلط باتیں کی جس کی وجہ سے میں نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں۔ پھر کچھ دن بعد دوبارہ مسئلہ حل کرنے کے لئے کال کی لیکن کوئی بات نہ بنی تو میری سالی نے کہا کہ آپ صرف بولتے رہتے ہو پیپر بھیج رہا ہوں لیکن بھیجتے ہی نہیں ، مجھے کافی غصہ آیا میں نے والد کو کہا کہ مجھے پیپر بنوادیں ۔ اگلے دن والد صاحب نے پیپر بنوادیئے جب وہ پیپر لائے تو میں نے ان سے کہا کہ میری بیوی سے بات ہوئی ہے ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہا جیسا آپکی مرضی ویسے کرلو۔اسکے بعد میں پیپر پھاڑ دیئے نہ انہیں پڑھا نہ دستخط کئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میری طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
سائل: فواد رئیس :کراچی ۔
نوٹ : فریقین سے بات کرنے سے معلوم ہوا کہ لڑکے کا بیان درست ہے ۔ اسکے علاوہ شوہر نے کبھی کوئی طلاق یا کسی طرح کے الفاظ نہیں کہے ۔ نیز لڑکے نے یہ الفاظ '' میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں۔'' بنیت طلاق کہے تھے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں ان الفاظ سے کہ '' میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں''ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ۔ کیونکہ ہمارے عرف میں یہ الفاظ ارادہِ طلاق اور انشاءِ طلاق دونوں کا احتمال رکھتے ہیں ، کہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ طلاق دے رہا ہوں تو اس سے مقصوداپنے ارادے کا اظہار کرنا ہوتا ہے کہ ہاں دے دوں گا جیساکہ مثلا جب کسی کو کوئی مکان خریدنا ہو تو اپنے ا س ارادے کا اظہار ان الفاظ سے کرتاہے کہ میں یہ مکان خرید رہا ہوں، یعنی خریدوں گا۔لیکن بعض اوقات ان الفاظ سے انشاء کا معنٰی بھی مراد لے لیا جاتا ہے۔
ایسے الفاظ کا حکم یہ ہے کہ ان سے انشاءِ طلاق کے لئے نیت یا قرینہ کا وجود ضروری ہے ، جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر میں ہے:لا تطلق بها إلا بنية أو دلالة الحال۔ ترجمہ:ان الفاظ کے ذریعے طلاق واقع نہ ہوگی مگر یہ کہ نیت یا دلالتِ حال کا وجود ہو۔( تنویر الابصار مع الدر، کتاب الطلاق جلد 3 ص 297،298)
اسی طرح اصولِ فقہ کی مشہور کتاب اصول الشاشی میں ہے: ثُبُوت الحكم بهَا عِنْد وجود النِّيَّة أَو بِدلَالَة الْحَال إِذْ لَا بُد لَهُ من دَلِيل يَزُول بِهِ التَّرَدُّد ويترجح بِهِ بعض الْوُجُوه۔ترجمہ: ان الفاظ سے حکم اس وقت ثابت ہوگا جب نیت یا دلالتِ حال کا وجود ہو ، کیونکہ ایسی دلیل ضروری ہے جس سے تردد زائل ہوجائے اور کوئی ایک معنٰی ترجیح پا جائے۔(اصول الشاشی، ص68 مطبوعہ دارالکتاب العربی۔بیروت)
اور یہاں لڑکے نے بنیتِ طلاق یہ الفاظ کہے ہیں لہذا ان سے ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔
اور رہا آپکا والد کو پیپر بنوانے کا کہنا اور پھر بغیر دستخط کئے پھاڑ دینا تو اسکا حکم یہ ہے کہ اس سے بھی طلاق واقع نہ ہوئی کیونکہ اگر شوہرنے طلاق کے الفاظ زبان سے نہ بولے ہوں تواکراہ (کسی کے ظلمَامجبور کرنے) کے بغیر رضامندی کی حالت میں تحریر ِکی گئی طلاق کے حکم کا انحصار اس تحریر پرہی موقوف ہوتاہے ، لہٰذاتحریر کے ذریعے طلاق کا حکم ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریر ایسی ہو کہ جسے عرفی اور شرعی اعتبار سے مکمل تصور کیا جائے اور اُس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔ جبکہ دستخط کے بغیر طلاق نامہ غیر مرسومہ (رواج کے خلاف)ہونے کی وجہ سے نا مکمل ہے ، لہذا اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق نامے کی دو قسمیں ہیں۔ ۱؎ : مستبینہ مرسومہ طلاق نامہ ۔ ۲؎ : مستبینہ غیرمرسومہ طلاق نامہ ۔
مستبینہ مرسومہ طلاق نامہ : وہ طلاق نامہ جس میں طلاق کا عنوان اورتمہیدیعنی طلاق دینے کی وجہ، الفاظِ طلاق اور شوہر کے دستخط بھی موجود ہوں جیساکہ فی زمانہ اسٹامپ پیپروالاقانونی طلاق نامہ ہوتا ہے اس طرح کے طلاق نامے سے بغیر کسی نیت کے اظہار کے قضاء طلاق واقع ہو جائے گی۔
فی زمانہ اس کی مثال یہ بھی ہے کہ جس طرح کس کو ملازمت سے فارغ کرنے سے پہلے نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو اس میں باقاعدہ طور پر وُجوہ بیان کی جاتی ہیں ، اور اس پر ادارے کی مُہر(اسٹیمپ) اور دستخط ہوتے ہیں۔عام طور پریہی حال ہرادارے سے جاری ہونے والے نوٹس کا ہوتاہے۔ اورعدالت سے جاری ہونے والا نوٹس بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔
مستبینہ غیرمرسومہ طلاق نامہ : وہ طلاق نامہ جو طلاق کے عنوان ،سبب ِطلاق کے بیان ،شوہر کے دستخط کے بغیر ہو یاان میں سے کسی بھی ایک چیز کے بغیر ہو یا فی زمانہ سادہ کاغذ پر ہو۔
لہذابغیر دستخط کے طلاق نامہ کو فی زمانہ مکمل طلاق نامہ نہیں سمجھا جاتا ۔لہذا دستخط کے بغیر بھیجا گیا طلاق نامہ غیر مرسومہ (رواج کے خلاف)طلاق نامہ قرار پائے گا۔ اور اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
تبیین الحقائق میں امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ’’ثم الکتاب علی ثلاث مراتب مستبین مرسوم وھوان یکون معنوناً ای مصدرا بالعنوان ، وھو ان یکتب فی صدرہ من فلان الی فلان علی ماجرت بہ العادۃ فی تسییر الکتاب فیکون ھذاکالنطق فلزم حجۃ ومستبین غیر مرسوم کالکتابۃ علی الجداران واوراق الشجر،او علی الکاغذ لاعلی وجہ الرسم فان ھذا یکون لغواً ،لانہ لا عرف فی اظہار الامر بھذا الطریق ،فلایکون حجۃ الا بانضمام شیء اخر الیہ کالنیۃ والاشھاد علیہ والاملاء علی الغیر حتی یکتبہ ،لانہ الکتابۃ قد تکون للتجربۃ ،وقد تکون للتحقیق ،وبھذا الاشیاء تتعین الجھۃ وقیل :الاملاء من غیر اشھاد لا یکون حجۃ ، والاول اظھر وغیر مستبین کالکتابۃ علی الھواء او الماء وھو بمنزلۃ کلام غیر مسموع ولایثبت بہ شیء من الاحکام وان نوی‘‘۔ترجمہ: تحریر کی تین اقسام ہیں(پہلی قسم) مستبینہ مرسومہ اور وہ وہ ہوتی ہے کہ شروع میں عنوان ہو اورشروع میں اس طرح لکھے کہ فلاں سے فلاں کی طرف جس طرح پر خط بھیجنے کی لوگوں کی عادت جاری ہو چکی ہے تو یہ بولنے کی طرح ہے پس یہ ضرور حجت ہوگی ۔(دوسری قسم)مستبینہ غیرمرسومہ جیسے دیواروں پر لکھنا اور درختوں کے پتوں پر لکھنا یا کاغذپرغیر معروف طریقے سے لکھنا ،بے شک یہ تحریرلغو ہے کیونکہ اس طریقے سے کسی امر کے اظہار کا ہمارے ہاں عرف نہیںپس یہ حجت بھی نہیں ہوگامگر جب اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز ملی ہوئی ہو۔ جیسا کہ طلاق کی نیت کرنایا اس تحریر پر گواہ بنانا، اور کسی دوسرے سے لکھواناحتی کہ وہ لکھ دے کیونکہ تحریر کبھی تجربہ کے لئے ہوتی ہے اور کبھی تحقیق کے لئے ان مذکورہ چیزوںکے ساتھ اس کی جہت متعین ہو جائے گی۔اور بعض نے کہا کہ املاء کرواناگواہوں کے بغیرہو تووہ حجت نہیں اور پہلا قول زیادہ واضح ہے۔اور (تیسری قسم)غیر مستبینہ جیسا کہ ہوایا پانی پر لکھنا اور یہ اس کلام کی طرح ہے جواتنا آہستہ ہو کہ سُنا نہ جا سکے( جس طرح دل میں کہی ہوئی بات )اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا اگرچہ اس نے نیت بھی کی ہو ۔(تبیین الحقائق ، ج:7،ص:448، مطبوعہ مرکز اہلسنت برکات رضا،ہند)
حاشیہ شلبی میں’’تبیین الحقائق ‘‘کی مذکورہ عبارت کے تحت شیخ شلبی علیہ الرحمۃلکھتے ہیں: قولہ:(مرسوم) المقصود من المرسوم ان یکون علی الوجہ المعتاد فی اظھار الامر عرفاًکالکتب المعنونۃ اوالمحاضر والسجلات والقصص ونحوھا اہ یحیی ۔قولہ:(ومستبین غیر مرسوم)وھو کنایۃ فیحتاج الی النیۃ اھ ۔قولہ:(لا علی وجہ الرسم )ای لا علی وجہ المعتاد فی اثبات المقاصد کما یکتب علی الکاغذ لتجربۃ المد اد او القلم او الخط ونحوھا اھ ۔قولہ:(کالنیۃ)فان کان صحیحَایبین نیّتہ بلسانہ،وان کان اخرس یبین نیّتہ بالکتابۃ، کذا فی المبسوط اھ ۔ ترجمہ:’’مرسوم‘‘ سے مقصود یہ ہے کہ وہ لوگوں کی عادت کے مطابق ہو جس طرح عرف میں کسی امر کے اظہار کے لئے تحریر لکھی جاتی ہے،جیساکہ عنوان والے خطوط یا سرکاری دستاویزات اورمعاہدات اوررجسٹر اور قصے اور اس کی طرح کی دیگر تحریریں۔ اورصاحب ِتبیین کاقول ’’مستبین غیر مرسوم‘‘ اس کا حکم کنایہ طلاق والا ہے پس اس میں نیت کی احتیاجی ہوگی۔اور اس کا یہ قول’’ لاعلی وجہ الرسم‘‘ یعنی مقاصدکو ثابت کرنے کے لوگوں کی عادت اور معروف طریقے پر نہ ہو ۔جیسا کہ کاغذ پر روشنائی چیک کرنے کے لئے یا قلم یا خط چیک کرنے کے لئے لکھنا۔تبیین کا قول ’’کالنیۃ‘‘ اگر وہ صحیح ہو توزبان سے اپنی نیت بتادے گا اور اگر گونگا ہوتو لکھ کراپنی نیّت بتادے گا ،اسی طرح’’ مبسوط ‘‘میں ہے۔(المبسوط للسرخسی،ج:6 ص:166 ،مطبوعہ مکتبہ رشید کوئٹہ )۔
اور ردالمحتارمیں علامہ ابن عابدین سید محمد امین ا لمعروف شامی علیہ الر حمۃ فرماتے ہیں:’’ الکتابۃعلی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ ان یکون مصد را و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب، وغیر مرسو مۃ ان لا یکون مصدرا و معنو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیر مرسومۃ ان نوی الطلاق یقع والا لا وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی اولم ینو۔ ترجمہ:’کتابت طلاق کی دو قسمیں ہیں (۱ )مر سومہ (۲)غیر مرسومہ، اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق نامہ کا عنوان ہو اور تمہید ہو جیسے کسی غائب کو خط لکھاجاتا ہے ۔اورغیر مر سو مہ سے ہما ری مراد یہ ہے کہ جس پر طلاق نامہ کا عنوان نہ ہو،اور وجوہِ طلاق بھی بیان نہ کی جائیں۔۔۔۔۔تحریر طلاق اگر غیرمرسومہ ہو اورشوہر نے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہ کی تو طلاق واقع نہ ہو گی اورتحریر ِطلاق اگر مرسومہ ہے (جیساکہ مروجہ قانونی طلاق نامہ ) اس کے سبب طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت ہویا نہ ہو۔ (ردالمحتار،ج:۴، ص: ۴۵۵ مکتبہ امدادیہ ملتان]۔
دستخط کرنے سے ہی طلاق واقع ہوگی،چناچہ فتاوٰ ی عالمگیری میں ہے: رَجُلٌ اسْتَكْتَبَ مِنْ رَجُلٍ آخَرَ إلَى امْرَأَتِهِ كِتَابًا بِطَلَاقِهَا وَقَرَأَهُ عَلَى الزَّوْجِ فَأَخَذَهُ وَطَوَاهُ وَخَتَمَ وَكَتَبَ فِي عُنْوَانِهِ وَبَعَثَ بِهِ إلَى امْرَأَتِهِ فَأَتَاهَا الْكِتَابُ وَأَقَرَّ الزَّوْجُ أَنَّهُ كِتَابُهُ فَإِنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ عَلَيْهَا:ترجمہ:ایک شخص نے دوسرے شخص سے اپنی بیوی کے نام طلاق نامہ لکھوایا اور اس نے شوہر کو پڑھ کر سنایا ،پھر شوہر نے اسے لیا ،اسے بند کیا اوراس پر مہر لگائی (دستخط یا انگوٹھالگایا)اور بیوی کا پتا لکھ کر اسے بھیج دیا ،بیوی کو وہ تحریر ملی اور شوہر نے (بھی )اقرار کیا کہ یہ اس کی تحریر ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔(فتاوٰی عالمگیری،جلد:1،ص:379،دارالفکر بیروت)
ایک طلاق دینے کے بعد شوہر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو بھی نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ (بغیر حلالہ)دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں ۔لیکن آئندہ محض دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔
عدت کے دوران رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دیں کہ میں رجوع کرتا ہوں یا عورت سے میاں بیوی والے معاملات کرلیں خواہ شہوت سے چھونا ہی کیوں نہ ہو۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ)كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سےبھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)
عدت گزر جائے تو نیا نکاح ضروری ہے ،بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخرترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 571)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12 محرم الحرام 1443 ھ/21 اگست 2021 ء